اسلامک معلومات اسلامک واقعات

اللہ کے گھر کا طواف کیوں کیا جاتا ہے؟ دلچسپ معلومات

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو بیس (۱۲۰) رحمتیں روزانہ اس گھر (بیت ا للہ) پر نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس خانہ کعبہ کو دیکھنے والوں پر نازل ہوتی ہیں

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:جس نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور دو رکعت اداکیں گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ۔ (ابن ماجہ(* حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجر اسود کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھائیں گے کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جن سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اُس شخص کے حق میں جس نے اُس کا حق کے ساتھ بوسہ لیا ہو۔ (ترمذی ، ابن ماجہ(* حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ان دونوں پتھروں (حجر اسود اور رکن یمانی) کو چھونا گناہوں کو مٹاتا ہے۔ (ترمذی(* حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رکن یمانی پر ستّر فرشتے مقرر ہیں، جو شخص وہاں جاکر یہ دعا پڑھے: (اللّٰهمّ اِنِّی اَسْءَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِية فِی الدُّنْيا وَالْاخِرَۃ رَبّنَا آتِنَا فِی الدُّنْيا حَسَنَة وّفِی الْاخِرَۃ حَسَنَة وّقِنَا عَذَابَ النّارِ)

تو وہ سب فرشتے آمین کہتے ہیں۔ (ابن ماجہ(بیت اللہ کے گرد سات چکر اور دو رکعت نماز پڑھنے کا نام طواف ہے اور ہر چکر حجر اسود کے استلام سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوتا ہے۔ حجر اسود کا بوسہ لینا یا اس کی طرف دونوں یا داہنے ہاتھ سے اشارہ کرنا استلام کہلاتا ہے۔طواف فرض ہو یا واجب یا نفل اس میں سات ہی چکر ہوتے ہیں اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ اگر بیت اللہ کے قریب سے طواف کیا جائے تو سات چکر میں تقریباً ۳۰ منٹ لگتے ہیں، لیکن دور سے کرنے پر تقریباً ایک سے دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ۱۰ ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے میں کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔طواف قدوم یعنی آنے کے وقت کا طواف، یہ اُس شخص کے لئے سنت ہے جو میقات کے باہر سے آیا ہو اورحج افرادیا حج قران کا ارادہ رکھتا ہو، حج تمتع اور عمرہ کرنے والوں کے لئے سنت نہیں۔طواف عمرہ یعنی عمرہ کا طواف ۔طواف زیارت یعنی حج کا طواف جس کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں، یہ حج کا رکن ہے، اس طواف کے بغیر حج پورا نہیں ہوتا ۔

طواف وداع یعنی مکہ سے روانگی کے وقت کا طواف (یہ میقات سے باہر رہنے والے یعنی آفاقی کے لئے ضروری ہے)۔ نفلی طواف۔ حج میں ضروری طواف کی تعداد:حج افراد میں دو عدد (طواف زیارت اور آفاقی کے لئے طواف وداع)۔حج قران میں تین عدد (طواف عمرہ، طواف زیارت اور آفاقی کے لئے طواف وداع)۔حج تمتع میں تین عدد (طواف عمرہ، طواف زیارت اور آفاقی کے لئے طواف وداع)۔آفاقی: پانچ میقاتوں سے باہر کے رہنے والوں کو آفاقی کہا جاتا ہے یعنی اہل حرم اور اہل حل کے علاوہ پوری دنیا کے لوگ آفاقی ہیں۔ اگر کسی عورت کو روانگی کے وقت ماہواری آجائے تو اس کے لئے طواف وداع معاف ہے۔نفلی طواف: نفلی طواف کی کوئی تعداد نہیں، رات یا دن میں جب چاہیں اور جتنے چاہیں کریں۔ باہر سے آنے والے حضرات مسجدحرام میں نفلی نماز پڑھنے کے بجائے نفلی طواف زیادہ کریں۔ اہل حرم اور اہل حل کو حج افراد ہی کرنا چاہئے تاکہ آفاقی لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی طواف کرسکیں۔ یاد رکھیں کہ ہر نفلی طواف کے بعد بھی دو رکعت نماز ادا کرنا ضروری ہے

