اسلامک وظائف

برے خوابوں کے شر سے بچنے کی دعا

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ “میں مانگتا ہوں اللہ کی اس (خواب) کے شر سے اور شیطان کے شر سے”ہمیں برے اور اچھے دونوں قسم کے خواب آتے ہیں-کچھ خواب ہمیں صبح اٹھتے یاد ہی نہیں رہتے-لیکن کچھ برے خوابوں کو ہم اپنے سر پر بھی سوار کر لیتے ہیں کہ بھلا یہ خواب کیوں آیا؟کیا اللہ تعالی کچھ بتانا چاہ رہے ہیں؟

ہم ان سوچوں میں ہی پڑ جاتے ہیں-اچھے خواب ہمارا موڈ خوشگوار بنا دیتے ہیں اور ہم بے اختیار ہی یہ دعا مانگتے کہ وہ جواب سچ ہو جائے-لیکن ضروری نہیں کے کہ ہر خواب کا کوئی نا کوئی مطلب ہو-حقیقت کے قریب خواب بہت کم آیا کرتے ہیں-حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جس سے وہ محبت کرتا ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین مرتبہ تھتکارے اور اس کا کسی سے ذکر نا کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نا پہنچا سکے گا”(صحیح بخاری:7044)

تو اس حدیث سے ہمیں پتا پتا چلتا ہے کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے آتے ہیں-ہو سکتا ہے اللہ تعالی ہمارا موڈ خوشگوار کرنا چاہتے ہو یا اگر کوئی چیز پریشان کر رہی ہے تو ہمیں حوصلہ دینا چاہتے ہوں-اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا کہ صرف اپنے قریبی چاہنے والے کو یہ خواب سنائیں-ایسا کیوں کہا گیا؟ اس لیے کیونکہ ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ اگلا بندہ ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے-ہو سکتا ہے جس کا رویہ آپ کے ساتھ اچھا ہو لیکن دل میں آپ کے خلاف بغض رکھتا ہو-اسی لیے ہی حضرت یعقوب علیہ اسلام نے حضرت یوسف علیہ اسلام کو اپنا خواب بھائیوں کو بتانے سے منع کیا تھا-

اور پھر اگر ہمیں برا خواب آئے تو اس کو تھتکاریں اس کے بارے میں زیادہ نا سوچیں اور نا ہی اس کا کسی سے ذکر کریں بلکہ اللہ سے پناہ مانگے اور استغفار کریں اور جب ہم اس برے خواب کو تھتکاریں گے اور اللہ سے پناہ مانگے تو اس کا خواب شر ہمارا کچھ نہیں بیگاڑ سکے گا-ہمیں کوئی برا خواب آئے تو ہم ہر کسی کو بتانے بیٹھ جاتے ہیں اس طرح نہیں کرنا کیونکہ آپ کو نہیں پتا ہوتا کہ آپ کے سامنے والا آپ سے مخلص ہے کہ نہیں-

Leave a Comment