اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام العزیز کا معنی مفہوم اور فوائد و ثمرات وظائف

al aziz

العزیز اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔العزیز کے معنی ہیں ’’بااقبال سب پر غالب‘‘اسے ہر طرح کا اقبال حاصل ہے۔ قوت کا اقبال، غلبہ کا اقبال، امتناع کا اقبال یعنی کوئی مخلوق اس کا کچھ نہیںبگاڑ سکتی ۔ تمام مخلوقات اس کے آگے دبی ہوئی ہیں، اس کی مطیع ہیں اور اس کی عظمت کو دل سے تسلیم کرتی ہیں۔ ،وہ عزت وغلبہ کا سرچشمہ ہے۔

وہ جسے چاہتاہے غلبہ عطا فرماتا ہے۔العزیز کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے معنی تو غالب کے ہیں ” دوسرے معنی بے مثال کے ہیں۔ تیسرے معنی شدید اور قوی کے ہیں اور چوتھے معنی عزت دینے والے کے ہیں۔ اللہ کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات پر اس کا غلبہ ایسا ہے کہ کوئی چیز بھی اس کے قابو سے باہر نہیں۔ تمام جانداروں کی تکمیل اسی کے ہاتھ میں ہے اور جس کسی کو بھی اس نے کسی قسم کا اختیار بخشا ہے اسے وہ جب چا ہے چھین سکتا ہے۔ اس سے بغاوت اور سرکش کر کے کوئی شخص بھی اس کی گرفت سے اپنے کو بچا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:“وہ (اللہ) طاقتور اور غالب ہے۔ اللہ ایسا غالب ہے۔ جس کو کوئی عاجز نہیں کر سکتا۔ اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کے لیے وہ بہت طاقتور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنے قہر اور غلبے کے ذریعے مغلوب کر لیا۔ اور اس کی بلندی تک کوئی پہنچ سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی غالب ہو سکتا ہے۔ بڑے بڑے بہادر اس کے سامنے سرنگوں ہو گئے۔ اور اس کی قوت کے مقابلہ میں پہلوان اور بہادروں کی ہمتیں پست ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا غلبہ اور اپنی عزت اپنے رسول محمد ﷺ اور امت محمدیہ کو عطا کی۔ لہذا جو بندہ عزت اور غلبہ کا متمنی ہو۔ اسے اللہ سبحانہ کی اطاعت ضرور کرنی چاہیے اور کتاب و سنت پر تمسک کرنا چاہیے۔ العزیز۔ عزت والا۔ الغالب یعنی غلبہ والا۔ اور ایک قول ہے کہ وہ ذات جس کی مثل نہ ہو۔ اور ایک قول ہے کہ وہ ذات جس کو چاہے عذاب دے۔ اور کہا گیا وہ ذات جو عمل کرنے والوں کو ثواب عطا فرمائے۔ اور ایک قول ہے کہ وہ ذات جس کی عزت و عظمت کا احاطہ نہ کیا جاسکے جس کو ان کی منزلت (شان ) سے گرایا (کم) نہ جاسکے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے اپنا یہ پیغام ادا کروایا ( اے محمد ) فرمایے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ کس کی ملکیت ہے (اور جواباً خود ہی یہ بھی ) فرما دیجیے کہ اللہ کی ہے ،(لیکن ہر ایک چیز کا مالک ہونے کے باوجود) اللہ نے اپنے آپ پر رحمت فرض کر رکھی ہے اس میں کوئی شک نہیں (کہ) اللہ ضرور تُم سب کو قیامت والے دِن کی طرف اکٹھا فرمائے گا (لیکن) جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کر لیا ہے وہ ایمان لانے والے نہیں۔پس اللہ سبحانہُ و تعالیٰ بغیر کسی شک و شبہے کے ، بغیر کسی شریک اور بغیر کسی تنازعہ کے ہر ایک چیز کا اکیلا مالک ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ اللہ کا اپنی مخلوق پر کرم ہے ، مہربانی ہے ، کہ اس نے اپنے آپ پر رحمت فرض کر لی ، اور خود اپنی ہی مشیئت اور ارداے سے کر لی ، کسی کے کہنے سننے پر نہیں ، اور نہ ہی کسی اور نے اُس پر یہ فرض کیا نہ ہی کوئی ایسا تھا جو اللہ پر کچھ فرض کر سکتا اور ہی کوئی ایسا ہے اور نہ ہی کبھی بھی کوئی ایسا ہو سکتا ہے ، یہ سب اللہ کی عظیم تر بزرگی والی لا شریک ربوبیت ہے اور اس کا اپنی مخلوق پر رحم و شفقت ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کے ساتھ اپنے رویے کے لیے یہ قانون بنا لیا کہ وہ اُس کے ساتھ رحم والا معاملہ ہی فرمائے گا ، دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ،یعنی ہر شئے پر ہر طرح سے غالب ذات ایک اللہ ہی کی ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی اصل بنیاد ہے ، بنیادی قانون ہے جس کے مطابق وہ اپنی مخلوق کے معاملات نمٹاتا ہے ، حتیٰ کہ جب وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو کسی مُصیبت ، کسی پریشانی ، کسی غم ، کسی بیماری وغیرہ میں مبتلا کرتا ہے تو وہ بھی اس کی رحمت ہی ہوتی ہے ،وہ یوں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کچھ ایسے لوگ تیار کرتا ہے جو اُس کی طرف سے دیے گئے امتحانات میں پورے اُتر کر اس کی امانت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو دُنیا اور آخرت کی عزت اور بلندی عطاء فرماتا ہے ،: اِس معاملے کو دوسرے پہلووں سے دیکھیے تو اللہ کی رحمت کے مزید جلوے دکھائی دیتے ہیں کہ

اللہ اپنی مخلوق میں سے جب کسی کو کسی طور آزماتا ہے تو اس میں ایک حِکمت یہ بھی ہوتی ہے کہ مخلوق کی صفوں میں اچھے اور برے کی تمیز ہو جائے ، تابع فرمان اور نا فرمان الگ الگ نظر آ جائیں ، ہدایت یافتہ اور گمراہ کی پہچان ہو جائے: اور اس طرح اللہ تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ کون اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی و آلہ وسلم کی تابع فرمانی کرتا ہے اور کون بہانے بازیاں کرتے ہوئے نافرمانی کی راہ کی طرف پلٹ جاتا ہے ،: اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو ھلاک کرتا ہے جو اللہ کی واضح نشانیوں اور احکام سے رو گردانی کرتے ہیں اور ان کو بچاتا ہے جو اللہ کی واضح نشانیاں اور احکام کے پابند رہتے ہیں ،:اللہ کی رحمت ازل سے ہے اور ابد تک رہنے والی ہے ، اس کا مشاھدہ ہمیں صدیوں سے ہر ایک نسل کے ہر ایک عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے ، پس کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں اللہ کی رحمت اللہ کے بندوں میں میسر نہ ہوتی ہو ،ہم نے یہاں اللہ کی طرف سے دکھ تکلیف وغیرہ میں اس کی رحمت کا ذکر اس لیے کیا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں اکثر لوگ دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں ، شیطانوں کے وساوس میں پھنس جاتے ہیں ، اور اس طرح کہ لوگوں کا ظاہر و باطن دل و آنکھیں سب ہی دھوکے اور وساوس کا شکار ہو جاتے ہیں ،اب ہم آپ کو اللہ تعالی کے صفاتی نام العزیز کے فوائد و وظائف سے آگاہ کرتے ہیں * جو شخص چالیس دن تک چالیس مرتبہ اس اسم مبارک کو پڑھے گااللہ تعالی اس کومعزز ومستغنی بنا دیں گے۔* اور جو شخص نماز فجر کے بعد (۴۱) مرتبہ پڑھے گاوہ انشاء اللہ کسی کا محتا ج نہ ہوگا اور ذلت کے بعد عزت پائے گا۔* جس شخص کی شادی نہ ہوتی ہو وہ گیارہ بار درودشریف پڑھ کر گیارہ بار یا اللّٰہُ یاعزیزُیا ناصِرُیا صَمَدُ پڑھ کر شادی کے لئے دعاء مانگے پھر گیا رہ بار درودشریف پڑھ کر چہر ے پر ہاتھ پھیر لے تو اس کی جلد شادی ہو جائے گی ۔* اگر لو گ رات کے آخر ی حصہ میں جمع ہوکر دودو ہزار باریہ اسم مبارک پڑھیں تو رحمت کی بارش ہو۔* جو یَاعَزِیْزُ مِنْ کُلِّ عَزِیْزٍ بِحَقٍّ یَا عَزِیْزُپڑھے تما م مخلوق میں عزیز ہوگا ۔* جواس اسم کو چور انوے ( ۹۴) دن تک چورانوے (۹۴) مرتبہ روزانہ پڑھ لیا کر ے وہ معزز و کامران رہے گا۔*

جو اس اسم کو چار سو گیارہ دن تک دوسوبار اول وآخر درودشریف کے ساتھ پڑھے گا اس کے سب کا م درست ہوجائیں گے ۔*جواکتالیس بارصبح کو حاکم کے پاس جانے کے وقت یَاعَزِیْزُ پڑھ لیا کر ے حاکم مہربان رہے گا۔* جوعشاء کے بعد دو سوبار یَاعَزِیْزُپڑھ لیا کر ے اللہ تعالی کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجائے گی۔* جو کسی دشمن کے لشکر کی طرف ہاتھ کااشارہ کرکے ستر(۷۰) بار یہ اسم مبارک پڑھے وہ لشکر اللہ تعالی کے حکم سے شکست کھاجائے گا ۔۔ یاعزیز۔ * چالیس دن تک فجر کی نماز کے بعد ورد کرنے والا شخص خود کفیل ہوجائے گا اور کسی کی امداد سے بے نیاز ہوجائے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام یاعزیز کے ذریعے غلبہ پانے ، دشمن کو شکست دینے اور اللہ کی قدرت کاملہ پر یقین کرنے والا بنائے ۔ آمین ۔ دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ضرور پسند آئی ہوگی۔ ابھی ہی اس ویڈیو کو دوسروں تک شیئر کیجئے گاکیونکہ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کا جذبہ آپکی بگڑی بنا سکتا ہے۔ جلدی کریں نیکی میں دیر نہ کریں شاید آپ کا ایک عمل کسی کی کھوئی ہوئی زندگی واپس لوٹا دے۔

Leave a Comment