وضاحت: دو طواف اس طرح اکٹھے کرنا مکروہ ہے کہ طواف کی دو رکعت درمیان میں ادا نہ کریں، لہذا پہلے ایک طواف کو مکمل کرکے دو رکعت ادا کرلیں پھر دوسرا طواف شروع کریں۔ لیکن اگر اُس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہو تو دو طوافوں کا اکٹھا کرناجائز ہے۔ سعودی عرب میں نماز عصر اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہے اور عصر اور مغرب کے درمیان اچھا خاصہ وقت خاص کر گرمیوں میں تقریباً تین گھنٹے ہوتے ہیں، اگر طواف سے نماز عصر کے بعد فراغت ہوئی ہے اور مغرب تک کافی وقت باقی ہے تو طواف کی دو رکعت اُس وقت ادا کرسکتے ہیں، البتہ اگر مغرب کا وقت قریب آگیا ہے تو پھر غروب آفتاب کے بعد ہی ادا کریں۔اہم مسئلہ: معذور شخص جس کا وضو نہیں ٹھہرتا (مثلاً کوئی زخم جاری ہے یا پیشاب کے قطرات مسلسل گرتے رہتے ہیںیا عورت کو بیماری کا خون آرہا ہے ) تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نماز کے ایک وقت میں وضو کرے پھر اس وضو سے اس وقت میں جتنے چاہے طواف کرے، نمازیں پڑھے اور قرآن کی تلاوت کرے، دوسری نماز کا وقت داخل ہوتے ہی وضو ٹوٹ جائے گا۔

اگر طواف مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے تو وضو کرکے طواف کو مکمل کرے۔طواف کے دوران جائز امور:سلام کرنااور بوقت ضرورت بات کرنا۔مسائل شرعیہ بتانا اور دریافت کرنا۔ضرورت کے وقت طواف کو روکنا۔کسی عذر کی وجہ سے وہیل چےئر پر طواف کرنا۔طواف کرنے کا طریقہ: مسجد حرام میں داخل ہوکر کعبہ شریف کے اس گوشہ کے سامنے آجائیں جس میں حجر اسود لگا ہوا ہے اور طواف کی نیت کرلیں۔ اگر طواف کے بعد عمرہ کی سعی بھی کرنی ہے تو مرد حضرات اضطباع کرلیں (یعنی احرام کی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں مونڈھے کے اوپر ڈال لیں) پھر زبان سے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر حجر اسود کا استلام کریں(یعنی حجر اسود کا بوسہ لیں یا اپنی جگہ پر کھڑے ہوکر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو حجر اسود کی طرف کرکے ہاتھ چوم لیں) اور پھر کعبہ کو بائیں طرف رکھ کر طواف شروع کردیں۔ مرد حضرات پہلے تین چکر میں (اگر ممکن ہو) رمل کریں یعنی ذرا مونڈھے ہلاکے اور اکڑکے چھوٹے چھوٹے قدم کے ساتھ کسی قدر تیز چلیں۔

طواف کرتے وقت نگاہ سامنے رکھیں۔ خانہ کعبہ کی طرف سینہ اور پشت نہ کریں یعنی کعبہ شریف آپ کے بائیں جانب رہے۔ طواف کے دوران بغیر ہاتھ اٹھائے چلتے چلتے دعائیں کرتے رہیں۔ آگے ایک نصف دائرے کی شکل کی چار پانچ فٹ کی دیوار آپ کے بائیں جانب آئے گی اس کو حطیم کہتے ہیں، اس کے بعد خانہ کعبہ کے پیٹھ والی دیوار آئے گی، اس کے بعد جب خانہ کعبہ کا تیسرا کونہ آجائے جسے رکن یمانی کہتے ہیں (اگر ممکن ہو) تو دونوں ہاتھ یا صرف داہنا ہاتھ اس پر پھیریں ورنہ اس کی طرف اشارہ کئے بغیر یوں ہی گزر جائیں۔ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلتے ہوئے یہ دعا بار بار پڑھیں: (رَبّنَا آتِنَا فِی الدُّنْيا حَسَنَة وّفِی الْاخِرَۃ حَسَنَة وّقِنَا عَذَابَ النّارِ)۔ پھر حجر اسود کے سامنے پہونچ کر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر حجر اسود کا استلام کریں۔ اس طرح آپ کا ایک چکر ہوگیا، اس کے بعد باقی چھ چکر بالکل اسی طرح کریں۔ کل سات چکر کرنے ہیں۔* طواف کے دوران کوئی مخصوص دعا ضروری نہیں ہے بلکہ جو چاہیں اور جس زبان میں چاہیں دعا مانگتے رہیں۔

