اسلامک معلومات

بیٹی بچاؤ مہم کس نے شروع کی تو ضرور آپ کسی ملک کا نام سوچیں گے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِالسَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه ُ، میرے پیارے محترم عزیز بھائیوں اور پیاری بہنوں ! رَبَّ الْعَالَمِيْن ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ : وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِالۡاُنۡثٰى ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا وَّهُوَ كَظِيۡمٌ‌ۚ‏O جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے (سورة النحل 58) …. اگر آپ لوگوں سے پوچھا جائے

کہ بیٹی بچاؤ مہم کس نے شروع کی تو ضرور آپ کسی ملک کا نام سوچیں گے کیونکہ دنیا کے ہر ملک نے ” بیٹی بچاؤ مہم” چلا رکھی ہے ، جبکہ حقیقت اس بہت برعکس ہے وہ پہلے انسان جنہوں نے بیٹی بچاؤ مہم کی شروعات کی اس شخص نے ایسے زمانے میں یہ مہم شروع کی جس زمانے میں لڑکیوں کو مارنے پر فخر کیا جاتا تھا ….. ایک جاہلی دور کا شاعر کہتا ہے : تَھوِی حَيَاتِی وَأَھوِی مَوتَھَا شَفَقًا وَالمَوتُ کرَمُ نُزُلاً لِلكرَمِ (ميری بچی ميری زندگی چاہتی ہے اور ميں اس پر شفقت کی وجہ سے اس کی موت چاہتا ہوں اور عورتوں کے لیے موت ہی سب سے بہترين تحفہ ہے) …. اس مہم کی شروعات کرنے والے کا نام ہے میرے پیارے رسول اکرم حضرت مُحَمَّدٌ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ، آپ نے سب سے پہلے فرمایا تھا :

جس نے 3 لڑکیوں کی پرورش کی ان کی اچھی تربیت کی ان سے حسن سلوک کیا پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی (ابوداؤد) ، آپ حضرت مُحَمَّدٌ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا تھا کہ : جس شخص کے یہاں بچی پیدا ہوئی اور اس نے جاہلیت کے طریقے پر زندہ درگور نہیں کیا اور نہ اس کو حقیر و ذلیل سمجھا اور نہ لڑکوں کو اس کے مقابلے میں ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ اسی شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا”

(ابوداؤد) ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا تھا کہ : جو لڑکیوں کے بارے میں آزمایا جائے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تو وہ لڑکیاں ان کے لئے جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی” (مسلم) ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا تھا کہ : لڑکیوں سے نفرت مت کرو وہ تو بڑی غم خوار اور بڑی قیمتی ہیں ” (مسند احمد) ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا تھا کہ : جس شخص نے 3 لڑکیوں یا 3 بہنوں کی سرپرستی کی اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا معاملہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں بے نیاز کردے تو ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ جنت واجب کر دیتا ہے” ، اس پر کسی نے دریافت کیا کہ اگر 2 ہی ہوں تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :

“2 لڑکیوں کی سرپرستی پر بھی یہی ثواب ملے گا “(بخاری) …. بھلا لڑکیوں کے بچاؤ میں ایسا انعام کون دے سکتا ہے …. سُبحَانَ اللّهِ وَ بِحَمْدِهِ ، سُبحَانَ اللّهِ الْعَظِيمِ …. جس ھستی نے مہم کی شروعات کی انکا نام تک نہیں لیا جاتا بلکہ لڑکیوں پر ظلم کرنے والے لڑکیوں کو مارنے والے آج انکے محسن بنے ہوئے ہیں …. اس میں ہمارا ہی قصور ہے کیونکہ ہمیں ہی نہیں معلوم کہ لڑکیوں کے بارے میں ہمارا اسلام کیا تعلیم دیتا ہے .

اور اگر کسی مسلمان نے ایسی کوئی مہم چلائی تو مہم کا فاؤنڈر چاہتا ہے کہ میرا ہی نام ہو ایسے لوگ وہاں حدیث لکھنے کے بجائے غیر مسلموں کی اقوال لکھے جاتے ہیں ، ہمیں بتانا ہوگا کہ یہ مہم کافر اور مشرک کی چلائی ہوئی نہیں ہے بلکہ 1400 سال پہلے میرے پیارے رسول اکرم حضرت مُحَمَّدٌ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ نے شروع کی تھی ….. ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﯿﮟ رَبَّ الْعَالَمِيْن ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ : آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے .

وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے (سورہ الشورئ : آیت 49:50) ، وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ‌ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًاO اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے (سورة بنی اسرائیل 31) …… يَآ َرَبُّ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ہمیں توفیق عطا فرماکہ ہم دن اور رات کی ہرساعت میں ایساعمل کریں جو تیراپسندیدہ ہو،

تیری رضا اورخوشنودی والا هو، ہم پرکرم اور رحم فرما، ہمیں دُنیاوی معاملات خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، آخرت میں ہمارے ساتھ عفو درگزر اوراحسان کا معاملہ فرما بیشک تو درگز کرنے والا بڑا مسبب الااسباب،السَّمِيعُ و الْعَلِيمُ ہے ،يَآ اللہ ہم سب پر اپنا خصوصی رحم وکرم فرما تاکہ ہم اچھے مسلمان بن سکیں ، يَآ اللہ سبحانہ و تعالٰی مجھ گناہ گارسمیت ہم تمام مسلمانان عالم کو نیکی کرنے اوربرائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما ، ہمیں عین صراط مستقیم پر چلاتے ہوئے ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرما اور روز قیامت سب کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں تھماتے ہوئے میرے پیارے رسول اکرم حضرت مُحَمَّدٌ مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے پڑوس میں جگہ عطا فرما ،

يَآ اللہ سبحانہ وتعالی ہم سب کی اصلاح کی توفیق عطا فرما، يَآ اللہ ہمیں توبہ کی توفیق عطا کرکے ہمارے گناہوں کو معاف فرما، يَآ اللہ کریم ہم ﮔﻤﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁ ، يَآ اللہ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ، يَآ اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرجس زندگی سے تو راضی ہو جائے، يَآ اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما،

يَآ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَآ اللہ ! تیرے حضور ہاتھ پھیلائے ہیں تو اپنے فضل وکرم اوررحمت وبرکت سے ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما، يَآ اللَّهُ يَآ الرَّحْمَنُ يَآ الرَّحِيمُ يَآ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَآ الْحَيُّ يَآ الْقَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِیْث Oلَا إلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظـيمُ الْحَلِـيمْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ العَـرْشِ العَظِيـمِ، لَا إِلَـهَ إِلَّا اللَّهْ رَبُّ السَّمَـوّاتِ ورّبُّ الأَرْضِ ورَبُّ العَرْشِ الكَـريم O بِسْمِ اللَّهِ الَّذِيٍْ لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السّمَآءِ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُO ، بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَم

Leave a Comment