اسلامک وظائف

اللہ کے نام الرقیب کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

Al Raqeeb

الرقیب اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الرقیب کے معنی نگران کے ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ (النساء 11)الرقیب وہ ہوتا ہے۔ جو اپنی سماعت کے ذریعے تمام مسموعات اور اس کی بصارت تمام دکھائی دینے والی اشیاء کا احاطہ کرے اس کا علم اتنا وسیع ہو کہ وہ جلی وخفی ہر قسم کی معلومات کا احاطہ کرے بلکہ دلوں میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں جن کو ابھی تک زبان تک نہ لایا گیا ہو وہ ان کو بھی جانتا ہو۔

وہ صرف اور صرف اللہ ہے۔ الرقیب ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ بندوں کے احوال افعال جاننے والا۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ہمہ وقت اور ہر حال میں اللہ ہی پر نظر رکھے اس کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کرے کہ ماسوا اللہ کی طرف التفات ظاہر ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے جن کی نگہبانی اور دیکھ بھال پر مقرر فرمایا ہے ان کی نگہبانی اور دیکھ بھال میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کرے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تم سب راعی یعنی نگہبان ہو اور تم سب سے اپنی رعیت کے بارے میں محاسبہ کیا جائے گا یعنی جن کی نگہبانی اور خبر گیری پر تمہیں متعین کیا گیا ہے ان کی نگہبانی اور خبر گیری کا حال تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنا فرض کہاں تک ادا کیا؟ قشیری کہتے ہیں کہ اس طائفہ یعنی اولیاء اللہ کی جماعت کے نزدیک مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ پر دل کے ساتھ ۔ اللہ کی یاد غالب ہو اور یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے حال پر مطلع ہے لہٰذا وہ ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہر دم اس کے عذاب سے ڈرے چنانچہ صاحب مراقبہ اللہ تعالیٰ کی حیا اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خلاف شرع باتیں اس شخص سے زیادہ چھوڑتا ہے جو عذاب خداوندی کے ڈر سے گناہ چھوڑتا ہے اور جو شخص اپنے دل کی رعایت کرتا ہے یعنی ضمیر کے صحیح تقاضے پر ہی عمل کرتا ہے تو اس کا کئی لمحہ خدا کی یاد اور اس کی اطاعت سے خالی نہیں رہتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل کا حساب لے گا خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹا عمل ہو یا بڑے سے بڑا۔ چنانچہ ایک ولی کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے انتقال کے بعد انہیں کسی نے خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور مجھ پر اپنا احسان فرمایا لیکن پورا حساب لیا یہاں تک مجھ سے اس عمل کا بھی مواخذہ کیا کہ ایک دن میں روزے سے تھا جب افطار کا وقت ہوا تو میں نے اپنے ایک دوست کی دکان سے گیہوں کا ایک دانہ اٹھا لیا اور پھر سے توڑا، معاً مجھے خیال آیا کہ گیہوں کا یہ دانہ میری ملکیت میں نہیں ہے یہ خیال آتے ہی میں نے اس دانے کو اس جگہ ڈال دیا چنانچہ اب جب کہ میرا حساب لیا گیا تو اس گیہوں کے توڑنے کی بقدر نیکی میری نیکیوں سے لی گئی۔

غور کرنے کی بات ہے کہ جس شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ اسے ایک دن خدا کی بارگاہ میں اتنی چھوٹی سے چھوٹی سے باتوں کا بھی حساب دینا ہے تو کیا وہ گوارا کرے گا کہ اپنی عمر عزیز باطل چیزوں میں ضائع کرے۔ اور اپنے وقت کوتاہیوں اور غفلتوں کی نذر کر دے؟ حدیث شریف میں منقول ہے کہ تم اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے۔علامہ اسماعیل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا اور اعمال کا حساب ہوناہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے ا س کے اعمال کا حساب لینا ہے تو عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ حساب کے معاملے میں جرح ہونے سے پہلے ہی اپنے نفس کا محاسبہ کر لے کیونکہ انسان راہِ آخرت میں تاجر ہے، اس کی عمر اس کا مال و متاع ہے، اس کا نفع اپنی زندگی کو عبادات اور نیک اعمال میں صرف کرنا ہے اور ا س کا نقصان گناہوں اور معاصی میں زندگی بسر کرنا ہے اور ا س کا نفس اس تجارت میں اس کا شریک ہے اور نفس اگرچہ نیکی اور برائی دونوں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ نیکی کے مقابلے میں گناہوں اور نفسانی خواہشات کی طرف زیادہ مائل اور متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا محاس بہکرنا انتہائی ضروری ہے ۔امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’انسان کو چاہئے کہ رات سوتے وقت ایک گھڑی مقرر کرے تاکہ وہ اپنے نفس سے اس دن کا سارا حساب کتاب لے سکے اور جس طرح کاروبار میں شریک شخص سے حساب کرتے وقت (انتہائی احتیاط اور) مبالغہ سے کام لیا جاتاہے اسی طرح اپنے نفس کے ساتھ حساب کرتے ہوئے بہت سی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ نفس بڑا مکار اور حیلہ ساز ہے، وہ اپنی خواہش کو انسان کے سامنے اطاعت کی شکل میں پیش کرتا ہے تاکہ انسان اسے بھی نفع شمار کرے حالانکہ وہ نقصان ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے نفس سے مباحات تک کا حساب لے کہ یہ تونے کیوں کیا، یہ تو نے کس کے لئے کیا اور اگراس میں کوئی عیب دیکھے تو اپنے نفس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے (لیکن افسوس کہ فی زمانہ) انسان کس طرح فارغ ہے کہ وہ اپنے نفس سے حساب نہیں لیتا، اگر انسان ہر گناہ پر اپنے گھر میں ایک پتھر بھی رکھتا جائے تو تھوڑے دنوں میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائے گا، اگر کراماً کاتبین اس انسان سے لکھنے کی مزدوری طلب کریں تو ا س کے پا س کچھ باقی نہ رہے گا۔

اگر انسان کبھی غفلت میں چند بار سُبْحَانَ اللہ پڑھتا ہے تو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں نے یہ سو مرتبہ پڑھ لیا جبکہ سارا دن بیہودہ بکواسات کرتا پھرتا ہے انہیں شمار نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں شمار کرنے کے لئے کوئی ایسی چیز ہاتھ میں لیتا ہے تاکہ ا سے معلوم ہو جائے کہ میں نے سارے دن میں کتنے گناہ کئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے باوجود یہ سوچنا کہ میرا نیکیوں کا پلڑ اوزنی ہو جائے کتنی بے عقلی ہے! اسی لئے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال تولے جائیں تم اپنے اعمال کا خود جائزہ لے لو۔ اور اپنا محاسبہ کرنے میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کیفیت یہ تھی کہ جب رات ہوتی تو اپنے پاؤں پر درے لگاتے اور کہتے کہ بتا تو نے آج کیا کیا۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُکو ایک دیوار کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سنا ’’واہ واہ! لوگ تجھے امیرُ المؤمنین کہتے ہیں لیکن خدا کی قسم ! تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور اس کے عذاب میں مبتلا ہونے کو تیار رہتا ہے۔اللہ تعالی کے اسم الرقیب کے فوائد و برکات میں سے ہے جو شخص اپنی بیوی، اپنی اولاد، اور اپنے مال پر اس اسم پاک کو سات مرتبہ پڑھ کر ان کے چاروں طرف دم کرے وہ تمام دشمنوں اور تمام آفات سے بے خوف ہو جائے گا۔* جوشخص اپنے اہل وعیال ومال ومنا ل پر سات مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھ کر روزانہ دم کیا کرے اور یَارَقِیْبُ کاورد رکھے ،انشاء اللہ وہ تمام آفتوں سے محفوظ رہے گا ۔* اگر حمل کے ضائع ہونے کا خطر ہ ہو تو عورت اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر سات باراس اسم مبارک کو پڑھے،انشاء اللہ بچہ ضائع ہونے سے محفوظ رہے گا۔

اگر سفر میں کسی بال بچے کی طرف سے فکر ہوتو اس کی گردن پر ہاتھ رکھ کر اس اسم مبارک کوسات مرتبہ پڑھے انشاء اللہ وہ بچہ سفر میں محفوظ رہے گا ۔* جوکوئی پھوڑے وپھنسی پر تین بار یہ اسم مبارک پڑھ کر پھونک دے انشاء اللہ شفا حاصل ہوگی۔ *جوکوئی اپنا مال واسباب ( گاڑی وغیرہ ) کہیں چھوڑتے وقت اس اسم کو پڑھ لے توانشاء اللہ چوری سے حفاظت رہے گی۔ مجرب ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنی صفت الرقیب کے صدقے عذاب قبر سےحفاظت فرمائے اور جنت کی نعمتیں بھی عطا فرمائے ۔ آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment