اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام رحمن کا مجرب عمل رزق کی فراخی کے لئے۔

Al Rehman

اللہ تعالی کی حقیقی صفت اور صفت کمال ہے جو اس کے شایان شان ہے اور مخلوق کے مشابہ نہیں ہے، اور اس کا معنی معلوم ہے لیکن کیفیت کا علم وادراک اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے- رحمت اللہ تبارک وتعالی کی صفت بھی ہے اور فعل بھی ہے۔ سارے جہاں میں جو بھی اور جتنی بھی نعمتیں، برکتیں، الطاف وعنایات، رحمتیں، نوازشیں اور مہربانیاں ہیں وہ سب اللہ عز وجل کی صفت رحمت کی وجہ سے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہیں اور اس کے آثار میں سے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالی کی رحمت کل کائنات میں ظاہر، تمام مخلوقات میں عیاں، سب کو شامل اور ساری چیزوں پر محیط ہے۔ اللہ عز وجل کی رحمت اس کے دین وشریعت اور حدود واحکام میں بھی ظاہر ہے۔ اللہ تبارک وتعالی کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت اور غلبہ حاصل ہے۔ ایک ماں اپنے بچے پر جس قدر مہربان ہوتی ہے اللہ سبحانہ وتعالی اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت کے سو (100) حصے ہیں؛ دنیا میں اس کا صرف ایک (1) حصہ نازل کیا گیا ہے جس سے مخلوقات باہم ایک دوسرے پر رحم کرتی ہیں؛ اور باقی ننانوے (99) حصے اللہ نے اپنے پاس رکھے ہیں جن سے وہ اپنے بندوں پر قیامت کے دن رحم فرمائےگا۔دنیا میں اللہ عز وجل کی رحمت سب کے لئے عام ہے لیکن آخرت میں مومنوں کے لئے خاص ہوگی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالی کا ایک صفاتی نام رحمن ہے ،الرَّحْمٰنُ کا معنی ہے(بے حد رحم کرنے والا) (۲۹۸) یہ اللہ کا صفاتی نام ہے اور اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے اور یہ اللہ کی دائمی صفت ہے ۔الرحمن کا مطلب ہے بہت زیادہ رحم کرنے والا۔ اس صفت ’’الرحمن‘‘ کی وجہ سے دنیا میں بلا تخصیص مومن و کافر سب فیض یاب ہوتے ہیں۔’’الرحمٰن‘‘ کی خصوصیات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں جیسے کہ وہ رحمٰن ہی ہے جو عرش پر مستوی ہے۔[طٰہٰ:5]وہ رحمٰن ہی ہے جو بنی نوع انسان کا محافظ ہے۔ [الانبیاء:43]وہ رحمٰن ہی ہے جو بخوبی پوری کائنات کا نظام چلارہا ہے۔[الملک:19وہ رحمٰن ہی ہے جو خوف زدہ لوگوں کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔[مریم:18]وہ رحمٰن ہی ہے جو بندوں کی مدد فرماتا ہے۔[الانبیاء:112]وہ رحمٰن ہی ہے جس کی خشیت (ڈر) ایمان کا حصہ ہے۔ [ق:33]وہ رحمٰن ہی ہے جس کی تخلیق میں کوئی عیب نہیں۔[الملک:3]وہ رحمٰن ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے قرآن سکھایا اور بولنا سکھایا۔[الرحمٰن:1-4]

وہ رحمٰن ہی ہے جس کے سامنے تمام مخلوقات غلام بن کر آئیں گی۔[مریم:93]وہ رحمٰن ہی ہے جو نیک لوگوں کو اپنی محبت کے انعام سے نوازے گا۔[مریم:96]اللہ تعالی کے اس صفاتی نام کی برکات وثمرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے اللہ تعالی کے اس بابرکت نام پر قرآن کریم میں ایک مکمل سورت موجود ہے ۔ چناچہ مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ’‘میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا جس میں حجر اسود نصب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ ابھی جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے ہانکے پکارے کہہ دو) کا فرمان الٰہی نازل نہیں ہوا تھا۔ کہ مشرکین اس نماز میں آپ کی زبان سے فَبِاَئِ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ کے الفاظ سن رہے تھے ‘‘۔ ترمذی، حاکم اور حافظ ابوبکر بزار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے۔ کہ جب لوگ سورہ رحمٰن کو سن کر خاموش رہے تو حضورؐ نے فرمایا لقد ۔۔ یعنی ’’ میں نے یہ سورۃ جِنوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے۔ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، حمد تیرے ہی لیے ہے۔‘‘اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورہ احقاف (آیات 29۔ 32) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس موقع پر حضورؐ نماز میں سورہ رحمٰن تلاوت فرما رہے تھے۔

یہ 10 نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھیرے تھے۔ اگر چہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ معلوم نہ تھا کہ جن آپ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ وہ آپ کی تلاوت سن رہے تھے، لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو جِنوں کی سماعت قرآن پر مطلع فرمایا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہو کہ سورہ رحمٰن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جا رہے تھے۔ دنیامیں عمومی طورپر انسان مالی پریشانیوں میں جکڑا رہتاہے لیکن اس کا حل بھی قرآن مجید میں موجود ہے ، سورة رحمان کی تلاوت کرنے سے نہ صرف آپ کے رزق میں کشادگی ہوتی ہے بلکہ قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے.رزق کی فراخی کے لئے ہر روز نماز عشاء کے بعد تین بار سورة رحمان پڑھے. اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے. ہر روز عشاء کی نماز کے بعد یہ وظیفہ بلا ناغہ پڑھنے کا معمول بنالیا جائے تو رب تعالیٰ کے فضل و کرم سے کبھی رزق میں کمی واقع نہ ہوگی.جس کسی پر بہت زیادہ قرض واجب الادا ہو اور وہ قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد اول گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے، پھر 11 بار سورہ رحمان پڑھے. پڑھنے کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے. حق تعالیٰ نے چاہا تو غیب سے قرض کی ادائیگی کا سامان پیدا ہوجائے گا اور پریشانی جاتی رہے گی ۔ یہ تو فوائد و برکات تھے سورہ رحمن کے جو اللہ تعالی کے صفاتی نام سے موسوم ہے ، اب ذرا اللہ تعالی کے اس بابرکت نام کے فوائدو برکات بھی سنئے اور ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے ۔* جوشخص روزانہ ہرنماز کے بعد سومرتبہ ’’ یَا رَحْمٰنُ ‘‘ پڑھے گا اس کے دل سے انشاء اللہ ہرقسم کی سختی اور غفلت دور ہوجائے گی ۔* اگر کوئی شخص ’’ اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ‘‘ کولکھ کر اور دھوکر وہ پانی کسی درخت کی جڑمیں ڈال دے تو درخت کے پھل میں برکت ہو گی۔* اسی طرح طالب ومطلوب کانام مع والدہ کے لکھ کر باند ھے تو مطلوب اسکی محبت میں سرگر داں ہوجائے ۔ *اور اگر کسی کو گھو ل کر پلائے تواس کے دل میں طالب کی محبت ہو ‘ بشر طیکہ محبت جائز ہو۔

* اس اسم کو کثرت سے پڑھنے والا ہر امرِ مکروہ سے محفوظ رہتا ہے ۔*اسےلکھ کراوردھوکرپلانے سے گرم بخار سے شفانصیب ہوتی ہے۔*جوکوئی اس اسم کو صبح کی نماز کے بعد دو سواٹھا نوے بارپڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر بہت رحم فرمائے گا ۔*جو کوئی اکتالیس دن تک روزانہ اکتالیس ( ۴۱) بار (یَارَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ وَ یَارَحِیْمَھُمَا ) پڑھے گا اس کی ضرورت وحاجت آسانی سے پوری ہوگی ۔* جوکسی جابر حکمران کے پاس جاتے وقت (یَارَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ) پڑھتا جائے اللہ تعالیٰ اسے ظالم کے شر سے بچا لیتے ہیں اور خیر عطا فرماتے ہیں۔یارحمٰن ۔ * ہر نماز کے بعد 100 دفعہ ورد کیا جائے تواس کی برکت سے ناصرف یاداشت میں اضافہ ہوگا ، بلکہ خشوع قلب کی دولت بھی ملے گی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کے فضائل و برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment