اسلامک واقعات

تقوی دین کی بنیاد ہے اور لالچ تقوی کو ضائع کر دیتا ہے

خواجہ حسن بصریرحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا دین کی اساس کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا “تقوی دین کی بنیاد ہے اور لالچ تقوی کو ضائع کر دیتا ہے” اگر ہم تقوی کا مفہوم دیکھیں تو اس کے معنی ہیں “پرہیزگاری” متقی شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے وہ ہر کام جسے ترک کرنے کا حکم ہے اس سے پرہیز کرتا ہے.

تقوی کا تعلق ہی باطن سے ہے اور باطن کی اصلاح سے اعمال کی قدروقیمت بڑھتی ہے. اللہ تعالی کے نزدیک بہتر انسان وہ نہیں ہے جس کے پاس پیسہ زیادہ ہے یا طاقت زیادہ ہے بلکہ بہترین انسان وہ ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور اللہ کا ڈر کیسے پیدا ہوتا ہے؟وہ تو اللہ کی اطاعت سے پیدا ہوتا ہے. ایک واقعہ بتانا چاہوں گی تقوی سے متعلق کے امام ابو حنیفہ کے زمانے میں ایک بکری چوری ہو گئ آپ نے بکری فروش کو بلایا اور پوچھا ایک بکری کی عمر کتنی ہوتی ہے؟ تو جواب ملا “سات سال”امام ابو حنیفہ نے علاقے میں سات سال تک بکری کا گوشت خریدنے سے منع کردیا کہ ہو سکتا ہے کسی قصائی کے پاس وہی چوری کی گئ بکری کا گوشت ہو اور کوئی شخص اسے کھا کر گنہگار نہ ہو جائے.واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے

کہ پرہیزگاری کا یہ عالم ہے کہ علاقے میں گوشت خریدنے سے روک دیا گیا کہ کہیں اللہ تعالی نہ ناراض ہو جائے. ہمیں چاہیے کے ہم وہ اعمال کریں جس میں اللہ رب العزت کی رضا شامل ہو. نیک اور صالح اعمال کرنے سے تقوی , عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے. اللہ تعالی خود ارشاد فرماتے ہیں کہ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہوگا. اس لیےاے ایمان والوں اپنے اندر عاجزی و انکساری کی راہ ہموار کرو”اور جو انسان تقوی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے ہر کام میں آسانی پیدا کر دیتے ہیں. میری دعا ہے کے ہم سب اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو بلکل پاک صاف اور متقی و پرہیزگار بن کر اس کی بارگاہ میں پہنچیں. اللہ تعالی ہم سب کو نیک اور صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں.(آمین ثم آمین)

Leave a Comment