اسلامک وظائف

.جمعہ کےدن سورۃ ابراہیم کا مجرب عمل۔ خوش نصیب بندوں میں شامل ہونے کا عمل۔

جمعہ کےدن

.جمعہ کےدن سورۃ ابراہیم کا مجرب عمل۔ خوش نصیب بندوں میں شامل ہونے کا عمل۔

.جمعہ کےدن سورۃ ابراہیم کا مجرب عمل۔ السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔ دوستوآج کی اس خاص ویڈیو میں جمعہ کے دن کا سورۃ ابراہیم کا مجرب عمل بتاؤں گا ۔ اس عمل سے غربت اور پاگل پن سے انشا اللہ آپ محفوظ رہیں گے۔

.بلکہ ویڈیو کے آخر میں اسی سورت ابراہیم کی صرف ایک ایسی آیت بھی بتاؤں گاجس کےپڑھنے سےآپ خوش نصیب بندوں میں شامل ہوجائیں گے۔ سوره ابراہیم، قرآن کی چودھویں اور مکی سورت ہے یہ سورت تیرھویں پارے میں ہے اس سورت میں حضرت ابراہیم کے اسم، داستان اور دعاؤں کا ذکر ہے. اور اسی سبب اسے ابراہیم کا نام دیا گیا ہے.

سوره ابراہیم کا اصل موضوع توحید، قیامت کی توصیف، حضرت ابراہیم کی داستان اور آپ کے ہاتھوں کعبہ کی تعمیر ہے .

اس سورت میں اسی طرح حضرت موسیٰ ، قوم بنی اسرائیل، حضرت نوح، قوم عاد اور ثمود کی داستانیں بھی ذکر کی گئی ہیں. سوره ابراہیم کی ساتویں آیت اس سورت کی ایک مشہور آیت ہے.’

کہ جس کی رو سے خدا کی نعمتوں کا شکر، ان میں اضافے اور ناشکری، عذاب الہٰی کی موجب ہے ۔روایات میں سورہ ابراہیم کی تلاوت کے کچھ فضائل بیان کیے گئے ہیں .

 

غربت اور پاگل پن سے محفوظ

کہ جو شخص بروز جمعہ سورہ ابراہیم اور حجر نماز کی پہلی دو رکعتوں میں پڑھے گا .وہ غربت اور پاگل پن سے محفوظ رہے گا ۔اسی سورۃ میں اللہ رب العزت ارشاد فرما تے ہیں .کہ جو میرا شکر کریں گا میں اس کی نعمتیں بڑھا دوں گا .جو میری نا شکری کرے گا تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بے شمارنعمتوں سے نوازا ہے .

جمعہ کےدن سورۃ ابراہیم کا مجرب عمل انسان یقینا بڑا ظالم‘ بہت ناشکرا ہے.

 

اگر وہ ان نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو شمار بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اسی سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 34 میں ارشاد فرماتے ہیں : “ اور اُس نے دی تمہیں ہر چیز‘ جو تم نے مانگی اُس سے اور اگر تم شمار کرو.

اللہ کی نعمت کو،تواسے شمار نہیں کر سکو گے ۔ بے شک انسان یقینا بڑا ظالم‘ بہت ناشکرا ہے۔‘‘ ان آیات مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے .

تو اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ جہاں وہ چیز عطا فرما دیتے ہیں.

.وہیں پر انسان کو بغیر مانگے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں.

.لیکن ان نعمتوں کے حصول کے باوجود انسانوں کی بڑی تعداد ظلم اور نا شکری کے راستے پر ہی چلتی رہتی ہے.

اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ رحمان میں انسانوں اور جنات کو تکرار کے ساتھ مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :

’‘تو اپنے رب کی کون (کون) سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔‘‘اللہ تبارک وتعالیٰ اسی حقیقت کو کچھ اس انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں :

’’اور جو تمہارے پاس کوئی نعمت ہے .

تو (وہ) اللہ کی طرف سے ہے پھر جب پہنچے تمہیں تکلیف تو اسی کی طرف تم آہ وزاری کرتے ہو.

پھر جب وہ دور کر دیتا ہے تم سے تکلیف کو (تو) اچانک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں.

تاکہ وہ ناشکری کریں (اُن نعمتوں) کی جو ہم نے دی انہیں۔.

سو‘ تم فائدہ اُٹھا لو .

ان آیات مبارکہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے .کہ انسان کو جملہ نعمتیں اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کی طرف سے حاصل ہوتی ہیں .اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تمام تکلیفوں کو بھی دور فرماتے ہیں .

نعمتوں کی ناشکری

لیکن انسانوں کی ایک بڑی تعداد اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی رہتی ہے۔

قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے . اللہ تبارک وتعالیٰ ناشکری پر ناراض ہوتے ہیں . شکر گزاری پر اپنی نعمتوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ چنانچہ سورہ ابراہیم کی آیت نمبر 7 میں ارشاد ہوا: ’’اور ‘ اگر تم ناشکری کرو گے (تو) بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت ہی سخت ہے۔‘‘

انسان جب اپنے گرد وپیش میں نظر ڈالتا ہے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے .

اللہ تبارک وتعالیٰ کی ناشکری کرنے کے مختلف انداز ہیں.

کئی لوگ  وہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کی عطا ہیں اور ان نعمتوں کا حصول جبھی ممکن ہوا.جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس پر اپنا کرم فرمایا۔ دوستو جو کوئی اس سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 7 کو روزانہ سو دفعہ پڑ ھتا ہے.

اللہ رب العزت اس پر اپنی رحمت فرما تے ہیں . اسے شکر گزار بندوں میں شامل فرما تے ہیں اور اسے ا پنی رحمت میں سے بے حساب حصہ عطا فرما تے ہیں ۔ میری دعا بھی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں فکری ‘ قولی اور عملی حوالے سے اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment