اسلامک معلومات

تقدیر کیا ہے ؟

تقدیر کیا ہے ؟

ازل میں جب اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ بھی نہ تھا. زمین و آسمان، ہوا پانی، عرش وکرسی میں سے کوئی چیز بھی پیدا نہ کی گئی تھی. تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو بعد میں پید ا ہونے والی اس ساری کائنات کا پورا پورا علم تھا۔ پس اس دور ازل ہی میں اس نے ارادہ اور فیصلہ کیا کہ دنیا اور اس پوری کائنات کو پیدا کروں گا.
اس میں یہ یہ واقعات پیش آئیں گے۔

پہلا مرحلہ

پس یہ طے فرمانا ہی تقدیر کیا ہے ؟ کا پہلا مرحلہ اور ظہور تھا۔
پھر ایک وقت آیا. جبکہ پانی اور عرش پیدا کئے جاچکے تھے. مگر زمین و آسمان پیدا نہ ہوئے تھے۔

زمین وآسمان کی تخلیق

عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار برس پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ (مسلم) اس حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے کہا کہ عرش کی قوت خیالیہ میں تمام مخلوق کی تفصیلی تقدیر منعکس کردی اور اس طرح عرش اس تقدیر کا حامل ہوگیا۔ یہ تقدیر کا دوسرا درجہ اور دوسرا ظہور ہوا۔
پھر ہر انسان کی تخلیق جب رحم مادر میں شروع ہوتی ہے ۔

جب اس میں روح ڈالنے کا وقت آتا. تو اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا فرشتہ اللہ تعالیٰ ہی سے علم حاصل کرکے اس کے متعلق ایک تقدیری نوشتہ مرتب کرتا ہے۔ جس میں اس کی مدتِ حیا ت، رزق اور شقاوت یا سعادت کی تفصیل ہوتی ہے، یہ نوشتہ تقدیر کا تیسرا درجہ اور تیسرا ظہور ہے۔

اللہ ہی کی تقدیر

بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں کم علمی کی وجہ سے سوالات اٹھتے ہیں . دنیا میں اچھا بُرا جو کچھ ہوتا ہے. اگر یہ سب اللہ ہی کی تقدیر سے ہے. اور اللہ ہی نے اس کو مقدر کیا ہے تو پھر اچھا ئیوں کے ساتھ تمام بُرائیوں کی ذمہ داری بھی (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ ہی پر آئے گی۔

اور یہ کہ جب سب کچھ پہلے سے اللہ کی جانب سے مقدور ہوچکا ہے. اس کی تقدیر اٹل ہے تو بندے اسی کے مطابق کرنے پر مجبو ر ہیں.لہٰذا انہیں کوئی جزا سزا نہیں ملنی چاہئے۔

غلط اور ناقص تصور

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ تقدیر کیا ہے ؟ . اس قسم کے شبہات تقدیر کے غلط اور ناقص تصور سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم میں سے جو شخص بھی اپنے اعمال وافعال پر غور کرے۔ وہ بغیر کسی شک و شبہ کے اس حقیقت کو محسوس کرے گا .

اس دنیا میں ہم جو بھی اچھے یا بُرے عمل کرتے ہیں. وہ اپنے ارادے اور اختیار سے کرتے ہیں۔ ہر کام کے کرنے کے وقت اگر ہم غور کریں . یقینی طور پر محسوس ہوگا کہ ہم کو یہ قدرت حاصل ہے۔کہ چاہیں تو اس کو کریں اور چاہیں تو نہ کریں، پھر اس قدرت کے باوجود ہم اپنے خداداد ارادے اور اختیار سے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

وجود کا فیصلہ

اسی فیصلے کے مطابق عمل ہوتا ہے ۔پس اس عالم میں جس طرح ہم اپنے ارادہ اور اختیار سے اپنے تمام کام کرتے ہیں. اللہ تعالیٰ کو ازل میں اسی طرح ان کا علم تھا ۔ پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو مقدر فرمایا ۔اور اس پورے سلسلے کے وجود کا فیصلہ فرمادیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے اعمال ہی کو مقدر نہیں فرمایا ہے. بلکہ جس ارادہ اور اختیار سے ہم عمل کرتے ہیں ۔وہ بھی تقدیر میں آچکا ہے۔ گویا تقدیر میں صرف یہی نہیں ہے کہ فلاں شخص فلاں اچھا یا بُرا کام کرے گا، بلکہ تقدیر میں یہ پوری بات ہے ۔کہ فلاں شخص اپنے ارادہ واختیار سے ایسا کرے گا، پھر اس سے یہ نتائج پیدا ہوں گے. پھر اُس کو یہ جزا یا سزا ملے گی۔

اسباب ومُسببات کا پورا سلسلہ

غرض تقدیر میں صرف یہ نہیں ہے کہ فلاں شخص کو فلاں چیز حاصل ہوجائے گی، بلکہ جس کوشش اور جس تدبیر سے وہ چیز اس دنیا میں حاصل ہونے والی ہوتی ہے، تقدیر میں بھی وہ اسی تدبیر سے بندھی ہوئی ہے۔ بہرحال تقدیر میں اسباب ومُسببات کا پورا سلسلہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کہ اس دنیا میں ہے۔ پس یہ خیال کرنا کہ تقدیر میں جو کچھ ہے وہ آپ سے آپ مل جائے گا، اور بناء پر اس عالمِ اسباب کی کوششوں اور تدیبر وں سے دست بردار ہونا دراصل تقدیر کی حقیقت سے ناواقفیت ہے۔ الغرض اگر تقدیر کی پوری حقیقت سامنے رکھ لی جائے تو اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں پیدا ہوسکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment