اسلامک معلومات

ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہ

ام کلثوم بنت محمد

ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہ کی پرورش

ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنی کنیت سے ہی مشہور ہیں۔ اپنی باقی بہنوں کی طرح انہوں نے بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی پرورش پائی۔ تربیت حاصل کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ ایمان لے آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیت کی۔ ہجرت تک مکہ میں رہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح

اعلان نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح ابو لہب کے بیٹے سے کر دیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ اعلان نبوت کے بعد اسلام دشمنی کی بنیاد پر ابو لہب نے اپنے بیٹے کو مجبور کیا کہ وہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو طلاق دے دیں۔ اور انہوں نے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے گھر والوں کو یہ صدمہ دین کی خاطر پہچایا گیا۔

ہجرت کے بعد

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ غزوہ بدر کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئیں۔ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی گئی۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوہرا داماد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح اللہ کے حکم سے ہوا۔ اس سلسلے میں انہیں زوالنرین کا لقب ملا یعنی دو نوروں والا۔

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ عمدہ لباس پہنتی تھیں۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کا انتقال بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ہوا۔ چناچہ ماہ شعبان نو ہجری میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سفر آخرت پر چلی گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں انتقال کر جانا اتفاقات قدرت میں سے ہے۔ تین بیٹیوں کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ زندہ تھیں۔ دیکھا جائے تو امت کے لئے تسکین اور تسلی کا نادر نمونہ قائم کیا گیا تھا۔ امت کو بتا دیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد کے معاملے میں یہ صورت پیش آئی کہ ایک صاحبزادی کے سوا کوئی زندہ نا رہی۔ تو اگر ہم پر ایسی صورت آئی تو ہمیں صبر سے کام لینا چاہیے۔

Leave a Comment