اسلامک معلومات

ایمان کی تین علامات کیا ؟

ایمان کی تین علامات کیا ؟

ایمان کی تین علامات کیا ؟

 ایمان کی تین علامات کیا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے ایمان کی تین علامات بتائیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں

کثرت تقوی:
تقوی کی کثرت ہونا ایمان کی علامت ہے۔تقوی سے مراد پرہیزگاری ہے۔یعنی نیکی کا کام کرنا اور ہدایت کا راستہ اپنانا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ کسی کو کسی چیز میں بھی ایک دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں سوائے تقوی کے۔اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔متقی انسان ہمیشہ گناہ سے جھجھکتا ہے۔اور اس کا دل اللہ تعالی کی طرف ہوتا ہے۔

نفس کی شہوتوں کو دبا کر رکھنا:
نفس ہر شخص میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہماری فطرت کا حصہ ہے۔لیکن وہ شخص بہترین ہے جو اپنے نفس کو دبا کر رکھتا ہے۔اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس سے لڑنے کو جہاد قرار دیا۔نفس ہمیشہ نقصان میں ڈالتا ہے۔اور شیطان کو ہی خوش کرتا ہے۔

نفسانی خواہشوں پر غالب آنا:
نفس کی خواہشات سے ہمیں کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔اور یہ ہمیں اللہ سے دور کر دیتی ہیں۔اپنی نفسانی خواہشوں پر قابو کرنے والے کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ: “اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے تو جنت اس کا ڈھکانا اور مرکز ہے” تو نفس کی خواہشات پر قابو پانے والے کے لیے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ نفس پر قابو پانے والا دنیا میں بھی سکون سے رہتا ہے اور اس کی آخرت بھی سنور جاتی ہیں۔نفس سے نجات کی بہت سی دعائیں ہیں۔ان دعاوں کی زندگی کا حصہ بنائیں اور اللہ سے نفس سے پناہ کی دعا منگیں۔

Leave a Comment