اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام المومن کا معنی ، تفسیر اور وظائف

Al momin

المومن کے معنی ہیں امن و امان دینے والاامن دینے والا، اسکی ذات میں امن ہی امن ہے اس لئے اسی سے امن طلب کیا جاتا ہے۔ جس نے اپنی صفات کمال اور کمال جلال وجمال کے ساتھ اپنی تعریف فرمائی جس نے دلائل وبراہین کے ساتھ رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں ۔ اس نے معجزات اور دلائل کے ساتھ اپنے رسولوں کی تصدیق فرمائی جن سے ان کا سچا ہونا اور ان کی لائی ہوئی شریعت کا صحیح ہونا ثابت ہوگیا۔

(اللہ) سلامتی دینے والا، امن دینے والا اور نگہبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے عذاب سے امن دیا اور قیامت کے روز فزع اکبر سے امن دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں پر اطمینان و سکینت نازل کرتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے ظلم سے بھی امن دیا۔المومن کا مطلب مصدق یعنی تصدیق کرنے والا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ، اپنے دین کی اور اپنے رسولوں پر ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہے ۔المؤمن امن دینے والا۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کو نہ صرف اپنے شر اور اپنی برائی سے بلکہ دوسروں کی برائی اور شر سے بھی امن میں رکھے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام سے قبل دنیا اندھیری تھی، ہر طرف ظلم وجور کا دور دورہ تھا، امن وامان نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی؛ کبھی رنگ ونسل کے نام پر، کبھی زبان و تہذیب کے عنوان سے اور کبھی وطنیت و قومیت کی آڑ میں انسانیت کو اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا تھااور ان ٹکڑوں کو باہم اس طرح ٹکرایا گیا تھا کہ آدمیت چیخ پڑی تھی، اس وقت کی تاریخ کا آپ مطالعہ کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ پوری دنیا بدامنی و بے چینی سے لبریز تھی، وہ پسماندہ علاقہ ہو یا ترقی یافتہ اور مہذب دنیا، روم وافرنگ ہو یا ایران وہندوستان، عجم کا لالہ زار ہو یا عرب کے صحراء وریگزار؛ ساری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں تھی اسلام سے قبل بہت سے مذہبی پیشواؤں اور نظام اخلاق کے علمبرداروں نے اپنے اپنے طورپر امن ومحبت کے گیت گائے اور اپنے اخلاقی مواعظ وخطبات سے اس آگ کو سرد کرنے کی کوشش کی جس کے خوشگوار نتائج بھی سامنے آئے مگر اس عالمی آتش فشاں کو پوری طرح ٹھنڈا نہیں کیا جاسکا۔اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اوراس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب“ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں، اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی و اخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی، آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتا ہے اور ہر طبقہ اپنے اپنے طورپر کسی گہوارئہ سکون کی تلاش میں ہے

یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔جس معاشرہ کا شیرازئہ امن بکھرتا ہے اس کی پہلی زد انسانی جان پر پڑتی ہے۔ اسلام سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی مگراسلام نے انسانی جان کو وہ عظمت و احترام بخشا کہ ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن کریم میں ہے: ”اسی لئے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ حکم جاری کیا کہ جو شخص کسی انسانی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمینی فساد برپا کرنے کے علاوہ کسی اور سبب سے قتل کرے اس نے گویا ساری انسانیت کاقتل کیا اور جس نے کسی انسانی جان کی عظمت واحترام کو پہچانا اس نے گویا پوری انسانیت کو نئی زندگی بخشی۔“ انسانی جان کا ایسا عالم گیر اور وسیع تصور اسلام سے قبل کسی مذہب و تحریک نے پیش نہیں کیا تھا۔اسی آفاقی تصور کی بنیاد پر قرآن اہل ایمان کو امن کا سب سے زیادہ مستحق اور علمبردار قرار دیتا ہے۔ ارشاد باری ہے: ”دونوں فریقوں (مسلم اور غیرمسلم) میں امن کا کون زیادہ حقدار ہے؛ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم وشرک کی ہرملاوٹ سے پاک رکھا ہے امن انہی لوگوں کے لئے ہے اور وہی حق پر بھی ہیں۔“اسلام قتل و خونریزی کے علاوہ فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور جھوٹی افواہوں کی گرم بازاری کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے وہ اس کو ایک جارحانہ اور وحشیانہ عمل قرار دیتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا مت کرو“ اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتے “ اس مضمون کی متعدد آیات قرآن پاک میں موجود ہیں۔امن ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قرآن نے اس کو عطیہٴ الٰہی کے طور پر ذکر کیا ہے۔فرمایا”اہل قریش کو اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہئے جس رب نے انہیں بھوک سے بچایا کھانا کھلایا اور خوف و ہراس سے امن دیا“ اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت (حرم مکہ) کو گہوارئہ امن قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اس کے سایہ میں داخل ہونے والا ہر شخص صاحب امان ہوگا۔

