اسلامک معلومات

اللہ کے دو خوبصورت ناموں کے معنی تفصیل سے

ویسے تو اللہ تعالی کے بے شمار نام ہیں-لیکن ہمیں اللہ کے 99 ناموں سے زیادہ واقف ہیں-بچوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ اللہ کے 99 نام ہیں-ان کو حفظ بھی کروایا جاتا ہے-اور ہمیں خود بھی شوق ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کے سارے نام یاد ہوں-

اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے “الخافض” یعنی “پست کرنے والا”- پست کرنے سے مراد ہے شکست دے دینا یا مغلوب کر دینا-ہمارے پاس آج جتنی بھی مال و دولت ہے اللہ کی دی ہوئی ہے ہم اپنی مرضی کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہلا سکتے پھر جب وہ ہمیں نوازتا ہے تو ہم میں غرور کیوں آجاتا ہے؟ہم ہر چیز میں اس کے محتاج ہے اس نے قرآن میں صاف صاف بتا دیا ہے کہ اگر اس نے نوازا ہے تو چھین بھی سکتا ہے-ہمیں تاریخ میں کتنے ہی واقعات ملتے ہیں جس میں اللہ نے غرور و تکبر کرنے والے کو کہیں کا نہیں چھورا- اس لیے جب وہ عطا کرے تو یا شہرت سے نوازے تو “الخافض” اس کا نام اپنے ذہن میں نقش کر لیں کے اس نے دیا ہے تو وہ لے بھی سکتا ہے-بجائے غرور و تکبر کے اس کا شکریہ ادا کریں-جنگ احد کی مثال لے لیں-اس میں مسلمانوں کی تعداد دشمنوں سے زیادہ تھی-ان میں سے کچھ لوگ غرور کرنے لگے تھے کہ ہماری تعداد زیادہ ہے ہمیں کوئی نہیں شکست دے سکتا-لیکن بعد میں کیا ہوا تھا؟اللہ  نے ام کو شکست سے دوچار کیا تھا-اور یہ سبق دیا کہ پستی اور بلندی اس کے اختیار میں ہے-اگر وہ بلندی عطا کرتا ہے تو اس کا شکر کرو اور عاجزی دکھاو ناکہ اکڑ کر چلنا شروع کر دو-

اور دوسرا ایک نام اس کے بلکل متضاد ہے- “ارافع” یعنی “بلند کرنے والا”- بلندی کو ہم لوگ اچھا بینک بیلنس اچھے کپڑے اور اچھے بنگلے کے معانی میں لے لیتے ہیں-ہاں یہ چیزیں بھی اللہ کی عطا کردہ ہوتی ہیں-اس میں تو کوئی شک نہیں ہے-لیکن بلندی کا مطلب کردار کا بلند ہونا ہوتا-اگر لوگ اپ کو اچھے نام سے یاد کرتے ہیں- معاشرے میں آپ کی عزت ہے تو یہ اللہ تعالی کی دین ہے-اس نے ہمارے گناہ دنیا سے چھپا رکھے ہوتے ہیں-ہمارے اندر کوئی نا کوئی برائی ضرور ہوتی ہے لیکن اللہ اسے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا-اگر وہ ظاہر کر دے تو جو بلند مقام اس نے عطا کیا ہے وہ پست ہو کر رہ جائے-ایمان کا مضبوط ہونا پھر اس پر عمل کرنا اللہ کے احکامات کی پیروی کرنا یہ ہوتا ہے بلند ہونا-اس طرح کی بلندی اللہ تعالی کسی کسی کو عطا کرتا ہے-ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جق مقام عزت اللہ نے دیا ہے اس کا شکر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگون کا فائدہ بھی کرتے رہیں-اگر اللہ نے وافر دولت سے نوازا ہے تو اسی لیے ہی نوازا ہے کہ جو آپ سے نیچے ہیں ان کی مدد کر سکیں-اللہ آپ کے ظرف کو آزما رہا ہوتا ہے-وہ کہتے نا اللہ سب لے کر بھی آزماتا ہے اور سب دے کر بھی-

Leave a Comment