قصص الانبیا ء

“بے شک نیک لوگ بہشت میں ہیں اور بے شک گناہ گار دوزخ میں ہیں”

بے شک نیک لوگ

لفظ ” آخرت ” کے معنی بعد میں ہونے والی چیز کے ہیں۔ اس کے مقابلے میں لفظ “دنیا” ہے۔ جس کے معنی قریب کی چیز کے ہیں۔ عقیدہ آخرت کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے فنا نہیں ہو جاتا۔ بلکہ اس کی روح باقی رہتی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب اللہ تعالی اس کی روح کو جسم میں منتقل کر کے اسے دوبارہ زندہ کر دے گا. اور پھر انسان کو اس کے نیک و بد اعمال کا حقیقی بدلہ دیا جائے گا۔ نیک لوگوں کو ایک ایسی جگہ عنایت کی جائے گی تو اللہ تعالی کی نعمتوں سے بھرپور ہو گی۔ اس کا نام جنت ہے اور برے لوگ ایک انتہائی اذیت ناک جگہ میں رہیں گے جس کا نام جہنم ہے۔

 

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

ترجمہ:

“بے شک نیک لوگ بہشت میں ہیں اور بے شک گناہ گار دوزخ میں ہیں”

آخرت کے سلسلے میں قرآن مجید کی تعلیمات کا خلاصہ :

1۔ انسان کی دنیاوی زندگی اس کی آخرت کی زندگی کا پیش خیمہ ہے۔ دنیا کی عارضی زندگی اور آخرت کی زندگی دائمی ہے۔ انسان کے تمام اعمال کے پورے پورے نتائج اس عارضی زندگی میں مرتب نہیں ہوتے۔ بلکہ اس عارضی زندگی میں جن اعمال کا بیچ بویا جاتا ہے ان کے حقیقی نتائج آخرت کی زندگی میں ظاہر ہوں گے۔

نظام عالم

2۔ جس طرح دنیا کی ہر چیز علیحدہ علیحدہ اپنی ایک عمر رکھتی ہے جس کے ختم ہوتے ہی وہ چیز ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح پورے نظام عالم کی بھی ایک عمر ہے جس کے تمام ہوتے ہی یہ نظام ختم ہو جائے گا اور ایک دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے گا۔

زبردست عدالت

3۔ جب دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ایک دوسرا نظام قائم ہوگا تو انسان کو پھر جسمانی زندگی ملے گی۔ ایک روز ایک زبردست عدالت لگے گی جس میں انسان کے تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا۔اسے نیک اعمال کی جزا ملے گی اور برے اعمال کی سزا ملے گی۔

 

نامہ اعمال

جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے تمام اعمال خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ اس کے نامہ اعمال میں محفوظ کر لئے جاتے ہیں۔ آخرت میں یہی نامہ اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور منصف حقیقی فیصلہ فرمائے گا۔ ان اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ ایک پلڑے میں نیک اعمال اور دوسرے میں برے اعمال ہوں گے۔ اگر نیکی کا پلڑا بھاری ہوا تو کامیابی حاصل ہوگی، اور جنت میں ٹھکانہ نصیب ہوگا اوراگر برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو ناکامی ہوگی اور جہنم کا دردناک عذاب چکھنا ہوگا۔

بے شک نیکی کا اجر

آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص برائیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ ایسے علم ہوتا ہے کہ ان کے نتیجے میں وہ عذاب میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اسے نیکیوں سے محبت ہو جاتی ہے ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسے نیکی کا اجر ضرور ملے گا۔

Leave a Comment