اسلامک معلومات اسلامک واقعات

بے یقینی کے نقصانات..میں نے دعا مانگی لیکن وہ قبول نہیں ہوئی

میں نے دعا مانگی لیکن وہ قبول نہیں ہوئ، میں یہ کام کرنا چاہتا تھا لیکن نہیں کر پایا، میں نے اللہ سے رو رو کر اسے مانگا لیکن وہ نہیں ملا۔۔۔۔۔” ایسے جملے عموما ہمیں اپنے آس پاس سننے کو ملتے ہیں۔ بہت سےلوگ روزانہ ایسے جملوں کا آپس میں تبادلہ کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی نے یہ سوچا کہ جو دعا اس نے مانگی تھی، وہ قبول کیوں نہیں ہوئ؟ اسکا کام کیوں نہیں ہوا؟

یا جو چیز اس نے اللہ سے رو رو کے مانگی تھی، وہ اسے کیوں ملی؟ میرے نزدیک اس سب کی ایک بڑی وجہ “بےیقینی” ہے۔ جی ہاں بالکل! ہمیں یقین ہی تو نہیں ہوتا۔جس نے دعا کی، اسے دعا کے پورا ہونے پر یقین نہیں تھا، کام کے ٹھیک ہونے پر یقین نہیں تھا، رو رو کے مانگی ہوئ چیز کے مل جانے پر یقین نہیں تھا۔ یقین میں بڑی طاقت ہوتی ہے، یقین ہے تو سب ہے لیکن اگر یقین نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ آپ لوگوں نے سنا ہوگا کہ پہلے زمانوں میں معجزے ہوا کرتے تھے، اب نہیں ہوتے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں معجزے کے ہونے پر یقین ہی نہیں ہوتا۔ آپ پیروں فقیروں سے دعا کرواتے ہیں اور وہ پوری ہو جاتی ہے، کیوں؟ کیونکہ آج کے مسلمان کو اللہ سے زیادہ پیروں فقیروں پر یقین ہے۔ہم بظاہر کہتے ہیں کہ “ہمیں اللہ پر یقین ہے اور ہم نے سب کچھ اللہ پر ہی چھوڑ دیا ہے” لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم واقعی سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر بےفکر ہو گئے ہیں؟ شاید نہیں۔ ہم بظاہر تو کہ دیتے ہیں کہ “ہم نے سب اللہ پر چھوڑ دیا ہے” لیکن تھوڑی سی مشکل پر ہی پیروں فقیروں کا رخ کر لیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں ہوتا، وہ آزماتا ہے اور ہمیں ان آزمائشوں کو پورا کرنا پڑتا ہے

۔ہم انسانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف کہہ دینا کافی نہیں بلکہ اس کہے کے پورا ہونے پر یقین بھی ضروری ہے۔ ہمیں اللہ سے دعا کرنے سے پہلے اللہ پر یقین کرنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر یقین ہو تو انسان پانی پر بھی چل سکتا ہے لیکن اگر یقین ہی نہ ہو تو انسان زمین پر بھی نہیں چل سکتا۔

Leave a Comment