اسلامک معلومات

جس دن اللہ ان کو اپنے حضور جمع کرے گا تو ان کو ایسا محسوس ہوگا کہ گویا وہ دنیا میں سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے

اپنے اندر فکر آخرت کیسے پیدا کریں ؟ آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پیدا ہورہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں وفات پارہے ہیں ، دنیا میں ہرآنے والایہاں سے جارہا ہے اس لئے اس بات میں کسی کو شک واختلاف نہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہرکسی کو دنیا سے جانا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ جب اس دنیا میں آنے کے بعد ہمیں مرہی جانا ہے تو پھر اس دنیا کی کیا حقیقت ہے ، یہاں ہم کیوں آئے ہیں اور ہمیں دنیا میں کیا کرنا چاہئے ؟

یہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے یعنی ہمیں اللہ نے دنیا میں اس لئے بھیجا ہے کہ تاکہ ہم اس کی بندگی کریں اور اس نے جو صراط مستقیم دیا ہے اس پر چلتے ہوئے زندگی کریں ۔ اللہ کے سوا کسی کو بقا نہیں ہے ، یہاں ہرکسی کی زندگی متعین ومحدود ہے جب اس کی زندگی کا متعین دن آجاتا ہےوہ اس دن یہاں سے کوچ کرجاتا ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ دنیا ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ مسافر کی طرح چند لمحہ بسر کرنے کی جگہ ہے ،ہمارا اصل ٹھکانہ آخرت ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے ،اللہ کا فرمان ہے :يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ(غافر:39) ترجمہ : اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے ، یقین مانوکہ قرار اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے۔بلکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی گھڑی بھر کا ٹھکانہ ہے ، اللہ کا فرمان ہے : وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (یونس:45)

ترجمہ : اور ان کو وہ دن یاد دلائیےجس دن اللہ ان کو اپنے حضور جمع کرے گا تو ان کو ایسا محسوس ہوگا کہ گویا وہ دنیا میں سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں ، واقعی خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک دنیا دار آیا ، فرعون آیا، قارون آیا، ہامان وشداد آیا مگر کسی کو اپنی فوج ، طاقت، سلطنت اور دنیا نے نہیں بچایا آخرکار دنیا چھوڑ کر سب کو جانا ہی پڑااس لئے کافر لوگ بھی موت سے انکار نہیں کرتے مگر وہ موت سے نصیحت نہیں لیتے اور مرنے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں ،اللہ کا فرمان ہے : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚقُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (التغابن:7)

ترجمہ : کافروں کا خیال یہ ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ، آپ کہہ دیجئے ! کیوں نہیں اللہ کی قسم ! تمھیں ضرور بالضرور اٹھایا جائے گا ، پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی تمھیں خبر دی جائے گی اور یہ کام اللہ پر انتہائی آسان ہے ۔ہر مسلمان آخرت پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ ایمان کے چھ ارکان میں ایک رکن آخرت پر ایمان لانا ہے بلکہ اس آیت کی روشنی میں سب پہلے ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم یہ یختہ عیقدہ بنائیں کہ اس دنیا سے وفات پاجانے کے بعد اللہ تعالی سارے انسانوں کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا اور سب کے عملوں کا حساب وکتاب ہوگا پھر آخرت سے متعلق قرآن وحدیث میں جتنی باتیں مذکور ہیں ان سب پر ایمان لانا ہے مثلا برزخ کی زندگی،قبر کی نعمتیں، قبر کا عذاب، اسرافیل علیہ السلام کا صور پھونکنا، قبروں سے دوبارہ زندہ ہوکرکھڑا ہونا، محشر میں سب کا جمع ہونا،اللہ کی عدالت قائم ہونا، حساب وکتاب، حوض کوثر، پل صراط اور جنت وجہنم میں داخلہ وغیرہ ۔

آخرت برحق ہے اور اس دنیا کی زندگی میں دراصل آخرت کی تیاری کے لئے ہی آئے اس لئے اللہ نے قرآن میں جابجا آخرت کی تیاری کا حکم دیا ہے ، اللہ کا فرمان ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر:18) ترجمہ : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہرشخص دیکھ لے کہ کل قیامت کے واسطے اس نے اعمال کا کیا ذخیرہ بھیجا ہے۔ اور ہروقت اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔سورہ اسراء کی ایک آیت میں اللہ نے آخرت کی فکر کرنے کے ساتھ اس کی بہترتیاری کرنے والوں کو سعی مشکور(قدرکی جانے والی تیاری)کہہ کربشارت بھی دی ہے گویا وہاں فکرآخرت، تیاری اور نتیجہ تینوں بیان ہوا ہے، اللہ فرماتا ہے: وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا (الاسراء:19) ترجمہ : جس نے آخرت کی فکر کی اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہئے وہ کرتا بھی ہو اور وہ باایمان بھی ہو پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے یہاں پوری قدردانی کی جائے گی ۔

ایک دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے:وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا (المزمل:20) ترجمہ : اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالی کے یہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤگے ۔ اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ کل کے لئے خرچ کرنےاور کسی قسم کی قربانی دینےسے گریز نہیں کرنا چاہئے بلکہ آخرت میں بہتر بدلہ پانے کی امید میں ہر قسم کی خیروبھلائی کرتے رہنا چاہئے۔ یہاں ایک افسوسناک پہلو ذکرکرکے مضمون کے اصل ہدف کی طرف آؤں گا ۔ ہمارے دین کی اصل اور اس کا لب لباب آخرت کی تیاری اور اس کے ذریعہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے،یہاں کی تمام دینی کارگزاریوں کا اصل ہدف آخرت کی تیاری ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت فکر آخرت سے حددرجہ غافل ہے جس سے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان بھی دوبارہ زندہ ہونے ، رب سے ملاقات کرنے اور آخرت کے حساب وکتاب کےمنکر ہوگئے؟۔انسانوں کی غفلت کی طرف اللہ تعالی نے بھی اشارہ کیا ہے ، رب العالمین کا فرمان ہے: اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ (الانبیاء:1) ترجمہ: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے پھر بھی وہ بے خبری میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

Leave a Comment