اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام الملک کا معنی ،مفہوم اور فوائد وظائف

مالیک

اللہ تعالی کے بابرکت ناموں میں سے ایک نام الملک بھی ہے الملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔حقیقی بادشاہ۔ یعنی وہ زمین و آسمان اور تمام عالم کا حقیقی بادشاہ ہے دونوں جہاں اسی کے تصرف اور قبضہ میں ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج لہٰذا جب بندہ نے اس کی یہ حیثیت و صفت جان لی تو اس پر لازم ہے کہ اس کی بارگاہ کا بندہ و غلام اور اسی کے در کا گدا بنے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعہ اسی کے آستانہ عزت و جاہ کی طلب کرے۔

بندہ پر لازم ہے کہ اس کی بارگاہ قدرت و تصرف سے تعلق پیدا کرے اس کے علاوہ ہر ایک سے کلیۃً بے نیازی اختیار کرے۔ نہ کسی سے اپنی ضرورت و حاجت بیان کرے اور نہ کسی سے ڈرے نہ امید رکھے اپنے دل، اپنے نفس اور اپنے قالب کی دنیا کا حاکم بنے اور اپنے اعضاء اور اپنے قوی کو قابو میں رکھ کر اس کی اطاعت و عبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں لگا دے تاکہ صحیح معنی میں اپنے وجود کی دنیا کا حاکم کہلائے۔ تمام اشیاء کا مالک اور ان میں مکمل تصرف فرمانے والا یا وہ ذات کریم جس کو چاہے معزز کرے (عزت عطافرمائے) اور جسے چاہے پست و ذلیل رکھے (رسوا کرے) اور وہ پستیوں (ذلتوں ) سے پاک ہے یعنی ذلت اس کے لیے محال ہے وہ لامتناہی عزت والا ہے یا وہی ہے جو اقتدار عطا کرتا ہے اور معزول کردیتا ہے اور اس کے لیے معزولی وتولیت تصور بھی نہیں کی جاسکتی یعنی اس کا معزول ہونا اور کسی کی زیرنگیں ہونا محال ہے یا وہ عزتوں کے ساتھ فرد ہے یعنی سب عزت اسی ہی کے لیے ہے اور وہ معزز یکتا ہے اور وہی حاکم علی الاطلاق ہے بادشاہی والا ہے اور بادشاہی اس کی تخلیق ہے یعنی حاکم رہی ہے اور حکومت اسی کی ہے یا قدرت والا ہے۔ اس کی حکومت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔قرآن میں الملک 4 مرتبہ آیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے وہ سچا بادشاہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سچا بادشاہ نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔ وہ عرش کریم کا رب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے محمد ﷺ) آپ کہہ دیں :اے اللہ تو ہی شہنشاہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہ (روز قیامت) قدرت والے بادشاہ کے پاس سچی نشست گاہ میں ہوں گے۔

ابوہریرہ وضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں، اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی سلطنت میں اپنے احکام نافذ کرتا ہے۔ وہی اس میں تصرف مطلق کا مالک و مختار ہے وہ اپنی مخلوقات اپنے احکامات اور جزاء و سزاء کے معاملے میں ہر طرح کے تصرف کا مالک ہے۔ عالم بالا ہو یا عالم اسفل۔ سب کا مالک وہی ہے تمام مخلوقات اس کی غلام اور ا س کی نوکر ہیں۔ وہ سب اس کے محتاج ہیں۔ جب کوئی حرکت کرنے والی چیز حرکت کرتی ہے تو ا س کے ارادے اور اس کی مشیئت کے ساتھ ہی حرکت کرتے ہیں اور جب کوئی چیز ساکن ہوتی ہے تو اس کے علم اور ارادے سے ہی ساکن ہوتی ہے۔قیامت کے دن اللہ سبحانہ کی بادشاہت سب کے سامنے واضح ہو جائے گی اور تمام مخلوقات اس کی معترف ہو جائیں گی۔آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایاکہ بادشاہی اُسی کی ہے‘‘. یعنی اس پوری کائنات کا حقیقی حکمران وہی ہے. وہ قانوناً (de jure) بھی اس پوری کائنات کا بلا شرکت ِ غیرے بادشاہ ہے. یعنی حکمرانی کا استحقاق بھی صرف اُسی کو حاصل ہے اور واقعتا (de facto) بھی بادشاہی اُسی کی ہے. یعنی فی الواقع بھی بادشاہِ حقیقی اور حاکمِ مطلق صرف اسی کی ذات ہے. گویا ’’لَـہٗ‘‘ میں حرفِ جار ’’لام‘‘ لامِ استحقاق کے معنی بھی دے رہا ہے اور لامِ تملیک کے بھی.

