اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام المعز کا معنی مفہوم اور فوائدو برکات وظائف

Al moiz

المعز اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔المعز کے معنی ہیں عزت دینے والااللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہہ دے اے اللہ! بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔۔ (آل عمران : 26)

عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی انسان کسی کو ‏نہ عزت دے سکتا نہ ہی کسی کو ذلیل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت دینا چاہے تو پھر ساری دنیا مل کر بھی اسے ذلیل نہیں کر سکتی۔ لیکن اللہ تعالی جب عزت دیتا ہے تو پھر اس کا امتحان بھی لیتا ہے۔ اللہ تعالی پر یقین ہو تو انسان ہر امتحان میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے۔ زندگی میں اگر کوئی ناحق آپ کے کردار کو داغدار کرنے کے لیے چوراہے پر کیوں نہ مجمع جمع کرلے، اس وقت بھی اطمینان رکھیں کہ عزت اور ذلت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کتنا بھی سرکش کیوں نہ ہو۔وہ اپنی زبان سے صرف نازیبا کلمات ہی نکال سکتا ہے۔نیک انسان کے ہاتھ میں صرف محنت اور کوشش ہے۔ کامیابی اللہ دیتا ہے ۔ بیشک عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالی جسے چاہے حکومت دیدے اور جس سے چاہے چھین لے۔۔۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل کردے۔ سارے بھلائی کے اختیار بے شک اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ رات کو دن میں اور دن کو رات میں پروتا ہے۔ ایک نطفہ سے، ایک جان سے دوسری جان کو پیدا کرتا ہے۔ زمین ۔آسمان۔ چاند ۔سورج۔یہاں تک کہ ہر ذرہ ذرہ اسی کے تابع ہیں ۔اللہ اپنے خزانے سے بے حساب نوازتا ہے ۔ اور اپنے فضل و کرم کے خزانے سےگناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہر شے پر غالب ہے۔ اللہ کی ذات۔ جس کو کسی طاقتور کی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی اور نہ ہی کسی قدرت رکھنے والے کی قدرت اس کو کمزور کرسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ باخبر بلند و بالا بابرکت ذات ہے۔اس دنیا میں کسی کی کامیابی کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔ کئی لوگ بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کئی ذلیل کرتے ہیں ۔

کئی طعنے کستے ہیں ۔کئی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں ۔کئی الزامات لگاتے ہیں ۔کئی سازشیں کرتے ہیں۔کئی لوگ ایک دوسرے کو رسوا کرنے کے موقعے تلاش کرتے ہیں۔ اچھائی کو برائی کا روپ دے کر پیش کرتے ہیں۔ کسی کو بھی کیسی کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی ۔ لیکن اللہ تبارک و تعالی ان الزامات ۔سازشوں ۔رکاوٹوں ۔ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔وہ اچھے اور نیک انسان کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔راستے کھولتا ہے۔منزل تک پہنچانے میں مدد فرماتا ہے۔ اللہ تعالی کی ہی ذات ہےجس کا ہاتھ میں ہر قسم کی عزت اور ذلت ہے۔اللہ تعالی نے ساری مخلوق کو اپنے قبضے میں رکھا ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عزت بخشتا ہے ۔جس سے چاہتا ہے کھینچ لیتا ہے۔اللہ تعالی جو نیک ہوتے ہیں انہیں اپنی مراد تک ضرور پہنچاتا ہے۔عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔اللہ چاہے فقیر کو غنی کردےیا غنی کو فقیر کر دے۔سورہ فاطر آیت نمبر10 کی تفسیر میں کہا جاتا ہے کہ ۔ “جوشخص چاہتا ہے کے اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے،تو وہ اللہ کی اطاعت کرے،اس سے اسے یہ مقصود حاصل ہو جائے گا ۔اس لئے کے دنیا آخرت کا مالک اللہ ہی ہے، ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے وہی عزیز ہوگا،جس کو وہ ذلیل کردے، اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی”۔سورہ منافقون میں ارشاد باری تعالی ہے کہ عزت تو صرف اللہ اور رسول کے لئے ہے )” یعنی عزت اللہ اور رسول کے علاوہ صرف ان کے لئے ہے ،جو سچے دل سے اللہ اور رسول کو مانتے ہیں، ان پر ایمان لاتے ہیں، اللہ اور رسولﷺ کے ہر فرمان اور ارشاد کو اپنی زندگی بنا لیتے ہیں ۔ چاہے کوئی کچھ بھی کہے۔مگر انہیں صرف اللہ اور رسول کی باتوں پر ہی یقین اور ایمان ہوتا ہے ۔

