اسلامک معلومات

ایک شخص ہے جو 20 سال سے غلاف کعبہ کو پکڑ کی دعائیں مانگ رہا ہے لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔

حجاج بن یوسف کو کسی نے خبر دی کہ ایک شخص ہے جو 20 سال سے غلاف کعبہ کو پکڑ کی دعائیں مانگ رہا ہے لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔حجاج اس آدمی کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ آدمی اندھا ہے اور اللہ سے آنکھیں مانگتا ہے.بیس سال گزرنے کے باوجود اس کی دعا قبول نہیں ہوئی۔حجاج نے اس سے کہا: اللہ نے تجھے آنکھیں نہیں دیں لیکن اس کے علاوہ کچھ ایسی خاص چیز ضرور دی ہوگی جو آنکھوں کا نعم البدل ہوگی۔

اس نے جواب دیا: نہیں مجھے آنکھیں تو ملی نہیں لیکن نعم البدل بھی نہیں ملا۔حجاج نے اس کو اپنی تلوار دیتے ہوئے کہا: اچھا! یہ میری تلوار رکھو۔ میں تین دن بعد یہیں کعبہ کے پاس آونگا ، اگر تیری آنکھیں واپس نہ آئی ہوئی ہوئیں تو تجھے قتل کردونگا۔تین دن بعد جب حجاج واپس وہاں آیا تو اس شخص کی بینائی واپس آچکی تھی۔حجاج نے کہا: اب تجھے معلوم ہوا کہ “دعا مانگنے” کا طریقہ کیا ہے؟؟ہمارے ایک دوست کو ایک سال پہلے سرطان (کینسر) ہوا تھا۔بتاتے ہیں کہ میں جس ہسپتال میں تھا وہاں ایک شخص آیا اس کو بھی سرطان تھا۔ڈاکٹرز نے کہا: آپ کے علاج پر اتنا اتنا خرچہ آئیگا!!اس نے کہا : میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں۔
کسی نے اس کو کہا کہ اللہ سے تہجد میں اٹھ کر مانگو، اللہ ضرور پیسوں کا انتظام کردیگا ۔اس شخص نے نہ جانے کس طرح اللہ سے مانگا!کہ چند دن بعد اس کا سرطان ہی ختم ہوگیا۔ہسپتال والے حیران تھے کہ سارے ٹیسٹ کلیئر آگئے۔میرے دوستو!! ممکن نا ممکن تو مخلوق کیلیئے ہےاللہ کیلیئے تو سب ممکن ہی ممکن ہے۔
“کُن” کہا اور ہو گیا !!کیا آپ کو معلوم ھے۔۔کہ فرض نمازوں اور تہجد میں کیا فرق ھے .

فرض نمازوں کے لیے انسان منادی (اذان) دیتاھے جبکہ تہجد کے لیے اللہ تعالٰی منادی دیتا ہے ۔ فرض نمازوں کے لیے ندا (اذان) کو تمام انسان سُنتے ہیں جبکہ تہجد کی ندا کو بعض خوش بخت انسان سُنتے ہیں ۔فرض نماز کو بہیت سارے لوگ پڑھتے ہیں ۔ جبکہ تہجد کو اللہ تعالٰی کے خاص بندے پڑھتے ہیں ۔ فرض نماز کی پُکار ھے حیی علٰی الصلاتہ آو نماز کی طرف ۔جبکہ تہجد کے لیے پُکار ھے ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا میں اس کو عطا کروں ۔۔
اے اللہ ھمیں تہجد کی محبت اور اسے پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔۔
( آمین ۔ ثم آمین )

Leave a Comment