اسلامک واقعات

بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دلچسپ معجزہ

بکری

حضرت جیش بن خالد سے مروی ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور ان کو راستہ بتانے والے لیثی عبد اللہ بن اریقط مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلے ۔تو وہ اُم معبد خزاعیہ کے دو خیموں کے پاس سے گزرے۔ وہ بڑی بہادر خاتون تھیں۔

وہ اپنے خیمے کے آگے میدان میں چادر اوڑھ کر بیٹھتی تھیں اور لوگوں کو کھلاتی پلاتی تھیں۔ان حضرات نے اُن سے کھجور یا گوشت دریافت کیا کہ اس سے خریدیں مگر ان میں سے کوئی چیز بھی ام معبد کے پاس موجود نہ تھی۔ ان لوگوں کا زادِ راہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت میں تھے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کے ایک کونے میں ایک بھیڑ دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اُم معبد! یہ بھیڑ کیسی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ وہ بکری ہے جس کو کمزوری نے باقی بکریوں سے پیچھے کر دیا ہے (جس کی وجہ سے اور بکریاں چرنے گئیں اور یہ رہ گئی ہے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کچھ دودھ بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (اس بکری کے لئے دودھ دینا) اس سے (یعنی جنگل جانے سے) بھی زیادہ دشوار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہوں ؟انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اگر آپ اس میں دودھ دیکھیں (تو دوہ لیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اے اللہ! اُم معبد کو ان کی بکریوں میں برکت دے

۔اس بکری نے ٹانگیں پھیلا دیں،کثرت سے دودھ دیا اور فرمانبردار ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا وہ برتن مانگا جو سب کو سیراب کر دے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو خوب دوہا حتیٰ کہ برتن منہ تک بھر گیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام معبد کو پلایا، اُم معبد نے پیا حتیٰ کہ وہ سیراب ہوگئیں اورپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو پلایا، وہ بھی سیراب ہوگئے۔ سب سے آخر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نوش فرمایا اور فرمایا کہ قوم کے ساقی کو سب سے آخر میں پینا چاہیے۔ سب نے ایک بار پینے کے بعد دوبارہ پیا اور خوب سیر ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی برتن میں اسی طریقہ پر دوبارہ دودھ دوہا اور اس کو ام معبد کے پاس چھوڑ دیا۔

Leave a Comment