اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام المھیمن کا معنی مفہوم فوائد وظائف

مھیمن

مھیمن اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ المھیمن کے معنی ہیں ” نگہبان ہر چیز کا اچھی طرح محافظ نگہبان۔المُھَیْمِنُ کہتے ہیں یعنی پرندے نے اپنے پر اپنے بچے پر بچھا دیے۔ جیسے مرغی خطرہ کے وقت اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے۔ لہذا مہیمن وہ ذات ہے جوکسی کو خوف سے امن دے، (2) ہر وقت نگہبانی رکھے اور (3) کسی کا کوئی حق ضائع نہ ہونے دےالمہیمن : کا ایک معنی گواہ ہے۔

اور اس کو بھی کہتے ہیں جو کسی کو خوف سے امان دے۔ وہ ان پر نگران اعلی ہے ان کے ظاہری اعمال اور ان کے مخفی اعمال اس سے پوشیدہ نہیں بلکہ جو ان کے سینے کے پوشیدہ راز ہیں ان کو بھی وہ جانتا ہے۔ اس کا علم ہر شے پر محیط ہے۔سورہ حشر میں ارشاد باری تعالی ہے :سلامتی دینے والا، امن دینے والا اور نگہبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے امن دیا اور قیامت کے روز فزع اکبر سے امن دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں پر اطمینان و سکینت نازل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے ظلم سے بھی امن دیا۔ اللہ تعالی بندوں کا نگہبان کیسے ہے ؟ قرآن کریم کی جن دو آیات میں اس طرف اشارہ کیا ہے ان میں سے پہلی اس طرح ہے:شاہدہیں آسمان اور رات میں نمودارہونے والے اورتم کیاسمجھے کہ کیاہیں رات میں نمودارہونے والے !دمکتے ستارے !کہ کوئی جان نہیں کہ اس پر نگہبان نہیں ۔ (طارق1۔4 :86)ان آیات کے آخری حصے میں ان فرشتوں کا ذکر ہے ۔ان کی نگہبانی کی نوعیت کی وضاحت میں عرض ہے :’’ستاروں کی شہادت اس دعوے پرکہ اللہ تعالیٰ نے ہرجان پرنگران مقررکر رکھے ہیں ایک تواس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خداکی مقررکی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھرجاگتی اورٹکٹکی لگائے زمین والوں کوگھورتی رہتی ہیں کسی کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے ۔سائنس کی ایجاد کردہ بڑ ی سے بڑ ی دوربینوں کے اندربھی وہ طاقت نہیں ہے جوآسمان کے معمولی سے معمولی ستاروں کے اندرہے جن کی روشنی تہ بہ تہ فضاؤں کوچیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے ۔جوخدا اپنی قدرت کی یہ شان ہرشب میں ہمیں دکھا رہا ہے اس کے متعلق یہ تصورکہ اس کی نگا ہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل رہ سکتی ہے صرف اس شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جوعقل سے بالکل عاری ہو۔

دوسراپہلواس کاوہی ہے جوقرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے کہ انہی ستاروں کے اندرخدانے ایسے برج بنائے ہیں جہاں سے ان شیاطین پرشہابِ ثاقب کی مارپڑ تی ہے جوخداکے ممنوعہ حدودمیں دراندازی کی جسارت کرتے ہیں۔ قدرت کایہ نظام اس بات پرشاہدہے کہ یہ دنیابے راعی کاگلہ نہیں ہے بلکہ اس کے چپہ چپہ پرخدانے اپنے پہرہ داربٹھارکھے ہیں جوشب وروز ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں ۔اس وجہ سے لازماًاس کے بعدایک یوم الحساب آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے کوبچانہ سکے گا۔‘‘ ،اس سے واضح ہوا کہ ان فرشتوں کا کام تحفظ (Protection) کے طور پر نہیں ، بلکہ نگرانی کے طور پر بیان ہورہا ہے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسانوں کا سارا کچا چٹھہ کھول کر ان کے سامنے رکھ دیں گے ۔اس بات کو سمجھنے میں اگر کوئی مشکل ہے تو دوسری آیت میں اسے اللہ تعالیٰ نے بالکل کھول دیا ہے جو سورۂ رعد میں بیان ہوئی ہے ۔ وہاں ارشاد ہوا:’’وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے ۔اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جوبات کوچپکے سے کہیں اوروہ جوبلندآوازسے کہیں اورجوشب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل وحرکت کر رہے ہوں ۔ان پران کے آگے اورپیچھے سے امرالہٰی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جوباری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں ۔ (رعد13: 9۔11)دیکھیے یہاں بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کے اس علم کا بیان ہے جس کی بنیاد پر وہ انسان کے ہر عمل سے واقف رہتے ہیں ۔ لیکن قیامت کے دن وہ انسانوں کی پکڑ اپنے علم کی بنیاد پر نہیں کریں گے ، بلکہ اس مقصد کے لیے انسانوں پر فرشتے مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کا ریکارڈ رکھتے ہیں ۔

