اسلامک واقعات

تذکرہ حضرت سلیمان علیہ السلام

تذکرہ حضرت سلیمان

تذکرہ حضرت سلیمان علیہ السلام

تذکرہ حضرت سلیمان : حضرت سلیمان اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے تھے ۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند انجمند ہیں۔اور والد کے انتقال کے بعد کم عمری میں ہی آپ تخت نشین ہو گئے۔اُنہوں نے متحدہ اسرائیل پر ۹۷۰ قبل از مسیح سے لے کر ۹۳۱ قبل از مسیح تک حکومت کی۔ان کے بعد ملک اسرائیل کے دو حصے ہو گئے۔آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم سے جا ملتا ہے۔

تذکرہ حضرت سلیمان : معجزات

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو بہت سے معجزات سے نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی عظیم بادشاہت عطا کی جو نہ تو اُن سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی۔  اور نہ ہی ان کے بعد کسی کو میسر آئے گی۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنوں اور شیاطین کو ان کے تابع کر دیا۔
ہر طرح کے جانوروں کو نہ صرف آپ کا فرمابردار کیا،بلکہ ان کی بولیاں سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ۔ جس سے آپ ایک ماہ کی مسافت صبح شام میں ہے طے کر لیا کرتے۔
ارشادِ ربانی ہے،”اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا کہ صبح کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی۔”(سورہ سبا،۱۲)
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا۔

بادشاہت

حضرت سلیمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی،” اے میرے پروردگار!میری مغفرت فرما اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما۔ جو میرے بعد کسی کو بھی میسر نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔”
حضرت سلیمان کی یہ دعا اللہ کے دین کے غلبے کے لیے تھی۔  اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور عظیم الشان سلطنت عطا کی۔آپ علیہ السلام ہفت اقلیم کے بادشاہ تھے اور دنیا کی ہر شے آپ کے مطیع اور فرما بردار تھی۔

ہوا کو حکم دیتے تو وہ مہینوں کا سفر ہفتوں میں طے دیتی۔چرند پرند ہر حکم کی تابع داری کے لئے حاضر رہتے۔سر کش جنات ہر وقت احکامات کی بجاآوری کے لیے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ اور شیاطین زنجیروں میں جکڑے رہتے۔
سورہ انبیاء میں اِرشاد میں،”اور ہم نے تیز ہوا سلمان کے تابع کر دی،جو اُن کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی۔جس میں ہم نے برکت دی تھی(یعنی ملک شام میں)اور ہم ہر چیز سے با خبر ہیں۔”(آیت ۸۱)

قرآن میں تذکرہ

قرآن پاک کی سات سورتوں میں سولہ مقامات پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا تذکرہ آیا ہے۔

Leave a Comment