یاد رکھیں کہ اصل دعا وہ ہے جو دھیان، توجہ اور انکساری سے مانگی جائے چاہے جس زبان میں ہو۔اگر طواف کے دوران کچھ بھی نہ پڑھیں بلکہ خاموش رہیں تب بھی طواف صحیح ہوجاتا ہے۔* طواف کے دوران جماعت کی نماز شروع ہونے لگے یا تھکن ہوجائے تو طواف روکدیں، پھر جہاں سے طواف بند کیا تھا اسی جگہ سے طواف شروع کردیں۔* نفلی طواف میں رمل اوراضطباع نہیں ہوتاہے۔* اگر طواف کے دوران وضو ٹوٹ جائے توطواف روکدیں اور پھر وضو کرکے اسی جگہ سے طواف شروع کردیں جہاں سے طواف بند کیا تھاکیونکہ بغیر وضو کے طواف کرنا جائز نہیں ہے۔* اگر طواف کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو کم تعداد شمار کرکے باقی چکروں سے طواف مکمل کریں۔* مسجد حرام کے اندر اوپر یا نیچے یا مطاف میں کسی بھی جگہ طواف کرسکتے ہیں۔* طواف حطیم کے باہر سے ہی کریں، اگر حطیم میں داخل ہوکر طواف کریں گے تو وہ معتبر نہیں ہوگا۔* اگر کسی عورت کو طواف کے دوران حیض آجائے تو فورا طواف کو بند کردے اور مسجد سے باہر چلی جائے۔*

خواتین طواف میں رمل (اکڑکر چلنا) نہ کریں، یہ صرف مردوں کے لئے ہے۔ طواف زیارت (حج کاطواف) کا وقت ۱۰ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ بعض علماء نے ۱۳ ذی الحجہ تک وقت تحریرکیا ہے۔ ان ایام میں اگر کسی عورت کو ماہواری آتی رہی تو وہ طواف زیارت نہ کرے بلکہ پاک ہونے کے بعد ہی کرے۔ دو رکعت نماز: طواف سے فراغت کے بعد مقام ابراہیم کے پاس آئیں۔ اُس وقت آپ کی زبان پر یہ آیت ہو تو بہتر ہے : (وَاتَّخِذُوْا مِن مَّقَامِ اِبْرَاهيمَ مُصَلّٰی) اگر سہولت سے مقامِ ابراہیم کے پیچھے جگہ مل جائے تو وہاں ‘ورنہ مسجد حرام میں کسی بھی جگہ طواف کی دو رکعت (واجب) ادا کریں۔* طواف کی دو رکعت کو طواف سے فارغ ہوتے ہی ادا کریں لیکن اگر تاخیر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔* طواف کی ان دو رکعت کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھی جائے۔* ہجوم کے دوران مقامِ ابراہیم کے پاس طواف کی دو رکعت نماز پڑھنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے طواف کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے، بلکہ مسجد حرام میں کسی بھی جگہ ادا کرلیں۔

سعی: صفا ومروہ کے درمیان سات چکرلگانے کو سعی کہا جاتا ہے۔سعی کی ابتدا صفا سے اور انتہاء مروہ پر ہوتی ہے۔ حجر اسود کے سامنے سے ہی صفا کے لئے راستہ جاتا ہے۔ طواف سے فراغت کے بعد زمزم کا پانی پی کر صفا پہاڑی پر چلے جائیں۔ صفا ومروہ دو پہاڑیاں تھیں جو اِن دنوں حجاج کرام کی سہولت کے لئے تقریباً ختم کردی گئیں ہیں۔ جن کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے پانی کی تلاش میں سات چکر لگائے تھے۔ اور جہاں مرد حضرات تھوڑا تیز چلتے ہیں یہ اُس زمانہ میں صفا مروہ پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی تھی جہاں سے ان کا بیٹا نظر نہیں آتا تھا، لہذا وہ اس وادی میں تھوڑا تیز دوڑی تھیں۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اس عظیم قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماکر قیامت تک آنے والے تمام مرد حاجیوں کواس جگہ تھوڑا تیز چلنے کی تعلیم دی، لیکن شریعت اسلامیہ نے صنف نازک کے جسم کی نزاکت کے مدنظر اس کو صرف مردوں کے لئے سنت قرار دیا۔ سعی کا ہر چکر تقریباً ۳۹۵ میٹر لمبا ہے، یعنی سات چکر کی مسافت تقریباً پونے تین کیلومیٹر بنتی ہے۔