یہی ریکارڈ کل قیامت کے دن انسانوں کے سامنے پیش ہو گا۔ اور فرشتوں کے اسی کام کو یہاں حفظ و نگرانی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چناچہ اس کی وضاحت یوں ہے :’’یہ آیت اوپروالی آیت کے مضمون کی توضیح مزیدہے یعنی اللہ ہرشخص کے ظاہروباطن اوراس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے ۔اس نے ہر شخص پراپنے فرشتے بطورپہرہ دارمقررکر رکھے ہیں ۔یہ فرشتے اللہ کے امرمیں سے ہیں جوہروقت ہرشخص کے ہرقول وفعل کی نگرانی کرتے ہیں ۔‘‘،سورۂ انفطار میں ان کے لیے ’حافظین ‘ کا لفظ استعمال کر کے ان کا کام یوں بیان کیا گیا ہے :’’ہر گز نہیں ! بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہوحالانکہ تم پر یقینا نگران مامور ہیں ۔عالی قدر لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔‘‘ ، (انفطار82: 9۔12)سورۂ ق میں یوم قیامت ان فرشتوں کا کردار یوں بیان کیا گیا ہے :’’(قیامت کے دن) ہر جان اس طرح حاضر ہو گی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا اور ایک گواہ۔‘‘ ، (ق50: 21)باقی اس میں کوئی شک نہیں کہ بندوں کو تحفظ اور عافیت بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں اور ہم سب کو اس کی پناہ اور عافیت کا طلب گار ہونا چاہیے ۔اللہ تعالی تعالی کے اس نام یعنی المھیمن سے عارف کا نصیب یہ ہے کہ بری عادتوں، برے عقیدوں اور بری چیزوں مثلاً حسد اور کینہ وغیرہما سے اپنے دل کی نگہبانی کرے اپنے احوال درست کرے اور اپنے قوی اور اپنے اعضا کو ان چیزوں میں مشغول ہونے سے محفوظ رکھے جو دل کو اللہ کی طرف سے غفلت میں ڈالنے والی ہوں۔ تاکہ بروز قیامت برے انجام اور رسوائی سے بچ سکے ۔ اللہ تعالی کے اس نام کے فوائدو ثمرات یہ ہیں کہ * جوشخص غسل کرکے دورکعت نماز پڑھے اور صدق دل سے (۱۰۰) مرتبہ یہ اسم مبارک پڑھے گا اللہ تعالی اس کا ظاہر و باطن پاک فرمادیں گے اور علوِہمتی پیدا ہوگی ۔

جو شخص (۱۱۵)مرتبہ پڑھے گا انشا ء اللہ تعالی پوشیدہ چیزوں پر مطلع ہوگا یعنی اس پر اسرارِ الٰہی منکشف ہونے لگیں گے۔* جوکوئی اسے انتیس(۲۹) بار پڑھے گا اس کو کوئی غم نہ ہوگا۔* جویہ اسم ہمیشہ پڑھتار ہے گا تمام بلاؤں سے محفوظ رہے گا ۔ جو شخص غسل کے بعد اس اسم کو ایک سو پندرہ مرتبہ پڑھے وہ غیب اور باطن کی باتوں پر مطلع ہو اور جو شخص اس کو برابر پڑھتا رہے وہ تمام آفات سے پناہ پائے اور جنتیوں کی جماعت میں شامل ہو۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور آفات و مصائب سے بچائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment