اسلامک واقعات

تمہارے کردار, کام اور کلام کے لہجے اور جو کچھ ہونے والا ہے

امام المغازی محمد ںن اسحاقؒ اپنے مغازی میں یونس بن بکیر کے سلسلے حضرت خالد بن دینارؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابو العالیہ نے بیان کیا کہ ہم نے تستر کو فتح کیا تو ہرمزان کے خزانے میں ایک چارپائی ملی جس پر ایک فوت شدہ بزرگ کی نعش تھی اور اسکے سر کے پاس مصحف تھا تو ہم نے وہ مصحف سیدنا عمر ؓ کے حوالے کیا۔ انہوں نے کعب بن احبارؓ کو بلا کر اسکا عربی ترجمہ کروایا۔

تو میں پہلا شخص تھا جسنے اسے پڑھا۔ میں نے ابو العالیہ سے پوچھا کہ اسمیں کیا لکھاہے ؟ تو انہوں نے کہا تمہارے کردار, کام اور کلام کے لہجے اور جو کچھ ہونے والا ہے۔ میں نے پوچھا تم نے اس نعش سے کیا معاملہ کیا؟اس نے کہا :
ہم نے دن کو تیرہ قبریں بنوائیں اور رات کو کسی ایک میں دفن کر دیا اور سب قبروں کو پوشیدہ کردیا تاکہ وہ قبر لوگوں پر پوشیدہ رہے اور وہ اسے اکھاڑ نہ سکیں۔ میں نے پوچھا وہ انسے کیا امید رکھتے تھے ؟اس نے بتایاکہ جب انہیں خشک سالی ھوتی تو نعش کو باہر نکالتے اور بارش کی امید رکھتے۔میں نے پوچھا انکا نام کیاتھا ؟انھوں نے بتایا دانیالؑ تھا۔میں نے پوچھا انکی نعش میں کچھ تغیر تھا؟

اسنے بتایا چونکہ انبیاء کے گوشت زمین پر حرام ہیں ۔ انہیں مٹی نہیں کھاتی اور نہ درندے , اس لئے انکی نعش میں صرف چند گدی کے بال سفید تھے۔کتاب الاموال لا بی عبید ص ۳۴۳ , تاریخ طبرانی ج ۳ ص ۲۲۰ فتوح البلدان للبلاذری ص ۳۷۱
تحزیر الساجد ۸۲,۷۳ مہاجرین اور انصار نے اس نعش کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ اس بنا پر کیا کہ لوگ اس سے دعا اور متبرک کے حصول کی جگہ نہ بنا لیں۔

اگر بعد والے مشرک وہاں ھوتے اور انہیں پتہ چل جاتا تو تلواریں لے کر ٹوٹ پڑتے اور من دون اللہ اسکی پوجا شروع کر دیتے۔ ( جیساکہ انہوں نے اس سے کہیں کم تر اور ادنیٰ درجہ کی شخصیتوں کے آستانوں کی پرستش شروع کر رکھی ہے ) اور وہاں ایک قبہ بنا لیتے ہیں اور اسے مسجد سے بڑا عبادت خانہ بنا لیتے ہیں۔اگر قبروں کے پاس (اپنے لئے ) دعا مانگنا اور وہاں نماز پڑھنا یا وہاں فیض روحانی حاصل کرنا سنت یا باعثِ فضیلت ھوتا تو مہاجرین و انصار اس قبر پر جھنڈا گاڑ دیتے۔ وہاں اپنے لیے دعا کرتے اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کے لئے ایک طریقہ جاری کر دیتے۔ لیکن وہ پچھلوں کی نسبت اللہ اور اسکے رسول کے طریقے کو زیادہ جاننے والے تھے اور نیکی میں انکی اتباع کرنے والے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ انکے پاس مختلف شہروں میں کثرت سے اصحاب رسولؐ کی قبریں تھیں لیکن نہ تو انھوں نے صاحبِ قبر سے استغاثہ کیا , نہ اسے پکارا, نہ اسکے وسیلے سے دعا کی اور نہ وہاں بیٹھ کر اپنے لیے دعا کی , نہ ھی اسکے وسیلہ سے شفاء مانگی نہ بارش طلب کی , نہ اسکے ذریعہ سے اولادیں مانگیں اور انکو مدد کے لئے پکارا اور ظاہر ہے اگر کوئی ایسی بات ھوتی تو محدثین کرام اور فقہاء عظام اسے اپنی کتابوں میں ضرور درج کرتے۔

Leave a Comment