نیچے کی منزل کے مقابلہ میں اوپر والی منزل پر ازدحام کچھ کم رہتا ہے۔حج میں ضروری سعی کی تعداد:حج افراد میں ایک عدد (صرف حج کی)۔ حج قران میں دو عدد (ایک عمرہ کی اور ایک حج کی)۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ حج قران میں ایک سعی بھی کافی ہے۔حج تمتع میں دو عدد (ایک عمرہ کی اور ایک حج کی)۔ نفلی سعی: نفلی سعیکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ سعی کے بعض احکام: سعی سے پہلے طواف کا ہونا۔ صفا سے سعی کی ابتدا کرکے مروہ پر سات چکر پورے کرنا۔ صفا پہاڑی پر تھوڑا چڑھ کر‘قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعائیں کرنا ۔ مردوں کا سبز ستونوں کے درمیان تھوڑا تیز تیز چلنا ۔ مروہ پہاڑی پر پہونچ کرقبلہ رخ کھڑے ہوکر دعائیں مانگنا ۔ صفا اور مروہ کے درمیان چلتے چلتے کوئی بھی دعا بغیر ہاتھ اٹھائے مانگنا یا اللہ کا ذکر کرنا یا قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔ سعی کے دوران جائز امور: بلاوضو سعی کرنا، اسی طرح خواتین کا حالت ماہواری میں سعی کرنا۔ سلام کرنا اور گفتگو کرنا۔ ضرورت پڑنے پر سعی کا سلسلہ بندکرنا۔ کسی عذر کی وجہ سے وہیل چےئر پر سعی کرنا۔

سعی کرنے کا طریقہ: صفا پر پہونچ کر بہتر ہے کہ زبان سے کہیں: اَبْدَاُ بِمَا بَدَاَ اللّہُ بِہِ، اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاءِرِ اللّہِ پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے دعا کی طرح ہاتھ اٹھالیں اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں اور اگر یہ دعا یاد ہو تواسے بھی تین بار پڑھیں:(لَا اِلٰہَ الَّا اللّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر، لَا اِلَہَ الَّا اللّہُ وَحْدَہُ، اَنْجَزَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْاحْزَابَ وَحْدَہُ) اس کے بعد کھڑے ہوکر خوب دعائیں مانگیں۔ یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص مقام اور خاص وقت ہے۔ دعاؤں سے فارغ ہوکر نیچے اترکر مروہ کی طرف عام چال سے چلیں۔ بغیر ہاتھ اٹھائے دعائیں مانگتے رہیں یا قرآن کی تلاوت کرتے رہیں۔ سعی کے دوران بھی کوئی خاص دعالازم نہیں البتہ اس دعا کو خاص طور پر پڑھتے رہیں: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمْ، اِنَّکَ اَنْتَ الْاعَزُّ الاکْرَم جب سبز ستون (جہاں ہری ٹیوب لائٹیں لگی ہوئی ہیں) کے قریب پہونچیں تو مرد حضرات ذرا دوڑکر چلیں اس کے بعد پھر ایسے ہی ہرے ستون اور نظر آئیں گے وہاں پہونچ کر دوڑنا ختم کردیں اور عام چال سے چلیں۔

مروہ پر پہونچ کر قبلہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھاکر دعائیں مانگیں، یہ سعی کا ایک پھیرا ہوگیا۔ اسی طرح مروہ سے صفا کی طرف چلیں۔ یہ دوسرا چکر ہوجائے گا۔ اس طرح آخری وساتواں چکر مروہ پر ختم ہوگا۔ ہر مرتبہ صفا اور مروہ پر پہونچ کر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے دعائیں کرنی چاہئیں۔ سعی سے متعلق چند مسائل:سعی کے لئے وضو کا ہونا ضروری نہیں البتہ افضل وبہتر ہے۔ حیض (ماہواری)اور نفاس کی حالت میں بھی سعی کی جاسکتی ہے یعنی اگر کسی عورت کو طواف سے فراغت کے بعد ماہواری آجائے تو وہ سعی ناپاکی کی حالت میں کرسکتی ہے لیکن اس کو چاہئے کہ وہ سعی سے فراغت کے بعد مروہ کی جانب سے باہر چلی جائے، مسجد حرام میں داخل نہ ہو۔ البتہ طواف حیض یا نفاس کی حالت میں ہرگز نہ کرے بلکہ مسجد حرام میں بھی داخل نہ ہو۔* طواف سے فارغ ہوکر اگر سعی کرنے میں تاخیر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔* سعی کا طواف کے بعد ہونا شرط ہے، طواف کے بغیر کوئی سعی معتبر نہیں خواہ عمرہ کی سعی ہو یا حج کی۔*

سعی کے دوران نماز شروع ہونے لگے یا تھک جائیں تو سعی روکدیں، پھر جہاں سے سعی روکی تھی، اسی جگہ سے دوبارہ شروع کردیں۔* اگر سعی کے چکروں کی تعداد میں شک ہوجائے تو کم تعداد شمار کرکے باقی چکروں سے سعی مکمل کریں۔* خواتین سعی میں سبز ستونوں (جہاں ہری ٹیوب لائٹیں لگی ہوئی ہیں) کے درمیان مردوں کی طرح دوڑکر نہ چلیں۔

Leave a Comment