اسلامک معلومات

توہین رسالت ..لمحہ فکریہ

توہین رسالت

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے بڑے بڑے معروف علماء توہین رسالت ﷺ اور توہین اہلبیت ؑ و صحابہ پر ملک کے چپےچپے کو بند
کردیتے ہیں . ملک کے وہ مقتدر حکمران جو توہین رسالتﷺ یا توہین صحابہ ؓ پر قوانین پاس کرتے ہیں. وہ کیا ملک میں الحاد کی اس رفتار کو ملاحظہ نہیں کررہے.

 

عقیدے کے مطابق

مسلمان کے عقیدے کے مطابق سب سے پہلا جز تو اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے.پھر رسالت کا اقرار ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص توہین رسالت کا مرتکب ہو. تو جہاں حکمرانوں اور علماء کو چاہئے کہ اس شخص کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے .

قانون کے کٹہرے

وہی اس شخص کو بھی باقاعدہ طور پر قانون کے کٹہرےمیں لاکھڑا کرنے کی ضرورت ہے. جو وحدانیت خدا پر انگشت درازی کرے اور توہین وحدانیت خدا کا مرتکب ہو.گرچہ قوانین موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ بڑھتی ہوئی تعداد کا تدارک کیسے ممکن ہے؟۔

کیونکر یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے اور سر عام کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ؟۔ بندہ ناچیز کی نگاہ میں چند وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی کا غلط استعمال:

 

پاکستان میں چند دہائیوں سے فریڈم آف سپیچ یا فریڈم آف ایکسپریشن یعنی اظہار رائے کی آزادی کے مختلف تحریکیں چلی ہیں اور خاص کر صحافی حضرات اور مصنفین نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لیکن اظہار رائے کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے. کہ کوئی شخص ہر وہ بات کہنے کا حق رکھتا ہے جو اسکی منشاء ہے چاہے .اس بات سے دین کی دھجیاں اڑتی ہوں۔

 

سہارا بنایا

پاکستانی ملحدین نے بھی اپنے لئے اسی چیز کو سہارا بنایا اور اسی کو اپنا دھال بنا کر ہر وہ بات کہی جو دین و شریعت کے برخلاف تھی۔ کوئی بھی کسی انسان پر مذہب کی قید نہیں لگا سکتا لیکن اسکا مذہب اسی کی حد تک ہونا چاہئے اگر کوئی شخص الحاد کی تاریکیوں میں گر چکا ہوں تو فریڈم آف سپیچ ہر گز یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی توہین کرے یا دیگر مقدسات اسلامی کو اپنے غلیظ نظریات کے آئینے میں داغدار کرنے کی کوشش کرے۔

علماء کی غفلت و نااہلی:

علماء کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے ضامن ہوتے ہیں اور ان میں یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ نہ صرف اپنے علم سے بلکہ عمل سے بھی لوگوں پر تاثیر گذار ہوں اور معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری انجام دیں۔ پاکستان میں الحاد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ علماء بھی ہیں ، علماء سے مراد علماء حقہ نہیں بلکہ علماء سوء ہیں جو معاشرے کو ترقی اور اصلاح کے بجائے تنزلی اور خرابی کی جانب لے جاتے ہیں۔

اسلام کے چہرے کو داغدار

ایسے علماء کی تعداد کثیر ہے. ایسے ہی علماء دشمن کے آلہ کار بھی با آسانی بنتے ہیں .چاہے وہ عمداً ہو یا جہلاً آج کل کے نوجوان فتنہ و فساد سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں اور انسان کی فطرت بھی یہی ہے. کہ وہ امن کا داعی ہوتا ہے لیکن جب انہی علماء کی جانب سے اسلام کے چہرے کو داغدار کرکے عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے . جز فتنہ و فساد، لڑائی جھگڑے کے انکو کچھ نہیں ملتا تو وہ امن کیلئے دین کو ہی ترک کردیتے ہیں .

