قصص الانبیا ء

جس شخص پر بھی قرض ہوتا ہے وہ ہر وقت بے چین اور پر یشان رہتا ہے یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ مقروض کے لیے دنیا اور آخرت دو نوں میں ہی پر یشانی ہے۔

پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دیکھا جائے تو قرض دینے کی ترغیب کے حوالے سے ہمیں کئی احادیث ملتی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرض دینے کی فضیلت صدقہ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ بندہ قرض اسی وقت لیتا ہے جب اسے کوئی ضرورت درپیش ہو- لیکن یاد رہے کہ اگر کوئی قرض کا بو جھ لے کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا عذاب بھی بہت زیادہ ہے- کیونکہ یہ ایک ایسا بو جھ ہے جو ادا کر نے سے ہی اتر تا ہے ۔ اور جس شخص پر بھی قرض ہوتا ہے وہ ہر وقت بے چین اور پر یشان رہتا ہے یہ ایک قدرتی عمل ہے۔ مقروض کے لیے دنیا اور آخرت دو نوں میں ہی پر یشانی ہے۔

آج ہم آپ کو قرض کی ادائیگی کے لیے ایک ایسا عمل بتا نے والے ہیں جو عمل پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی کو بتلا یا اور فر ما یا کہ جتنا بھی قرض ہو گا۔ اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا راستہ پیدا کر دے گا۔ یہ عمل کیا ہے۔ اور اسے کیسے کر نا ہے ؟ اس بارے میں جا ننے کے لیے اس پوسٹ کو آخر تک لازمی پڑھیں۔ قرض دینے کے ثواب کے حوالے سے آپ کو بتا تے چلیں کہ اک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا کہ معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا تھا کہ “تو میں نے جبرائیل ؑ سے پو چھا کہ اے جبرائیل کیا وجہ ہے کہ قرض کا ثواب صدقے سے زیادہ ہے۔اس پرجبرائیل ؑ نے کہا کہ اس لیے کہ مانگنے والا سوال کر تا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس کچھ ہوتا ہے۔ اور قرض مانگنے والا ضرورت کی وجہ سے ہی قرض ما نگتا ہے جبکہ وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے ۔ پس ثابت یہ ہوا کہ ضرورت کے وقت میں کسی کی ضرورت پوری کر دینا اللہ تعالیٰ کی ذات کو بہت محبوب ہے۔ اور یہی ہے کہ اس کا اجر بھی زیادہ رکھا گیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ قرض لینے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے وقت پر اپنے قرض کی ادائیگی کر ے۔

اگر وقت پر قرض کی ادائیگی ممکن نہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے قرض دینے والے سے قرض کی ادائیگی کی تاریخ سے پہلے ہی مزید مہلت ما نگ لی جائے۔ مہلت دینے پر قرض دینے والے کو اللہ تعالیٰ اجرِ عظیم عطا فر ما ئے گا۔ لیکن جو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت برتتے ہیں ۔ ان کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہو ئی ہیں-حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کا نما زِ جنازہ پڑھانے سے بھی منع فر ماتے تھے جس پر قرض ہو۔

1 Comment

  • محترم, آپ نے عمل تو بتایا نہیں اس پوسٹ میں.
    صرف یہ لکھا ہے ” اس بارے میں جا ننے کے لیے اس پوسٹ کو آخر تک لازمی پڑھیں” اور آخر میں کچھ نہیں.

Leave a Comment