جو کوئی بھی عزت چاہتا ہے اسے پتہ ہونا چاہئے کہ عزت صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ اللہ تعالی کے پاس جو چیز اوپر اٹھتی ہے وہ ہے صرف پاکیزہ قول اور صالح عمل ۔ جو لوگ چالبازیاں کرتے ہیں۔ دوسروں کے لئے برا سوچتے ہیں ۔ رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں ۔یہ ان کے کھیل تماشے تھوڑے دنوں کے ہوتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہوتا ہےاور بہت جلد ہی وہ غارت ہو جاتے ہیں ۔ حسب و نسب ۔ مال و دولت ۔ڈرا دھمکا کر ملنے والی عزت کوئی عزت نہیں ہے ۔بلکہ عزت تو وہ ہے جسے اپنے اعمال سے ،اپنے کرموں سے حاصل کیا جائے۔اللہ تبارک و تعالی کی عبادت اور اطاعت ہی سے عزت میسر ہوسکتی ۔پوری شدت کے ساتھ اللہ پر اعتماد و یقین رکھیں کہ عزت و ذلت دینے والی صرف وہی ایک ذات ہے۔ جو لوگ دوسروں کے لئے گڑھا کھودتے ہیں وہ خود اسی میں گرتے ہیں ۔رسوا اور ذلیل ہوتے ہیں ۔ کوئی کتنا بھی زور لگائے جسے اللہ عروج پر پہنچنا چاہے تو پھر کسی میں بھی اتنی قدرت نہیں کے اسے روک سکے۔عزت و ذلت دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ دور دراز کے گاؤں، بستیوں سے، چھوٹے اور غریب خاندانوں سے اٹھا کر تخت ِ حکومت پر بٹھا دینا، غلاموں کو بادشاہت عطا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور معاشرے کے معزز ترین بلکہ دوسروں کو عزتیں اور خلعتیں بخشنے والوں کو ذلت و گمنامی کے عمیق گڑھوں میں پھینک دینا اسی اَحکَم ُ الحاکمین مولیٰ تعالیٰ کی قدرت ہے۔عزت اس حالت کو کہتے ہیں، جس تک پہنچنا آسان نہ ہو۔ اس لیے نادر چیز کو عزیز الوجود کہتے ہیں اور جس پر غالب آنا مشکل ہو اس کو بھی عزیز کہتے ہیں۔ ناقابل تسخیر کو عزیز کہتے ہیں۔ عزت کا بذات خود مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : اسی لئے سورہ یونس میں ارشاد باری تعالی ہے کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے لئے ہے۔ لہٰذا واقعی اور حقیقی عزت کی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے بعد اللہ جس کو عزت دے، وہ بھی عزت کا مالک ہوتا ہے لیکن یہ عزت اس کی ذاتی نہیں ہے، بلکہ خدادادی ہے۔

دنیا یا آخرت یا دونوں جہان میں عزت دیتااورذلت دیتا ہے یعنی اپنی مدد، توفیق اور ثواب عطا کرکے جس کو چاہتا ہے دنیا اور آخرت میں عزت بخشتا ہے اور بد بختی عدم توفیق اور عذاب کی وجہ سے جس کو چاہتا ذلیل کرتا ہے۔اللہ تعالی تعالی کے اس اسم المعز کے خواص میں سے ہے کہ جو شخص اس اسم پاک کو دو شنبہ کی شب میں یا جمعہ کی شب میں ایک سو چالیس مرتبہ پڑھے گا مخلوق کی نظر میں اس کی ہیبت و شوکت پیدا ہو گی اور وہ حق تعالیٰ کے علاوہ کسی کے خوف میں مبتلا نہیں ہو گا۔* جوشخص پیر یا جمعہ کے دن بعد نماز مغرب (۴۰) مرتبہ یَامُعِزُّ پڑھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو انشا ء اللہ لوگوں میں با عزت اور باوقار بنا دیں گے اور اس کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں پیداہوگی ۔ *جوشخص بعد نماز عشاء پیر یا جمعہ کی رات میں ایک سو چالیس بار پڑھے گا اللہ تعالی اس کی ہیبت اور حرمت مخلوق کے دل میں ڈال دے گا اور وہ اللہ تعالی کے سواکسی سے نہیں ڈرے گا اور اسی کی پناہ میں رہے گا۔ *جو ایک سو چالیس دن تک اکتالیس بار ہر روز بلا ناغہ اس کو پڑھے گادنیا اورآخر ت میں عز ت پائے گا پڑھنے کا آغاز پیر یا جمعہ کی شب کرے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں عزتوں کے برج نصیب فرمائے اور اپنے اس بابرکت نام المعز کے صدقے ہمیں ذلتوں سے بچائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment