اسلامک معلومات

ایمانیات اسوہ حسنہ میں

ایمان

ایمان کا آخری درجہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو کوئی تم میں سے کوئی بری اور خلافِ شرع بات دیکھے۔  تو لازم ہے کہ اگر طاقت رکھتا ہو تو اپنے ہاتھ سے (یعنی زور اور قوت سے) اس کو بدلنے کی (یعنی درست کرنے کی) کوشش کرے ۔ اور اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے ہی اس کو بدلنے کی کوشش کرے ۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل ہی سے برا سمجھے ۔ اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ (مسلم ۔ معارف الحدیث)

اللہ تعالی اور اس کے رسول سے محبت

حضرت انسؓ  سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں ہوگی اسکو ان کی وجہ سے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی۔
ایک وہ شخص ہے جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ یعنی جتنی محبت اسکو اللہ اور اس کے رسول سے کو اتنی کسی سے نہ ہو۔
. اور ایک وہ شخص ہے جس کو کسی بندے سے محبت ہو اور محض اللہ ہی کے لئے ہو۔

. اور ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کفر سے بچا لیا ہو (خواہ پہلے ہی سے بچا رکھا ہو۔ خواہ کفر سے توبہ کرلی اور بچ گیا) اور اس (بچا لینے) کے بعد وہ کفر کی طرف آنے کو اس قدر ناپسند کرتا ہے۔ جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔ (اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا)۔ (حیوۃ المسلمین)

افضل ایمان

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔  کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کے متعلق سوال کیا۔  (یعنی پوچھا کہ ایمان کا اعلیٰ اور افضل درجہ کیا ہے؟ اور وہ کون سے اعمال و اخلاق ہیں جن کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔  کہ بس اللہ ہی کے لیے تمہاری کسی سے تمہاری کسی سے محبت ہو۔  اور اللہ کے واسطے ہی بغض ۔  عداوت ہو (یعنی دوستی اور دشمنی جس سے بھی ہو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے واسطے ہو) ۔ اور دوسرا یہ کہ تم اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگائے رکھو۔

حضرت معاذ نے عرض کیا اور کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی وہی چاہو   وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے اور چاہتے ہو ۔ اور ان کے لئے ان چیزوں کو بھی ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ (بخاری و مسلم ۔ مسند احمد ۔ معارف الحدیث)

Leave a Comment