اسلامک معلومات

حجراسود

آج سے پہلے شاید اتنا نزدیک سے آپ نے نہ دیکھا ہو اس جنتی پتھر کو,,,اللہ ہم سب کو حجر اسود کا بوسہ لینے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین..!حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے.سن 606ء میں جب رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک 35 سال تھی سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی.

لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہیہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقامپر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب کر دیا۔ سب پہلے حضرت عبد اللّه بن زبیؓر نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی 1268ء میں سلطان عبد الحمید نے حجراسود کو سونے میں مڑھوایا 1281ء میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی سے مڑھوایا۔

سن696ء میں جب حضرت عبد اللّه بن زبیؓر خانہ کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کعبے پر منجنیقوں سے پتھر برسائے اور پھر آگ لگا دی جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ عباسی خلیفہ الراضی باللہ کے عہد میں ایک قرامطی سردار ابوطاہر حجر اسود اٹھا کر لے گیا اور کافی عرصے بعد اس واپس کیا۔ فضائل حجر اسود با زبان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللّه بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں

کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگر اللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہو جاتا .سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔ ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حجراسود جنت سے نازل ہوا .سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) سنن نسائی .حدیث نمبر ( 2935 )ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حجراسود جنت سے آیا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے ۔

سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 )ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں :نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کے بارے میں فرمایا…اللہ کی قسم اللہ تعالٰی اسے قیامت کولاۓ گا تواس کی دو آنکھیں ہونگی جن سے یہ دیکھے اور زبان ہوگی جس سے بولے اور ہر اس شخص کی گواہی دے گا جس نے اس کا حقیقی استلام کیا ۔ سنن ترمذي حدیث نمبر ( 961 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 2944 )

حضرت جابر بن عبد اللّه رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاۓ توحجر اسود کا استلام کیا اور پھر اس کے دائيں جانب چل پڑے اورتین چکروں میں رمل کیا اورباقی چار میں آرام سے چلے ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1218 )حجر اسود کا استلام یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جاۓ اگر بھیڑ زیادہ ہوتو ہاتھ کے اشارہ بھی کفایت کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ حجراسود کے پاس تشریف لاۓ اور اسے بوسہ دے کر کہنے لگے مجھے یہ علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے نہ تو نفع دے سکتا اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوۓنہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے نہ چومتا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 ) ۔نافع رحمہ اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضي اللہ تعالٰی عنہما نے حجراسود کا استلام کیا اورپھر اپنے ہاتھ کو چوما اور فرمانے لگے میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے ہوۓ دیکھا ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1268 )حضرت ابو طفیل رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں.

کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اورحجر اسود کا چھڑی کے ساتھ استلام کر کے چھڑی کو چومتے تھے ۔صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1275 )ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر طواف کیا تو جب بھی حجر اسود کے پاس آتے تو اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4987 ) ابن عمر رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 ) امام ترمذی نے اسے حسن اور امام حاکم نے ( 1 / 664 ) صحیح قرار دیا اور امام ذھبی نے اس کی موافقت کی ہے ۔

Leave a Comment