احادیث میں بھی زمین میں امن وامان برقرار رکھنے کے سلسلے میں متعدد ہدایات موجود ہیں مثلاً:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صاحب ایمان“ کی علامت یہ قرار دی ہے کہ اس سے کسی انسان کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچے – حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے جان ومال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔“ایک اورموقعہ پر ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے، نیز بخل وتنگ نظری سے بچو اس چیز نے تم سے پہلے بہتوں کو ہلاک کیاہے اسی مرض نے ان کو خونریزی اورحرام کو حلال جاننے پر آمادہ کیا۔“بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ کہ اللہ کی قسم! مومن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم مومن نہیں ہوسکتا، کسی نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کون مومن نہیں ہوسکتا؟ فرمایا کہ جس کے شر سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔“ (بخاری: حدیث نمبر۶۰۱۶)حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

اللہ تعالی کے اس امن سے بھوپور نام المومن کی خاصیت یہ ہے کہ * جوشخص کسی خوف کے وقت (۶۳۰) مرتبہ اس اسمِ مبارک کوپڑھے گا ،انشاء اللہ ہر طرح کے خوف اور جانی ومالی نقصان سے محفوظ رہے گا ۔ *جو شخص اس اسمِ مبارک کو پڑھے یالکھ کر پاس رکھے اس کا ظاہر وباطن اللہ تعالی کی امان میں رہے گا۔* جو کثرت سے اس کا وِرد کرے اس کا ایمان قائم رہے گا اور مخلوق اس کی مطیع ومعتقدہوجائے گی *جو کوئی روازنہ تین بار یہ اسم مبارک پڑھنے کا معمول رکھے اس کوکوئی خوف نہیں ہوگا۔* جوکوئی ایک سو چھتیس (۱۳۶)بار یہ اسم مبارک پڑھے ،ظالموں کے ظلم اور جملہ آفات سے محفوظ رہے گا *خوفزدہ آدمی اگر فرضوں کے بعد ایک سوچھتیس(۱۳۶) بار اس اسم کا وِردر کھے تو اس کے جان ومال محفوظ رہیں گے ۔ *جس پر خوف طاری ہووہ یاسلام یامؤمن کا وِرد رکھے خصوصاً مسافر اگر اس کا وردرکھے تو اللہ تعالی کی طرف سے امن وسلامتی نصیب ہوگی۔* جوشخص کسی خوف کے وقت چھ سوتیس(۶۳۰) بار اس اسم کو پڑھے گا انشاء اللہ العز یز ہر طرح کے خوف اور نقصان سے محفوظ رہے گا ۔*جواس اسم کو ایک سو پندرہ بار پڑھ کراپنے اوپر دم کرے گا ۔ انشاء اللہ ہرطرح کے خوف اور نقصان سے محفوظ رہے گا۔ جو شخص اس اسم کو بہت پڑھتا رہے یا اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے تو حق تعالیٰ اس کو شیطان کے شر سے نڈر رکھے گا اور کوئی شخص اس پر حاوی نہیں ہو گا،اس کا ظاہر اور اس کا باطن حق تعالیٰ کی امان میں رہے گا اور جو شخص اس کو بہت زیادہ پڑھتا رہے گا مخلوق خدا اس کی مطیع اور فرمانبردار ہو گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے امن والے نام کے ذریعے جہنم کے عذاب سے امن عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment