اسلامک وظائف

اللہ کے صفاتی نام الصمد کا انوکھا عمل وظائف

Al Samad

الصمداللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الصمد کے معنی سردار،ر ب،بے نیاز، غیر محتاج کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ بے نیاز ہے۔الصمد: وہ ہوتا ہے۔ جو نہ کسی کی اولاد ہو اور نہ جس کی کوئی اولاد ہوالصمد، وہ ہوتا ہے۔ جو کسی کا محتاج نہ ہو اور ہر چیز اس کی محتاج ہو،الصمد: عظمت والے سردار کو کہتے ہیں جو اپنے علم، حکمت و حلم، قدرت، عزت اور سب صفات میں با کمال ہو۔ تمام مخلوقات جس کی محتاج ہوں۔

اور کائنات میں بسنے والی تمام اشیاء اپنے تمام معاملات میں اس کی کلی محتاج ہوں۔ مصائب و آفات میں اسی کو پکارتی ہوں۔ اور جب غم و اندوہ کی کرب ناکیاں ان کو گھیر لیں تو وہی ان کا مقصود و مطلوب ہوتا ہے۔ اور جب حزن و ملال کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ان پر چھا جاتے ہیں تو اللہ ہی سے وہ فریاد کرتے ہیں کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ وہی ان کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اور وہی ان کی پریشانیاں اور کرب والم کھول سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا علم، کامل و اکمل ہے اور اس کی رحمت واسع ہے۔ اس کی شفقت، مخلوق کے ساتھ محبت، لطافت اور رحم و کرم بیکراں و لامحدود ہے۔ اس کی قدرت و سلطنت عظیم ترین ہے۔بے پروا کہ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج۔ یعنی جس میں کوئی نفوذ نہ کر سکے ۔ جس میں خلل واقع نہ ہو جو متغیر نہ ہو ۔وہ صمد ہے :پس مادہ نہیں ہے اور نہ ہی مادہ سے ہے ۔ اس لئے کہ ہر مادی چیز میں زمانہ گزرنے کے ساتھ خلل اور تغیر پیدا ہوتا ہے لہذا وہ نہ تو جسم رکھتا ہے جسے آنکھوں سے دیکھا جاسکے اور نہ ہی قوت جاذبہ کی طرح ہے کہ جو دکھائی نہیں دیتی لیکن مادی خاصیت رکھتی ہے ۔وہ صمد ہے : جسکی قدرت میں کوئی نفوذ نہیں کر سکتا مگراس کا ارادہ ہر چیز میں نافذ و جاری ہے۔ وہ صمد ہے : اس کی عزت میں خلل واقع نہیں ہوتا اور تمام عزتیں اسی سے ہیں ۔ جو بھی عزت و قدرت رکھتا ہے وہ اسی کی دی ہوئی ہے اور وہ کسی شخص یا کسی چیز کا محتاج نہیں لیکن ساری چیزیں اس کی محتاج ہیں ۔وہ صمد ہے : اس کی ہستی کامل و اکمل ہے بلکہ مکمل کمال ہے ۔ اس میں تمام کمالات ،کمال کی آخری بلندی کے ساتھ موجود ہیں ۔ تمام موجودات، کمال تک پہنچنے کے لئے اس کی نظرِ لطف و کرم کے محتاج ہیں لیکن وہ کسی موجود کا محتاج نہیں وہ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا ۔

اس کا حکم تمام حکموں کے اوپر اس کا ارادہ تمام ارادوں پر حاکم ہے ۔ اس کو نہ سونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کام کے انجام دینے میں کسی مدد یا مددگار کا محتاج ہے ۔وہ صمد ہے : ایک جملہ میں : سب اس کے نیاز مند ہیں ۔وہ ہستی ہے جو پوری مخلوق اور بادشاہی کی مالک ہو،اور حکم بھی صرف اسی کا چلتا ہو،پس اللہ تعالیٰ کے علاوہ (نہ) کوئی دوسرا خالق ہے نہ کوئی دوسرا مالک ہے،اور حاکم مطلق بھی وہی ہے۔اس کے علاوہ کوئی دوسرا حاکم نہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا (سورۃ الاعراف،آیت 54)اور ایک مقام پر ارشاد ہوا: یہی الله تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہی ہے اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ ایک گھٹلی کے چھلکے کے مالک نہیں (سورۃ فاطر،آیت 13)مخلوق میں سے کسی نے کبھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار نہیں کیا۔سوائے ان لوگوں کے جن کو تکبر کا مرض لاحق ہو گیا تھا لیکن وہ بھی جو کچھ کہتے تھے خود اس پر عقیدہ نہ رکھتے تھے جیسا کہ فرعون کے اس خطاب سے ظاہر ہے جو اس نے اس قوم سے کیا تھا: کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا پروردگار میں ہوں (سورۃ النازعات،آیت 24)ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے دعوائے فرعونی کو ان الفاظ میں بیان کیا: اے سردارو! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا او رکوئی معبود ہے (سورۃ القصص ،آیت 38(لیکن فرعون کا یہ دعوی عقیدے کی بنیاد پر نہیں تھا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور انہوں نے انکا ظلم اور تکبر سے انکار کرد یا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے (سورۃ النمل،آیت 14)اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون سے جو کچھ فرمایا تھا،قرآن کریم میں اس کی حکایت یوں بیان ہوئی ہے،موسی علیہ السلام نے فرمایا: انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔

اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے (سورۃ بنی اسرائیل،آیت 102)اسی طرح مشرکین عرب بھی اللہ تعالیٰ کی الوہیت ،یعنی اس کو ایک جاننے میں شرک کے باوجود اس کی “ربوبیت”کا اقرار کرتے تھے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ان سے پوچھو یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے اگر تم جانتے ہو وہ فوراً کہیں گے الله کاہے کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے وہ فوراً کہیں گے الله ہے کہہ دوکیاپھر تم الله سے نہیں ڈرتے ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو وہ فوراً کہیں گے الله ہی کے ہاتھ میں ہے کہہ دو پھرتم کیسے دیوانے ہو رہے ہو (سورۃ المومنون،آیت84-89)اور ایک جگہ یوں ارشاد ہے: اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے کہ انہیں اس بڑے زبردست جاننے والے نے پیدا کیا ہے (سورۃ الزخرف،آیت 9ایک اور جگہ فرمایا: اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے الله نے پھر کہا ں بہکے جا رہے ہیں (سورۃ الزخرف،آیت 87(اللہ تعالی کے اس اسم الصمدسے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنی ہر حاجت میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے، اپنے رزق سے بے فکر رہے، اس کی ذات پر توکل کرے دنیا کی حرام چیزوں سے بچے دنیا کی زینت کی چیزوں کی طرف رغبت نہ کرے، دنیا کی حلال چیزوں کے حصول کی بھی ہوس نہ کرے، مخلوق سے اپنے آپ کو بے پروا رکھے اور مخلوق خدا کی حاجت روائی کی سعی و کوشش کرتا رہے۔ اللہ تعالی کے اس اسم الصمدکے فوائد و برکات میں سے ہے کہ جو شخص بوقت سحر یا آدھی رات کو سجدہ کرے اور اس اسم پاک کو ایک سو پندرہ بار پڑھے اللہ تعالیٰ اسے صادق الحال بنائے گا اور کسی ظالم کے ہاتھ نہیں لگے گا۔

اور جو شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا رہے وہ بھوکا نہیں رہے گا۔ اور اگر حال وضو میں اسے پڑھے گا تو مخلوق خدا سے بے پروا ہو۔* جوشخص سحر کے وقت سجدہ میں سررکھ کر (۱۱۵) یا (۱۲۵) مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھے گا اس کوانشاء اللہ ظاہر ی وباطنی سچائی نصیب ہوگی ۔ *اور جوشخص باوضواس اسم مبارک کاور دجاری رکھے وہ انشاء اللہ مخلوق سے بے نیاز ہوجائے گا ۔ اور کبھی ظالموں کے ہاتھ میں گرفتار نہ ہوگا ۔ اور جب تک اس اسم مبارک کاذکر کرتا رہے گا بھوک کااثرنہ ہوگا ۔* جوشخص فجر اور عشاء کی نماز کے بعد ہزار ( ۱۰۰۰) با ر اللّٰہُ الصَّمَدُ پڑھے گااس کے تمام کام آسان اور مشکلیں رفع ہوجائیں گی ۔ *اور جو ہرنماز کے بعد سوبار پڑھے گا غم وفکرسے نجات پائے گا ۔ *جوشخص بیس ( ۲۰)دن تک روزانہ ہزار بار اللّٰہُ الصَّمَد پڑھے بادشاہ اور امر اء اس کے لئے مسخر ہوں گے۔ *جس عورت کاشوہر ظالم ہووہ دس بار بِسْمِ اللّٰہِ الصَّمَدِ پڑھ کر تصور میں اس کے ماتھے پر پھونک مارے اور کسی چیز پر دس بار پڑھ کر دم کرکے اسے کھلائے ۔ وہ ظلم سے باز آجائے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت صمد کے صدقے صرف اپنی ذات کا محتاج رکھے اور کسی دوسری ذات کا محتاج بننے سے بچائے ۔ آمین

Leave a Comment