اسلامک معلومات

اللہ تعالی کے نام “الوکیل” اور ” القوی” کا تفصیلی مطلب

الوکیل سے مراد “کارساز حقیقی” ہے-ہم کبھی کبھی ایسے مسئلوں میں بھی پڑ جاتے ہیں جب ہمیں سب چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ہم بلکل تنہا رہ جاتے ہیں-یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہماری ہر خوشی میں شریک ہوتے ہیں-جب تک ہمارے حالات سہی چل رہے ہوتے ہیں ان کے بھی ہمارے ساتھ تعقات سہی چل رہے ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی مشکل آن پڑتی ہے اور ایسی مشکل جس میں سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے تو یہ لوگ کہیں نظر نہیں آتے-اور پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا ہمارا کوئی نہیں وہ واحد ہستی ہے جو بغیر کسی غرض کے ہماری مدد کرتی ہیں ہمارے درد اور دکھ سنتی ہے-اللہ تعالی کو اپنے بندے سے بہت پیار ہے-وہ ہمیں تکلیف سے گزارتا ہی اسی لیے ہے تاکہ ہمیں دنیا کے اصل رنگ دکھا سکے اور یہ بتا سکے کہ آخر میں صرف اللہ ہی ہمارا حامی و ناصر ہوتا ہے-

القوی سے مراد “صاحب قوت ” ہے- لوگوں کے ساتھ ظلم ہوتے ہیں لیکن وہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ سامنے والا طاقت ور ہوتا ہے اثرورسوخ رکھتا ہے-لیکن ایک ایسی ذات موجود ہے جو اپنے بندوں پر ظلم نہیں ہونے دیتی-اللہ مظلوم کو کبھی رسوا نہیں ہونے دیتا-دنیا والے ظالم کو سزا دیں یا نا دیں لیکن اللہ تعالی سب سے بہترین چال چلنے والا ہے-ظالم کو ظلم کر کے لگتا کے کہ وہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے ایک ذات ہے

جس کے سامنے وہ خاک بھی نہیں- دنیا والے جتنی مرضی چالیں چل لیں اپنے جرموں پر جتنا مرضی پردہ ڈال لیں لیکن وہ ذات ہر پردہ فاش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے-

Leave a Comment