قصص الانبیا ء

ان اللہ مع الصابرین

ان اللہ مع الصابرین

ان اللہ مع الصابرین

صبر همارے لئے نیا لفظ نہیں ہے۔قرآن میں جابجا اس کا ذکر ملتا ہے. اور اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفات میں صبر بھی شامل ہے۔

لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے صبر کے معاملے میں دین ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔صبر کو عموما برداشت کہا جاتا ہے لیکن یہ اس کا صرف ایک مطلب ہے۔

مستقل مزاجی ، برداشت

صبر کے معنی میں بہت وسعت ہے اس میں تحمل ،بردباری ، مستقل مزاجی ، برداشت اور سہہ جانےکی صفات شامل ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور اس آزمائش کے دور سے گزرنے کا رستہ بھی بتا دیا جو کہ صبر اور نماز ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔

وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ

اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سے مدد لیا کرو، اور بے شک وہ (نماز) مشکل ہے مگر (سوائے) ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں۔

اللہ نے جو امتحان وضع کیا ہے اس میں کامیابی کے طریقے بھی بتا دیے۔ان طریقوں کو اختیار کرنا ایسے شخص کے لئے
بالکل بھی مشکل نہیں جو خشوع اختیار کرے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون۔
200) سورہ آل عمران

اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ کے وقت مضبوط رہو اور ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔

صبر کی اقسام

اب صبر کی اقسام کا ذکر کرتے ہیں۔
صبر کی تین بنیادی اقسام ہیں جو ہمیں بحیثیت مسلمان سکھائی جاتی ہیں۔ان میں سب سے پہلے احکامات الہی پر عمل پیرا ہونا ہے۔نفس کو نیکی پر آمادہ کرنا یقینا اک صبر آزما مرحلہ ہے

دوسری قسم الله کی منع کی گئ چیزوں سے خود کو باز رکھنا۔چاہے کوئی چیز کتنی ہی مرغوب ہو اسے اللہ کی رضا کے لئے ترک کر دینا صبر ہے۔

تیسری قسم تقدیر پر صابر رہنا ہے۔یعنی جو ہمیں عطا کیا گیا چاہے وہ رشتے ہیں یا ماحول ، پسند ہیں یا ناپسند ان کے ساتھ تحمل اور بردباری کا معاملہ کرنا ہو گا۔

ناموافق حالات

عموما ہمارے ہاں صرف تیسری قسم کو ہی صبر کہا جاتا ہے خصوصا جب کوئی ناموافق حالات درپیش ہوں۔ لیکن درحقیقت صبر تو اپنے نفس کے خلاف جا کر رب کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا نام ہے جس کے لئے آرام اور نیند قربان کرنی پڑتی ہے۔

غیبت، تہمت اور لغو گفتگو ان سب سے خود کو باز رکھنا بھی صبر ہے۔اور تقدیر میں لکھی گئی آزمائشوں کو شکوہ کناں ہوئے بغیر برداشت کرنا بھی صبر ہے۔تقدیر پر صبر ایمان کا اہم جزو ہے۔جب ہم اقرار کرتے ہیں۔

وَالْقَدْرِ خَيْرِه وَشَرِّه مِنَ الله تَعَالى ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ

اللہ کی جانب سے اچھی بری تقدیر پر، اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان لائے۔

تو ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم اس زندگی کو اللہ کی جانب سے ملنے والا امتحان سمجھتے ہیں اور یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ تقدیر پر شکوہ نہیں کریں گے۔ہم اپنی بساط کے مطابق اس کے احکامات پر عمل کریں گے

نیک کام کیے

سورة العصر میں دنیاوی اور اخروی خسارے سے بچ جانے والوں کی جو چار صفات بیان کی گئ ہیں ان میں صبر بھی شامل ہے۔

اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3)

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔

Leave a Comment