اسلامک معلومات

جب ایک صحابی کا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھڑی مار دی!!

حیات طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا سبق آموز واقعہ جو آپ کی بھی زندگی بدل کے رکھ دے گا:
معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایمان افروز واقعہ سنایا۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ جب حنین کی جنگ میں شکست ہوئی تو صحابہ بھاگنے لگے، ایک صحابی کا پاؤں بھاگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر آ گیا۔ صحابی کے پاؤں جنگ میں پہننے والا سخت جوتا تھا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابی کو چھڑی مار دی۔

اور صحابی سے کہا ارے تم نے تو میرا پاؤں ہی مسل دیا۔ صحابہ اس وقت جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔ جب اس صحابی کے کان میں آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کے بس اب میری خیر نہیں۔ آب کوئی نہ کوئی وحی میرے بارے میں آئے گی کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھ پہنچایا اور ان کے پاؤں پر پاؤں مار دیا۔ صحابی ساری رات نہ سو سکے اور سوچتے رہے صبح میرے بارے میں وحی آئے گی۔ مولانا طارق جمیل نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ صبح فجر کی نماز کے وقت اعلان ہوا کہ جس کا پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر پڑا تھا وہ دربار رسالت میں حاضر ہو۔ صحابی نے کہا کہ میری ہائےنکلی اور کہنے لگا وہی کام ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ ضرور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میرے بارے میں کوئی بڑا حکم آیا ہوا ہوگا۔ صحابی جب دربار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابی کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ: میرے بھائی کل میں نے آپ کو چھڑی ماری تھی اس پر معافی مانگنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔ یہ 60 سال اونٹنیاں میری طرف سے تحفے میں قبول کرے۔ امید ہے اب آپ مجھے معاف فرما دیں گے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چھڑی صحابی کو اس لوہے کی زرہ پر لگی جہاں تلوار اثر نہیں کرتی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 60 اونٹنیاں اور معافی علیحدہ مانگی۔

یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسن اخلاق برداشت اور درگزر ہے مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ معاف فرمانا اور درگزر کرنا نہیں بھولا

Leave a Comment