اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حا جی عبد الوہابؒ کی سوانح حیات

حا جی عبد الوہابؒ کی پیدائش۱۹۲۲ میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کا آبائی گاؤں گمتھلہ راؤ تحصیل تھانیسر ضلع کرنال انبالہ ڈویژن ہے۔ آپ کا تعلق راجپوت خاندان سے ہے۔ ہجرت کے بعد آپ پاکستان کی ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے ٹوپیاں والا میں آباد ہوئے۔

ابتدائی تعلیم انبالہ کے سکولوں میں حاصل کی۔ گریجوایشن اسلامیہ کالج، لاہور سے کی جہاں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی آپ کے استاد رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ تحصیلدار بھرتی ہوگئے۔ اور پھر موسسِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلوی آپ رحمتہ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہی کے ہو رہے۔ اصلاحی تعلق مولانا عبدالقادر رائے پوری سے تھا اور ان سے خاندانی تعلق بھی تھا۔ آپ پاکستان میں حاجی محمد شفیع قریشی صاحب، حاجی محمد بشیر صاحب اور مولانا ظاہر شاہ صاحب کے بعد چوتھے نمبر پر تبلیغی جماعت کے امیر بنائے گئے۔ تبلیغی جماعت کے تیسرے امیر مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی کی وفات پر تبلیغی جماعت میں شورائی نظام نافذ ہونے کے بعد سے عبدالوہاب صاحب عالمی تبلیغی مرکز رائے ونڈ کی شوریٰ کے امیر اور مرکزی شوریٰ تبلیغی مرکز بستی حضرت نظام الدین دہلی کے رکن ہیں۔

1944 سے لے کر 2018 تک 75 سال تحریکِ تبلیغ میں سرگرمی سے گزارنے کے بعد راؤ محمد عبدالوہاب صاحب نے 18 نومبر 2018 کو رائے ونڈ میں 96 سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ کسی مذہبی تحریک کے ساتھ کامل یکسوئی سے پورے 75 سال گزار دینے کی کوئی اور مثال ہمارے زمانے میں نہیں ملتی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کی اپنی زمین ان پر تنگ ہوئی اور وہ دین سے بھی دور ہو گئے۔ انہی حالات میں تقریبا ایک صدی قبل متحدہ ہندوستان کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد الیاس ؒ نے دہلی سے باہر بستی نظام الدین سےدعوت اسلام کا کام شروع کیا۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ شہر کے بازاروں، گاوں اور قصبوں میں جاتے اور مسلمانوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے۔ مساجد اور تعلیم کے حلقوں سے جڑنے کی ترغیب دیتے تاکہ وہ اس طرح ایمان ، نماز اور اسلام کے بنیادی مسائل سیکھیں۔ان بنیادی مسائل اور اسلامی آداب کو خود سیکھنے، عملی طور پر اپنانے اور دوسروں کو سکھانے کے لیے ان سے مطالبہ کرتے تھے۔

آپ نے یہ تبلیغ بھی کی کہ اپنے خرچ پر مہینہ میں تین دن، سال میں چالیس دن اور عمر بھر میں چار ماہ کے لیے اللہ کی راہ میں نکلیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کی مخلصانہ محنت میں برکت فرمائی اور ان کے ارد گرد پاک سیرت اہل ایمان افراد کی ایسی جماعت مجتمع ہو گئی جن کا تعلق معاشرے کے ہر طبقے سے تھا، اس میں تاجر، کاشتکار، سرکاری اور غیر سرکاری ملازم، اساتذہ، طلبہ اور مزدور وغیرہ سب ہی تھے۔ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ کسی قسم کے فروعی اور فقہی مسائل کو نہ چھیڑا جائے اور ہر شخص نے جو بھی مسلک اختیار کیا ہوا ہے اسی پر عمل کرے ،پوری توجہ اور اہتمام سے ایمان، یقین، اخلاص، نماز، علم، ذکر، مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھے،اوردعوت اور خروج فی سبیل اللہ میں مصروف رہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ کی محنت میں ایسی برکت عطاء فرمائی کہ جو دعوت ایک بستی سے شروع ہوئی تھی وہ ترقی کرتے کرتے ایک عالمی اور بین الاقوامی دعوت و تحریک بن گئی۔

آپ ؒبچپن میں ہی فکری اور مذہبی طور پر توانا سوچ کے حامل تھے۔ اس لیے نوجوانی کی عمر میں وہ مجلس احرار اسلام کیلئے کام کرتے رہے اور تقسیم کے بعد بورے والا میں مجلس کے امیر بھی رہے۔ انہوں نے 1944 میں تبلیغی جماعت کے امیر مولانا الیاس کاندھلوی سے ملاقات کی اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کیلئے وقف کردی۔ اللہ سے توکل کا ایسا پختہ یقین اپنے دل میں جگایا کہ اس کی روشنی سے دنیا بھر میں کروڑوں دلوں نے تسکین پائی۔ آپ کے ہاتھوں جلائے ہوئے دئیے دنیا بھر میں اسلام کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ ٓ پ اوائل عمری سے ہی خاموش طبع اور پاک سیرت تھے انہیں وہاں مولانا رائو عبدا لو ہاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ آپ مولانا الیاس کاندھلوی کے ان پہلے 5 ساتھیوں میں بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کی تبلیغ کیلئے وقف کی اور اللہ سے محبت کا حق ادا کیا۔ مولانا الیاس کاندھلوی جنہوں نے 1927 میں تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی تھی اور اپنے انتقال (1944) تک جماعت کے امیر رہے۔بانی کے انتقال کے بعد مولانا یوسف کاندھلوی 1965 تک، ان کے بعد مولانا انعام الحسن کاندھلوی 1995 تک تبلیغی جماعت کے امیر رہے۔

مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے انتقال کے تقریباً 2 ماہ بعد حاجی عبدالوہاب 10 جون 1995 کو تبلیغی جماعت کے امیر مقرر ہوئے اور (18 نومبر 2018) اپنے انتقال سے پہلے تک جماعت کے امیر رہے۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت کی امارت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے امیر محمد شفیع قریشی تھے جن کی 1971 میں رحلت کے بعد حاجی محمد بشیر صاحبت پاکستان میں تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر مقرر ہوئے۔ 1992 میں حاجی بشیر کے انتقال پر ملال کے بعد حاجی عبدالوہاب تبلیغی جماعت کے پاکستان میں امیر مقرر ہوئے اور بعد ازاں مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے انتقال کے بعد 1995 میں دنیا بھر میں تبلیغی جماعت کے امیر بنے۔جس کے بعد انہوں نے جس لگن اور شوق سے تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنی زندگی کے 75سال انہوں نے ایک ہی ادارے اور ایک ہی مقصد پر صرف کئے اور اپنے عملی کردار سے بہترین نتائج حاصل کئے جو بہت کم کسی کے حصے میں آئے۔

اکتوبر 2013ء کو تحریک طالبان پاکستان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے لیے محمد عبد الوہاب کا نام بطور سربراہ لویہ جرگہ تجویز کیا گیا تھا۔ فروری 2014ء میں طالبان نے محمد عبد الوہاب،سمیع الحق،ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام تجویز کیا تھا کہ وہ پاکستان اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں بطور سہولت کار کردار ادا کریں۔وہ ایک پر امن پاکستان کے حامی تھے، انہوں نے ساری زندگی امن اور بھائی چارے کا پرچار کیا اور شدت پسندی کی ہر طرح سے مذمت کی۔ تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تبلیغ اور ترویج کے لیے وقف کر دی تھی۔حاجی عبدالوہاب گزشتہ کئی سالوں سے علیل تھے اور گاہے بگاہے ان کے مختلف آپریشنز ہوتے رہتے تھے۔ حاجی صاحب کا شمار بھی ان ہستیوں میں کیا جاتا ہےجو صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ یہ آپ کی تبلیغ کا نتیجہ اور کردار کی سچائی ہی تھی کہ کھیلوں اور شوبز سے وابستہ کئی معروف ہستیوں نے امیر حاجی عبدالوہاب کے ہاتھوں بیت کی اور تبلیغی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ آج وہ سب دین اور دنیا دونوں میں سرخرو ہو رہے ہیں۔

انضمام الحق، محمد ثقلین، محمد یوسف ہوں یا مولانا طارق جمیل سب ہی حاجی صاحب کی صحبتوں سے فیض یاب ہو کر دنیا میں اسلام کے حقیقی چہرے امن و آتشی کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔آپ کا شمار دنیا کے بااثر ترین افراد کی فہرست میں ہوتا تھا ۔ بلاشبہ حاجی عبدالوہاب صاحب کا نام پاکستان میں مذہبی روا داری، اخوت،بھائی چارے کے قیام اور تبلیغ اسلام کے حوالے سے ہمیشہ جلی حروف میں لکھا جائے گا۔ رہتی دنیا تک عالم اسلام حاجی صاحب کی شخصیت اور کردار کو بھول نہیں پائے گی۔ انہوں نے اسلام سے وابستہ اس سنہرے قول کو ثابت کر دیا کہ اسلام انسان کے کردار اور عمل کی سچائی سے پھیلتا ہے۔مولانا الیاس مرحوم نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ مجھے دعوت دین کیلئے ایسے قربانی والے افراد کی ضرورت ہے جس کو نہ کھانا ملیگا ، نہ تنخواہ! اور پوری دنیا میں دین اسلام کی دعوت پہنچائے۔ حاجی صاحب ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے مولانا الیاس مرحوم کا ساتھ دیا۔

حاجی صاحب نے ایک بار فرمایا کہ جوانی میں مجھے شاہ عبدالقادر رائپوری سے استفادے کا موقع ملا۔ اور ان سے بیعت کی۔ مگر مولانا الیاس مرحوم کی مجلس میں جب پہنچا تو انہوں نے اس قدر متاثر کیا کہ انہی کیساتھ مستقل وابستگی اختیار کی۔حاجی صاحب نے دعوت تبلیغ کے مزاج و مذاق کو بہت قریب سے دیکھا، مولانا الیاس کی سوز دوروں ان کو منتقل ہوئی، اور اپنی ملازمت وغیرہ ترک کرکے دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہوئے۔مولانا الیاس مرحوم کے وفات کے بعد ان کی تشکیل پاکستان ہوئی، اور وہ دعوت و تبلیغ کے دوسرے امیر حضرت جی مولانا یوسف کاندہلوی سے وابستہ ہوئے۔ حاجی صاحب نے مولانا یوسف کاندہلوی سے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کے تمام ملفوظات کو اپنے ڈائریوں میں محفوظ کیا، اور وقتا فوقتا مختلف بیانات و مواعظ میں انہی ملفوظات کو من و عن بیان فرماتے۔مولانا یوسف مرحوم کی ۱۹۶۵وفات کے بعد حضرت جی ثالث مولانا انعام الحسن کاندہلوی کیساتھ ملکر کام کیا۔

اور پاکستان میں دعوتی مشن پر گامزن رہے۔حاجی صاحب مرحوم نے زندگی بھر انتہائی مشقت اور جہد مسلسل کیساتھ دعوتی تحریک کو آگے بڑھایا، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں کوئی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھا، بعض پیروں فقیروں نے ان کو مسجدوں سے نکال دیا۔ کئی بار ان پر حملے ہوتے رہے، نہ تو سیکیورٹی لی،نہ تشہیر، نہ حالات سے متاثر ہوئے نہ مال و ذر سے، حاجی صاحب نے سخت ترین علاقوں کا رخ کیا۔ فاٹا قبائل کی سنگلاخ چٹانوں کو عبور کرکے تمام قبائل کو دعوتی کام میں جوڑ دیا، یہ وہ دور تھا جہاں روس نے بسوشلسٹ تحریک پر بہت زیادہ انوسٹمنٹ کی تھی، میرے خیال سے فاٹا کے وادیوں کو پاکستان سے ملانے میں تبلیغی جماعت نے کلیدی اختیار کیا۔بلوچستان کے وہ علاقے جہاں کسی “پنجابی” کا داخلہ ممنوع تھا حاجی صاحب وہاں جماعتیں بھیجتے رہے تاکہ دعوت و تبلیغ کیساتھ ساتھ کلچر کانفلیکٹ پر قابو پاسکے، تحریک طالبان پاکستان نے حاجی صاحب کا قافلہ گھیر لیا اور کہا کہ ہمیں نصیحت فرمائیں !

حاجی صاحب نے جرآت مندانہ انداز میں سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “ کہ مارنے اورمروانے سے اسلام نافذ نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالی سے صلح کرلو، اللہ کو راضی کرلو سارے کام ہوجائیں گے!جرآت و بہادری میں وہ اپنی مثال آپ تھے،ایک بار جب پہلی بارمیاں نواز شریف وزیراعظم بن گئے تو ایک بارائیونڈ تبلیغی مرکز تشریف لائے، میاں صاحب حاجی صاحب کے پاس گئے اور ان کو ایک خطیر رقم بطور چندہ پیش کرنا چاہا، حاجی صاحب نے کہا میاں صاحب ! ہمیں پیسے نہیں آپ کا وقت چاہئے،اگر آپ اللہ کی راہ میں تین دن دے سکتے ہیں یا چالیس دن ، تو بسم اللہ میاں صاحب نے کہا اتنے پیسے آفر کرنیوالا آپ کو کوئی اور نہیں ملیگا، حاجی صاحب نے فرمایا ! میاں صاحب! آپ کو اتنی خطیر رقم واپس کرنیوالا بھی کوئی نہیں ملیگا!حاجی صاحب کو زندگی میں بہت ساری مشکلات پیش آئی مگر انہوں نے جس تندہی اور حکمت کیساتھ اس سلسلے کو چلایا وہ اپنی مثال آپ ہے،اپنوں کی بے وفائی اور غیروں کی بے اعتنائی کے باوجود وہ بزرگوں کے اصولوں پر قائم رہے، ان کو ڈرایا گیا، دھمکایا گیا، مگر ہمت و استقلال سے کام کرتے رہے۔

وہ اس صدی کے موثر ترین شخصیات میں سے ایک تھے، چھیانوے سال کی طویل عمر اور ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد وہ ہمیشہ کیلئے ۱۸ نومبر ۲۰۱۸ کو رخصت ہوگئے۔حا جی عبدالوھاب کا جنازہ شیخ الحدیث مولانا مفتی نذر الرحمن نے پڑھایا۔جو حاجی عبد الوہاب کی وصیت کے مطابق تبلیغی جماعت کے امیر بنائے گئے ہیں۔حاجی عبد الوہاب کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 12 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔یہ جنازہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔اس سے پہلے غازی ممتاز قادری کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے، اور عدم تشدد پر مبنی دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کی تحریک بہترین تھال کار عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

Leave a Comment