اسلامک معلومات

توہین رسالتﷺ اور مسلمان

توہین رسالتﷺ اور مسلمان

تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں جب بھی توہین رسالتﷺ کے معاملے کو لیکر مسلمانوںنے احتجاج کیااور اپنی برہمی کااظہارکیا تو اُس وقت توہین رسالتﷺ کو انجام دینے والے نامردود و ناقابل قبول شخصیات کو نقصان کم مسلمانوںکو نقصان زیادہ ہواہے۔ایساہی معاملہ بنگلورومیں پیش آنے والےتوہین رسالتﷺکے معاملے میں بھی مسلمانوںکو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھاناپڑاہے۔یقیناً مسلمانوں کے نزدیک حضرت محمدﷺکا مقام سب سے اعلیٰ سب سے اونچاہے،نبی ﷺ کی محبت میں قربان ہونا مسلمانوںکے نزدیک سب سے افضل ترین عمل ہے۔لیکن جس طرح سے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنےوالوںکے خلاف مسلمان احتجاج کرتے ہیں وہ صرف اور صرف جو ش کانمونہ ہے نہ کہ مسلمان ہوش سے کام لیتے ہوئے قصورواروں کو سزا دلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔آزادی کے بعد سے اب تک شاید ہی کوئی ایسا شخص سزاپاچکاہے جو نبی کی شان میں گستاخی کرچکاہے۔بات چاہے تسلیمہ نسرین کی ہو یا پھر سلمان رشدی کی،بات چاہے اننت کمار ہیگڈے کی ہو یا پھر کملیش تیواری کی۔ہر اہانت رسول کا قصوروار اب شان سے زندگی گذار رہاہے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کا معاملہ اللہ کی عدالت میں بھی سناجائیگااور اُس دن وہ یقیناً رسواء و ذلیل ہونگے۔لیکن دنیائوی اعتبار سے جس طرح سے مسلمانوں کا طریقہ کا رہے وہ ہمیشہ اس بات کا سوال پیداکرتاہےکہ نبی ﷺکی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہونے والے احتجاجات میں نبی ﷺکے دین کا مذاق اڑایاکیوں جاتا ہے؟نبیﷺ سے عشق کا مطلب یہ تو نہیں کہ کسی بے گناہ انسان کو تکلیف پہنچائی جائے،بے قصوروں کی جان ومال کے دشمن بن جائیں۔حالیہ دنوںمیں ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی کام کررہے ہیں جو بظاہر مسلمانوںکے قائد،ہمدرداوررہبر کے طو رپر ہیں،لیکن وہ مسلمانوں کو صحیح راہ دکھانے کے بجائے مسلمانوںکے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں،جن ذہنوں کو علمی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی تربیت دینے کی ضرورت ہے،اُن ذہنوں میں تعصب اور شر کے بیج بوئے جارہے ہیں۔جن بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے اُن کے مستقبل کو سنوارنے کی ضرورت ہے،اُن بچوں کے ہاتھوں سے مسجد مندر کے نمونے بنواکر اُن کے ذریعے سے یہ کہلوایا جائے کہ بابر تیری مسجد میں ہم پھر سے اذان دینگے ،تو کیسے ممکن ہے کہ ہماری نسلیں آگے چل کر ہماری قیادت کرینگے۔ممکن ہے کہ ہم کبھی کسی روز پھر سے مسجد تعمیر کرلیں گے،او رپھر سے اذان بھی دیں لیں گے،لیکن ہم کس نہج پر تیاری کررہے ہیں یہ بھی ذرا سوچیں۔جذباتی نعروں سے ،جوشیلے بیانوں سے،بغیر سمت و مقصد کے کاروان نکالنے سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ ہر کام کو انجام دینے کیلئے حکمت،طاقت،شجاعت اور صبر کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔جس نبیﷺ کی شان میں ہم آواز اٹھا رہے ہیں وہی نبیﷺ تمام کائنات کیلئے نمونہ ہیںاور وہی نبیﷺ ہمیںیہ بتا چکے ہیں کب اور کونسے وقت میں کیا کرنا چاہیے۔اسلام نے اس کے ماننے والوں کو یتیم نہیں بنایاہے،بلکہ ہر کام کیلئے اسلام نے رہنمائی کی ہے۔مگر ہم اس رہنمائی کو قبول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اب جوش کے بجائے ہوش سے کام لیں،تاکہ مستقبل میں مزید نقصانات سے بچ سکیں۔مندرجہ بالاجو رائے ہم پیش کررہے ہیں وہ ہماری اپنی رائے ہے نہ کہ ہم نے اس رائے پر عمل کرنے کیلئے کسی کو زبردستی کی ہے۔بعض لوگ ایسی تحریریں پڑھنے کے بعد آگ بگولہ ہوجاتے ہیںاور اپنے آپ کو ہی صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ہم بھی اسی خداکی مخلوق ہیں اور جو ہم کہیں گے وہی صحیح ہو یہ بھی صحیح نہیں ہے۔

Leave a Comment