اسلامک واقعات

ایک ماں کی قربانی اور فرعون کا ظلم

فرعون اس زمین پر وہ واحد کمخبت تھا جس نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا-اور جو اس کی بات سے انکار کرتا تھا اس کو درد ناک موت دی جاتی تھی-فرعون کی ایک باندی نے اسلام قبول کر لیا-ایمان تو چھپائے نہیں چھپتا-فرعون کو جب اس باندی کا پتا چلا تو اس نے اسے اور اس کی دو بیٹیوں کو اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا-

فرعون نے ایک بہت بڑی کڑاھی میں تیل ڈلوایا اور اس کے نیچے آگ لگائی گئی- وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ اس کے سامنے پیش کی گئی-اس عورت کی ایک دودھ پیتی بچی تھی اور ایک تھوڑی سی بڑی تھی-فرعون نے اس عورت سے کہا کہ تم اس خدا سے انکار کرو اور میں تمھیں سونے جواہرات سے نوازوں گا-اور اگر تم مجھ سے انکار کرو تو پہلے تمھاری بچیوں کو اس تیل میں ڈالوں گا پھر تمھیں-عورت نے کہا اگر میری دو کی بجائے سو بچیاں بھی ہوتیں تو میں ان کو بھی با خوشی اللہ کی راہ میں قربان کر دیتی-فرعون نے حکم دیا اور اس کی بڑی بیٹی کو اس تیل میں ڈال دیا گیا-اس ماں کی آنکھ نے بہت مشکل سے اپنے آنسو ضبط کیے تھے-بچی کی لاش تیل پر تیرنے لگی-ماں کا دل پھٹنے لگا جب اللہ نے اس عورت کی آنکھ پر پردہ ڈالا اور اس نے اپنی بیٹی کی روح کو دیکھا جو اسے کہہ رہی تھی کہ آپ صبر کریں ہمارے لیے جنت تیار ہے-پھر اس چھوٹی بچی کو اٹھایا گیا اور تیل میں ڈال دیا-جب بچی کی لاش تیل میں تیرنے لگی تو دل پھر سے پھٹنے لگا پھر سے آنکھوں پر پردہ حائل کیا گیا اور اس نے اپنی بچی کی روح کو دیکھا جو کہہ رہی تھی کہ آپ صبر کریں ہمارے لیے جنت تیار ہے-

حالانکہ وہ بچی بہت چھوٹی تھی بول بھی نہیں سکتی تھی لیکن اس کی روح نے ماں کو تسلی دی-اور پھر عورت کی باری آئی عورت نے فرعون کی آنکھوں میں دیکھا تو فرعون نظریں پھیر گیا وہ اس کی آنکھوں میں نا دیکھ سکا-عورت نے آخری خواہش کی کہ اس کی اور اس کی بچیوں کی ہڈیوں کو ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر دفن کیا جائے نا کہ پھینک دیا جائے-فرعون نے اس عورت کی آخری خواہش مان لی-عورت کو لے جانا نہیں پڑا بلکہ اس نے خود ہی جا کر تیل میں چھلانگ لگا دی-اور اس کی اور اس کی بیٹیوں کی ہڈیوں کو دفنا دیا گیا-یہ حضرت موسی کا دور تھا-پچیس سو سال بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی-آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے کے ساتھ جا رہے تھے-آپ ایک دم رکے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ اسلام سے پوچھا کہ مجھے جنت کی خوشبو آرہی ہے-جبرئیل علیہ اسلام نے کہا کہ فرعون کے زمانے میں ایک اللہ کی بندی تھی اس نے اللہ کے لیے قربانی دی یہ ان کی قبر کی خوشبو ہے یہ جس دن ان کو دفنایا گیا تھا تب سے ہی آرہی ہے-اور قیامت تک آتی رہے گی-

Leave a Comment