قصص الانبیا ء

بلا عذر جمعہ چھوڑنے کی وجہ سے دل پر مہر لگ جانا

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ قَالَا أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ. [صحیح مسلم:2039]• عبد اللہ بن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہوکر) فرما رہے تھے:

• لوگ ہر صورت جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔ وضاحت• اس حدیث سے جمعہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔• جمعہ کی نماز ہر بالغ مسلمان مرد پر فرض ہے جو اس کو ادا کرنے کی طاقت رکھنے والا ہو۔• پس جس پر جمعہ واجب ہے اسے چاہیے کہ اس کی ادائیگی میں سستی نہ کرے اور اس سے پیچھے نہ ہٹے۔ • کیونکہ بلاوجہ جمعہ چھوڑنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے یعنی اس کے دل تک کوئی خیر نہیں پہنچ سکتی۔ • اور اس کے دل سے نرمی کو نکال دیا جاتا ہے،• اور اس میں جہالت، سختی اور جھگڑالو پن ڈال دیا جاتا ہے،• یا اس کا دل منافق کے دل جیسا کر دیا جاتا ہے۔

• سستی سے مراد جمعے کی ادائیگی کے لیے کوشش نہ کرنا اور بغیر کسی عذر کے جمعہ چھوڑنا ہے۔
• کاروبار، پڑھائی یا سوئے رہ جانا جمعہ چھوڑنے کے لیے عذر نہیں بن سکتے۔• جو شرعی عذر (بیماری وغیرہ) کی وجہ سے جمعہ چھوڑے گا وہ گھر میں نماز ظہر ادا کرے گا۔• عورت اور مسافر بھی جمعے کے دن گھر میں جمعے کی نماز کی بجائے ظہر کی نماز پڑھیں گے، جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔• غفلت سے بچنے کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ جمعے کی ادائیگی کے لیے بھرپور محنت و کوشش کرے۔

Leave a Comment