اسلامک معلومات

تمام تعریفیں ﷲ رب العزت کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے.

تمام تعریفیں ﷲ رب العزت کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

تمام تعریفیں ﷲ رب العزت کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے. ہم اپنی تمام حاجتیںﷲ ہی سے طلب کرتے ہیں. وہی ہماری تمام دعائیں سننے والا .حاجت روا ہے ﷲ تعالیٰ نے دعائیں مانگنے کا حکم فرمایا ہے.

 

اللہ کی مرضی اور اجازت

اسی طرح یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں تھے .تو انھیں اپنی خطا کا احساس ہوا .کہ وہ اللہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر .آگئے تھے. پھر حضرت یونس علیہ السلام نے گڑ گڑا کر اللہ تعالٰیٰ سے دعا مانگی !

ﷲتعالیٰ کو آپ علیہ السلام کا مانگنا اتنا پسند آیا .

پڑھنے سے بھی برکتیں

ہم جب کسی مصیبت میں اس کلمے کو پڑھتے ہیں تو ہم مانگتے نہیں بلکہ پڑھتے ہیں پڑھنے سے بھی برکتیں حاصل ہوتی ہیں ہم اس کے منکر نہیں ہیں لیکن ہمارے پڑھنے میں یونس علیہ السلام والا مانگنا نہیں ہو تا
نبیﷺ نے فرمایا :
ﷲتعالیٰ ظاہر ے قلب کے ساتھ کی گئی دعا کی طرف توجہ نہیں دیتے یعنی دل حاضر نہ ہو.

اللہ مجھ سے راضی ہوجائے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ مانگنے میں مخلص نہیں تو میں کیوں دوں.
حضرت آدم علیہ السلام کو جب جنت سے نکالا گیا تو پریشان تھے مضطرب سے کہ میں کیا کروں کہ اللہ مجھ سے راضی ہوجائے اس بے چینی میں الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے. اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں. کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کے دل میں کلمات ڈال دیئے ان کی بے چینی کو دیکھ کر کہ اس طرح سے مجھ سے مانگو. جب انسان اخلاص کے ساتھ دعا مانگتا ہے تو الفاظ کا القاء اللہ کی طرف سے ہوتا ہے.
(دعا کے آداب اور فضیلت)

حجاج ابنِ یوسف بہت بڑا ظالم تھا. اور بد عمل بھی لیکن تھا ایمان والا جانتا تھا کہ غلط کر ر ہا ہوں جب موت کا وقت آیا تو کہنے لگا :
اللہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھ جیسے گناہ گار کو نہیں بخشے گا (بڑے عجیب الفاظ ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش دلانے والے) اللہ کچھ ایسا کردے کہ لوگ جو تجھ سے گمان کر رہے ہیں تُو اپنی رحمت سے ان کو دکھادے کہ میں اتنے بڑے گناہ گار کو بھی معاف کرسکتا ہوں. علماء فرماتے ہیں کہ اس نے ایسے الفاظ کہے ہیں کہ اللہ کے عرش کو ہلا دیا ہوگا. اللہ تعالیٰ کو مانگنا بے انتہا پسند ہے .

دعا سے بڑی کوئی عبادت نہیں.

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے فرماتے ہیں کہ : مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میری دعا قبول ہورہی ہے یا نہیں بلکہ اس کی فکر رہتی ہے کہ دعا مانگنے کی توفیق مل رہی ہے کہ نہیں. کیوں کہ اللہ جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو مانگنے کی توفیق چھین لیا کرتا ہے. جتنا تعلق اللہ سے دعا کے ذریعے بنتا ہے اتنا کسی اور سے نہیں بنتا!
ﷲتعالٰی ہم سب کو اخلاص کے ساتھ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!

Leave a Comment