اگر صحیح نہج پر غور کیا جائے تو اس لازمی نتیجے تک پہنچے بغیر چارہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن مخلوقات کو کچھ اختیار بخشا ہے‘ جیسے جِن و اِنس‘ ان کا اپنا پورا وجود بھی اللہ کے قانون میں جکڑا ہوا ہے. چنانچہ ہم اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ اپنے جسم کے کسی حصے پر بالوں کی روئیدگی کو روک سکیں. ہمیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ جب چاہیں اپنے قلب کی حرکت کو روک دیں اور جب چاہیں اسے رواں کر دیں. اسی طرح ہم آنکھ سے سننے کا کام نہیں لے سکتے اور کان سے دیکھنے کا کام نہیں لے سکتے. معلوم ہوا کہ ہمارا اپنا وجود بھی ہمارے حکم کے تابع نہیں ہے‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کے قوانینِ تکوینی و طبعی میں جکڑا ہوا ہے. گویا وہ بھی اسی بادشاہِ حقیقی کا حکم مان رہا ہے‘ جس کے لیے نہایت ایجاز و اعجاز کے ساتھ فرمایا گیا ہے : لَہُ الۡمُلۡکُ ’’حقیقی بادشاہی صرف اسی کی ہے‘‘. یہ دوسری بات ہے کہ اپنے وجود کے ایک نہایت محدود اور حقیر سے حصے میں اختیار اور ارادے کی اس آزادی پر‘ جو تمام تر اللہ ہی کی عطا کردہ ہے‘ ہم اتنے از خود رفتہ ہو جائیں کہ اردو ضرب المثل کے مطابق ہلدی کی گانٹھ پا کر پنساری بن بیٹھیں اور اپنے آپ کو کلیتاً خود مختار سمجھنے لگیں!اس اسم باری تعالی کی یہ خاصیت ہے کہ جو شخص اس اسم کو القدوس کے ساتھ(یعنی ملک القدوس) پابندی کے ساتھ پڑھتا رہے تو اگر وہ صاحب ملک اور سلطنت ہو گا تو اس کے ملک اور سلطنت کو اللہ تعالیٰ قائم و دائم رکھے گا اور جو صاحب سلطنت نہ ہو گا تو اس کی برکت سے اس کا اپنا نفس مطیع و فرمانبردار رہے گا اور جو شخص اسے عزت و جاہ کے لئے پڑھے تو اس کا مقصود حاصل ہو گا اور اس بارے میں یہ عمل مجرب ہے۔

حضرت شاہ عبدالرحمن نے اس کی خاصیت یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص اس اسم الملک کو روزانہ نوے بار پڑھے تو نہ صرف یہ کہ روشن اور تونگر ہو گا بلکہ حکام و سلاطین اس کے لئے مسخر ہو جائیں گے اور عزت و احترام اور جاہ کی زیادتی کے حصول کے لیے مجرب ہے۔* جوشخص روزانہ صبح کی نماز کے بعد یَامَلِکُ کثرت سے پڑھا کریگااللہ اسے غنی فرمادیں گے *اور جوزوال کے وقت ایک سوبیس بار پڑھے گا اللہ تعالی اسکو صفائے قلب اور غنا ئے ظاہر وباطن سے سرفراز فرمائیں گے۔* جوشخص اس اسم کو پڑھتا ہے اس کا نفس اس کی اطاعت کرتا ہے اور اسے عزت وحرمت حاصل ہوتی ہے ۔ *جوسورج نکلنے کے وقت تین ہزار ( ۳۰۰۰) بار یہ اسم پاک پڑھے گاوہ جو مراد مانگے گا حاصل ہو جائے گی ۔ *مال وملک والا آدمی اگریہ اسم (اَلْقُدُّوْسُ ) کے ساتھ ملا کر پڑھے گا تو اس کا مال وملک قائم رہے گا۔ *جواس اسم کوفجر کی نماز کے بعد ایک سو بیس ( ۱۲۰) بار پڑھنے کا معمول بنا ئے ، اللہ تعالی اسے اپنی عنایات کے ذریعہ غنی فرمادیتے ہیں ۔*اگر حکمران اسے پڑھنے کا معمول بنا ئے تو بڑے بڑے سرکش ومتکبر لو گ ان کے مطیع و فرمانبر دار بن جائیں ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کے فوائد و برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment