قصص الانبیا ء

اگر کسی اپنے کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو کیا دعا کریں

اضحک اللہ سنک
اللہ تجھے ہنستا رکھے-

ہم نیکیاں کمانے کے لیے کتنے بڑے بڑے کام کرتے ہیں یا سکون ڈھونڈنے کے لیے کیا کیا تجربے کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں سکون رکھا ہوتا ہے لیکن ہماری نظریں بڑی بڑی چیزوں پر ہوتی ہیں اسی لیے ہم ان چھوٹے خزانوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں-چھوٹی نیکیاں کرنے سے ہمیں کیا کچھ مل سکتا ہے ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں ہے-

کسی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے-اب اگر ہم کسی کو دیکھ کر ” اضحک اللہ سنک” کہیں تو یعنی ہم سامنے والے کو دعا دے رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ خوش رہے-تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ اس سے سامنے والا خوش ہوتا کہ اس نے مجھے دعا دی ہے اور پھر اللہ بھی خوش ہوتا ہے کیونکہ اس کے بندے کو خوش کیا گیا-اللہ نے حقوق العباد کی سخت تنبیہ کی ہوئی ہے-اللہ اپنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے لیکن بندوں کے نہیں-

ہم دوسروں کو خوش رکھنے کے بہت سے حربے استعمال کرتے ہیں وہ حربے کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں کبھی نہیں ہوتے لیکن دعا ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے-دعا کا مزہ ہی یہ ہے کہ دینے والا بھی کامیاب اور لینے والا بھی کامیاب-اپنی زبان کو لمبی لمبی نہیں تو چھوٹی چھوٹی دعائیں کہنے کا عادی بنائیں-جب ہم کسی کی خوشی چاہتے ہیں تو اللہ ہمارے نصیب میں بھی خوشی لکھ دیتا ہے-آج کی دعا کا مقصد ہے کہ ہم ایک دوسرے میں خوشیاں پھیلائیں-آج کا معاشرہ تو ویسے ہی ڈپریسن کا شکار ہے ہر کوئی کسی نا کسی پریشانی میں پڑا ہوا ہے-اس طرح ہم چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد رکھیں گے اور ایک دوسرے کو دیتے رہے گے تو اللہ کیسے اپنی رحمت ہم نہیں برسائے گا؟

Leave a Comment