فکر و تدبر

کیوں نہ اس دین سے ہی دوری اختیار کی جائے جو سوائے بغض و کینے کے کچھ نہیں سکھاتا گرچہ انکا یہ نظریہ غلط ہوتا ہے۔ یہ ایسے ملحدین ہیں جنکو ” دیسی ملحدین” کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ فکر و تدبر کے نتیجے میں گمراہ نہیں ہوئے بلکہ کسی کی وجہ اس راستے کو اختیار کیا ہے ۔ حالانکہ انکی ذمہ داری اور مسئولیت یہ تھی کہ یہ خود دین کا روشن چہرہ پہچانتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے۔

گمراہی کے راہ

ملحدین میں بعض ایسے ہیں جو باقاعدہ تحقیق کرکے کچھ سوالات کو جنم دیتے ہیں اور علماء کی جانب چلتے ہیں اس امید کے ساتھ کے شاید وہ انکے قانع کنندہ جوابات دے سکیں .لیکن وہاں سے انکو مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا اور وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں.تمام علماء اسی قسم کے ہیں اور اس گمراہی کے راہ کو اختیار کرلیتے ہیں. جو کہ انکی ذہن کی اختراع ہے کہ اگر کوئی انکے سوالات کا جواب نہ دے پایا تو اسکا مطلب یہ ہے. کہ اس چیز کا وجود ہی نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ علماء کی انا اہلی کہ جنہیں جس بات کا علم ہونا چاہئے تھا .وہ نہیں ہے۔

مال و متاع کی لالچ:

انسان کی فطر ت ہے کہ وہ حریص ہے اور مال و متاع کا خواہاں ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کے حصول کیلئے غلط راستے کا انتخاب کرے۔ پاکستان میں بعض ملحدین ایسے ہیں جو فنڈڈ ہیں.

باقاعدہ غیر ملکی ایجنڈے کے تحت کام کررہے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جو خود تو گمراہ ہیں لیکن اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اور اسکے عوض دیگر ممالک میں ریزیڈینشل ویزوں کے ساتھ ساتھ بہترین رہائش و آسائش بھری زندگی پالیتے ہیں۔

ان تمام تر باتوں کا مقصد یہ ہے کہ جہاں تھوڑی بہت علماء کی غلطی ہوسکتی ہے .

وہی دوسری جانب منظم گروہوں کی صورت میں الحاد کی جانب مائل کرنے کیلئے کام کررہے ہیں ۔

مقاصد کے حصول

.اپنے ان مقاصد کے حصول کیلئے وہ مخفیانہ نہیں بلکہ آزادانہ طور پر مہم جوئی کررہے ہیں لیکن ہمارے علماء جو منبروں پر فتووں کی باران کئے دیتے ہیں کیا وہ ان افعال سے بے خبر ہی۔ہمارے خفیہ ادارے جو یہ ادعا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہر چیز ہماری نظروں کے سامنے ہے.

تو کیا وہ یہ گروپس نہیں دیکھ پارہے ہیں۔

 

فرقہ بندیوں میں مشغول

جب ایک عام آدمی ان گروپس اور چینلز تک رسائی رکھتا ہے تو ہمارے حکمران کیونکر خاموش ہیں۔ بظاہر تو فری تنکرز ہیں. لیکن در اصل انکے عزائم کچھ اورہیں .ان گروپس میں باقاعدہ اللہ ،رسول ، اہلبیت و صحابہ کی توہین ہوتی ہے. لیکن علماء جو فرقہ بندیوں میں مشغول ہیں . ایک دوسرے ہر صحابہ کی توہین اور اہلبیت کی توہین کے الزامات لگا رہے ہیں .کیا وہ اس مقام پر اندھے ہوجاتے ہیں ؟

 

صحابہ کی توہین

آخر کیوں کر اللہ کی وحدانیت کی توہین ، رسول اللہ کی توہین کی. امہات،اہلبیت اور صحابہ کی توہین کے خلاف متحد نہیں ہوتے؟

دین کی حفاظت

یقینا آج شیعہ ،سنی، اہل حدیث ،بریلوی اور ان مسلکوں کی جنگ سے زیادہ اہم یہ ہے . سب متحد ہو کر اپنے دین کی حفاظت کریں . ملحدین کے مقابل بندوق تھام کر نہیں بلکہ اپنے دلائل و براہین سامنے رکھے .کہ یقینا الہٰی دلائل حق ہیں اور کفار کو مغلوب کرنے والے ہیں ۔

کہی ایسا نہ ہو کہ پاکستان کا مسلمان مستقبل میں سڑکوں پر صرف اسلئے احتجاج کرے .کہ ہمیں آزادانہ طور پر عبادت کرنے کی اجازت دی جائے !!۔

Leave a Comment