اسلامک معلومات

ایک بکری پانی کی تلاش میں نکلی

ایک بکری پانی کی تلاش میں نکلی دور اسے پانی نظر آیا۔ اس نے ادھر چھلانگ لگائی۔ وہاں دلدل تھی اس میں پھنس گئی۔
خواہش کی طلب ، پانی اور سراب میں امتیاز کی صلاحیت ختم کر دیتی ہے۔ اب وہ نکلنے کیلئے جتنا زور لگاتی اور دھنستی جاتی۔ اتنے میں ایک بھیڑیا ادھر آنکلا۔ وہ بھی پانی اور شکار کی حرص میں نکلا تھا۔ (شکار اور پانی ایک ساتھ دیکھ کر) اس نے بھی دور سے چھلانگ لگائی اور وہ بھی دلدل میں پھنس گیا۔

اس حرص اور لالچ کے چنگل میں جو پھنسا، کم ہی نکلا.بکری نے اسے دھنسا دیکھا تو ہنس پڑی۔ ہنسی کا سامان مل جائے تو انسان اپنی تکلیف بھول جاتا ہے. بھیڑئیے نے پوچھا کیوں ہنستی ہے؟ بکری نے کہا جناب! آج تو آپ بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
بھیڑئیے نے کہا تُو خودبھی تو پھنسی ہوئی ہے۔ بکری نے کہا میرے پھنسنے اور تیرے پھنسنے میں بہت فرق ہے۔ میرا مالک جب گھر جا کر پنی بکریوں کو گِنے گا۔ تو سوچے گا کہ یہ تو تیس تھیں۔ یہ 29 کیوں رہ گئیں!! وہ میری تلاش میں نکلے گا۔ مجھے پا لے گا اور نکال کر بھی لے جائے گا۔ اب تُو بتا تیرا کون ہے اور تجھے کون نکال کر لے جائے گا۔۔۔؟؟ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.اپنے آپ کو مالک کے کھونٹے سے باندھ لے۔ وہ تمہیں ضائع نہیں ہونے دے گا

Leave a Comment