اسلامک معلومات

تقدیر کا ماننا شرط ایمان ہے

تقدیر کا ماننا شرط

تقدیر کا ماننا شرط ایمان ہے

تقدیر کا ماننا شرط ایمان ہے: حضرت ابو خزانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔  کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:- کیا ارشاد ہے اس بارے میں کہ جھاڑ پھونک کے وہ طریقے جن کو ہم دکھ درد میں استعمال کرتے ہیں۔  یا دوائیں جن سے ہم اپنا علاج کرتے ہیں یا مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کی تدبیرں جن کو ہم اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کو لوٹا دیتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔  کہ یہ سب چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہیں۔

مسلئہ قضاء اور قدر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ ہم ایک دفعہ مسجد نبوی میں بیٹھے قضاء و قدر کے مسئلہ پر بحث و مباحثہ کررہے تھے۔  کہ اسی حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔  اور ہمیں یہ بحث کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غضب ناک ہوئے۔ یہاں تک کہ چہرہ مبارک تک سرخ ہوگیا۔  اور اس قدر سرخ ہوگیا کہ کہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں پر انار نچوڑ دیا گیا ہو۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:-“کیا تم کو یہی حکم کیا گیا ہے ، کیا میں تمہارے لیے یہی پیغام لایا ہوں کہ تم قضاء و قدر جیسے اہم اور نازک مسئلوں پر بحث کرو۔ خبردار ! تم سے پہلے آنے والی امتیں اسی وقت ہلاک ہوئیں جب انہوں نے اس مسئلے میں حجت اور بحث کو اپنا طریقہ بنالیا۔ میں تم کو قسم دیتا ہوں، میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں ہر گز حجت و بحث نہ کیا کرو۔ (ترمذی ۔ معارف الحدیث)

جنت اور دوذخ

۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم میں سے ہر ایک کا ٹھکانا دوزخ اور جنت کا لکھ دیا گیا ہے (مطلب یہ کی جو شخص دوزخ میں ہا جنت میں جہاں بھی جائے گا اس کی وہ جگہ پہلے سے مقدر اور مقرر ہوچکی ہے) ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم اپنے اس نوشتۂ تقدیر پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائے ۔ اور وسیع وعمل نہ چھوڑدیں ۔ (مطلب یہ ہے کہ جب سںب کچھ پہلے یہ طہ شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے تو پھر ہم وسیع وعمل کی دردرسی کیوں مول لیں)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ یہ عمل کئے جاؤ کیونکہ ہر کو اسکی توفیق ملتی ہے ۔ جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔ پس جو شخص نیک بختوں میں سے ہے۔  اس کو سعادت اور نیک بختی کے کاموں کی توفیق ملتی ہے۔  اور جو کوئی بدبختوں میں سے ہے۔  اسکو شقاوت اور بدبختی والے اعمال بد ہی کی توفیق ملتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ:-“سو جس نے دیا اور ڈرتا رہا اور سچ جانا بجلی بات کا تو ہم اس کو آہستہ آہستہ پہنچادیں گے آسانی میں اور جس نے نہ دیا اور بے پرواہ رہا اور جھوٹ جانا بجلی بات کو ، تو ہم اسکو آہستہ آہستہ پہنچادیں گے سختی میں۔” کسی کام کے ہوجانے کے بعد

Leave a Comment