قصص الانبیا ء

جلال الدین الدوانی – جلال الدین دوانی کو ارسطو ثانی اور افلاطون ثانی کہا جاتا ہے

جلال الدین الدوانی -جلال الدین دوانی کو ارسطو ثانی اور افلاطون ثانی کہا جاتا ہے۔وہ بے شک اپنے دور کے عظیم ترین فلسفیوں میں سے ایک تھے.
فارسی میں اخلاقیات کی پرانی کتب میں سے دو کتب بخوبی جانی پہچانی جاتی ہیں اور مقبول ترین ہیں
اخلاق جلالی․․․․․اسے جلال الدین دوانی نے 1467تا1477تحریر کیا تھا
اخلاق محسنی․․․․․․اسے حسین وعظ خاشفی نے 900الہجری 1494بعد از مسیح میں تحریر کیا تھا۔وہ ایک مبلغ تھے
اس سے قبل نصیر الدین طوسی․․․․․ماہر فلکیات․․․․․انہوں نے اخلاق ناصری تحریر کی تھی۔

طوسی نے منگول دور کے دوران فلسفیانہ روایات کو جلا بخشی تھی جبکہ دوانی نے یہ کام عثمانیہ دور کے دوران سر انجام دیا تھا جبکہ طوسی نے ابن سینا کے مطالعہ کو مزید تندی و تیزی اور جوش و جذبے سے ہمکنار کیا تھا․․․․․انہوں نے ان کے کچھ کاموں پر تبصرے تحریر کیے تھے اور اسے بدنام کرنے والوں کے خلاف اس کا دفاع سر انجام دیا تھا اور دوانی نے شہاب الدین مقتول کے مطالعہ کو دوبارہ مزین کیا تھا اور انہوں نے ان کی ”حکایت نور“ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ فعل سر انجام دیا تھا اور ان کے فلسفے”حکومت اشراق“ کی وضاحت پیش کرتے ہوئے یہ فعل سر انجام دیا تھا․․․․․دونوں احیائے دین کا کام کرنے والے ہیں۔
ایک حقیقی ابن سینا نواز ہے جبکہ دوسرا سہروردی سلسلے کا پیروکار ہے۔
ابو علی سینا کی تشریح کے مطابق ارسطو نے مسلم فلسفے کو دو حصوں میں منقسم کیا تھا:۔
عملی فلسفہ (حکمت عملی)
نظری فلسفہ (حکمت نظری)
دوانی کا کام 15ویں صدی کے مسلمانوں کے عملی فلسفے پر مشتمل ہے ،اور اسی زبان میں ہے اور یہ فقیر جانی محمد اسد کی کاوش ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا گیا ہے․․․․․․اس کی بنیاد کافی پہلے کے کام پر ہے جسے ”کتاب الطہارت“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جسے ابو علی بن محمد ابن مسکوانے عربی زبان میں تحریر کیا تھا۔اس کا فارسی میں ترجمہ پہلے پہل نصیر الدین طوسی نے پیش کیا تھا اور انہوں نے کوہستان کے گورنر کی درخواست پر ایسا کیا تھا․․․․اڑھائی صدیوں کے بعد جلال الدین دوانی نے اپنے دوپیش روؤں کے کام کی مدد سے ایک نیا ایڈیشن تیار کیا تھا جس کا نام ”اخلاق جلالی“ تھا․․․․یہ وسطی ایشیا کی اخلاقیات کے بارے میں ایک انتہائی قابل احترام کتاب ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ ڈبلیو․․․․ایف تھامسن نے 1839میں پیش کیا تھا اور اسے مسلمانوں کے ”عملی فلسفے“ کا عنوان دیا تھا۔

جلال الدین دوانی کو ارسطو ثانی اور افلاطون ثانی کہا جاتا ہے۔وہ بے شک اپنے دور کے عظیم ترین فلسفیوں میں سے ایک تھے․․․․انہوں نے کئی معیاری کام تحریر کیے تھے۔
وہ ایک قانون دان فلسفی تھے وہ 15ویں صدی میں اسلامی فلسفے کی روایت زندہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
جلال الدین محمد ابن اسد دوانی نے 830الہجری1426/بعد از مسیح میں فارس کے صوبے کے ایک دیہات دوان میں جنم لیا تھا ان کی زندگی میں ان کی شہرت ان کی آبائی سر زمین سے باہر تک پھیل چکی تھی اور سلطنت عثمانیہ کے دور دراز علاقوں تک پھیل چکی تھی․․․․․دوانی کی فیملی یہ دعویٰ کرتی تھی کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق(اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ہو)․․․․․․اسلام کے خلیفہ اول کی نسل سے تھے۔
انہوں نے روایتی اسلامی تعلیم پہلے پہل دوان سے ہی حاصل کی جہاں پر انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ مطالعہ سر انجام دیا جو ایک قاضی تھے اور مابعد شیراز میں تعلیم حاصل کی۔اپنے کیریئر کے دوران وہ عدالتی اور تدریسی عہدوں پر فائز رہے تھے۔انہوں نے تقریباً 75فلسفیانہ کام تحریر کیے تھے جو دو اقسام کے حامل ہیں۔
سہروردی المقتول کے فلسفے پر تبصرے
اخلاقیات کا فلسفہ بشمول نصیر الدین طوسی کے اخلاقی نظریات پر نظر پانی․․․․․․جو 13ویں صدی کے ایرانی فلسفی تھے․․․․․․اس کے علاوہ ریاضی دان اور ماہر فلکیات بھی تھے۔

”اخلاق جلالی“ میں اس امر کا احاطہ کیا گیا ہے کہ ایک منصف حکمران کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے یہ ایک مثالی معاشرے کے کئی ایک اجزائے ترکیبی بیان کرتا ہے اور معاشرے کے نظم و نسق کو کیسے چلانا چاہیے۔اس مقصد کے لئے ایک حکمران کو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے․․․․․․
تیز فہم․․․․․․زیرک
فہم و فراست کا حامل
واضح سمجھ بوجھ کا حامل
کریم النفس
عالی ہمت
بلند فطرت
اولو العزم
عالی ظرف
فراخ دل
صبر و تحمل کا حامل
رحمدل
سخی اور فیاض
بھائی چارے کا حامل
اچھے اعتقاد کا حامل
اچھا دوست
اخلاق جلالی کا ڈھانچہ بنیادی طور پر وہی ہے جو اخلاق نصیری کا ہے لیکن یہ اسٹائل میں زیادہ رنگین ہے․․․․دوانی نے اسے قرآنی آیات سے بھی مزین کیا ہے۔

جلال الدین معاشرے کو چار درجوں میں درجہ بند کرتے ہیں!
(1)عالم فاضل لوگ مثلاً علماء ․․․․․․قاضی․․․․․محرر․․․․․․․ریاضی دان․․․․․․جیو میٹری دان․․․․․․ماہر فلکیات․․․․․․معالج اور شاعر وغیرہ۔
(2) تلوار کے دھنی لوگ
(3)تاجر․․․․․․دستکار․․․․کا دیگر وغیرہ
(4)کاشتکار․․․․․
جلال الدین بیان کرتے ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں وہ نصیر الدین طوسی کی پیروی کرتے ہوئے انسانوں کو ان کی اخلاقی نوعیت کے اعتبار سے پانچ درجوں میں منقسم کرتے ہیں۔

(1)وہ لوگ جو فطری طور پر مصنف مزاج․․․․․․عادل اور انصاف پرور تھے اور جو روح پر اثر انداز ہوئے جنہیں نصیر الدین طوسی منتخب مخلوق کہتا ہے اور ان کے ساتھ حکمران کو عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور دیگر لوگوں پر ترجیح دینی چاہیے اور جنہیں جلال الدین ایسے لوگ بیان کرتا ہے جیسے شرعی علم اور درویشی اور صوفی سلسلے کے شیخ وغیرہ
(2)وہ جو فطری طور پر اچھے تھے لیکن انہوں نے دوسروں پر اثرات مرتب نہ کیے تھے۔

(3)وہ لوگ جو نہ اچھے تھے نہ بُرے تھے۔
(4)وہ لوگ جو بُرے تھے اور انہوں نے دوسروں پر اثرات مرتب نہ کیے تھے۔
(5)وہ لوگ جو بُرے تھے اور انہوں نے دوسروں پر اثرات مرتب کیے تھے۔
اس کے بعد وہ ان تدابیر پر بحث کرتے ہیں جن کو اختیار کرتے ہوئے برائی کو ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے اور اس امر پر زور دیتے ہیں کہ حکمران کو اپنی رعایا کے امور کی ذاتی چھان بین سر انجام دینی چاہیے اس کام کا آخری سیکشن بھی اخلاق نصیری پر بنیاد کرتا ہے۔
جس میں کئی ایک سیاسی اصول بیان کیے گئے ہیں جو افلاطون اور ارسطو سے منسوب ہیں۔
اخلاق نصیری سے انصاف پروری کے عام اصول بیان کرنے کے بعد جلال الدین دوانی اپنے اخلاقی اصول بھی شامل کرتے ہیں جن پر بادشاہ کو عمل درآمد کرنا چاہیے تاکہ انصاف کا ایک کارگر نظام رائج ہو سکے۔
بادشاہ کو اپنے آپ کو ایک ستم زدہ پارٹی تصور کرنا چاہیے جبکہ وہ کسی مقدمے کا فیصلہ سر انجام دے رہا ہو تاکہ وہ ستم زدہ پارٹی کے لئے وہ خواہش نہ کرے جو اس کے اپنے لئے قابل نفرت ہو۔

اسے اس امر کی یقین دہانی حاصل کرنی چاہیے کہ مقدمات فی الفور نپٹائے جائیں کیونکہ انصاف کی فراہمی میں دیر انصاف سے روگردانی سے مترادف ہے۔
اسے عیش و عشرت اور آرام اور راحت کی زندگی بسر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح سلطنت کے وجود کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔
شاہی فیصلے جوش اور غصے کے تابع نہیں ہونے چاہئیں بلکہ یہ فیصلے انتہائی اطمینان اور سکون کے ساتھ سر انجام دینے چاہئیں۔

لوگوں کو خوش کرنے کی بجائے خدا کو خوش کرنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہیے۔
اسے انصاف کا علم بلند کرنا چاہیے لیکن اگر اس سے رحم کی درخواست کی جائے تب معافی انصاف سے بہتر ہے۔
اسے نیک اور پارسا لوگوں کی محبت اختیار کرنی چاہیے اور ان سے مشاورت سر انجام دینی چاہیے۔اسے ہر ایک کو اس کے حقیقی مقام پر رکھنا چاہیے اور نا اہل لوگوں کو ا ہم اور بڑے عہدوں پر فائز نہیں کرنا چاہیے۔

اسے لوگوں کو خوش کرتے ہوئے خدا کی خوشی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے دوانی اس نکتہ نظر کے بھی قائل تھے کہ دنیا کے صوفیانہ اور فلسفیانہ نظریات کے درمیان کسی قسم کا انتشار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دونوں اقسام کے نظریات وجود پذیر رہ سکتے ہیں لیکن صوفیانہ نکتہ نظر بہر کیف فلسفیانہ نکتہ نظر سے بہتر اور برتر ہے۔

Leave a Comment