اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام السلام کا معنی تفسیر اور وظائف

Al Salam

اللہ تعالی کے نام بہترین ہیں اور اسی کی صفات اعلی ترین ہیں، کائنات اور شرعی احکام میں موجود نشانیاں اسی بات کی گواہ ہیں، اللہ تعالی کے تمام اسما و صفات مخلوق سے بندگی اور عبادت کا تقاضا بھی بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی کے خالق ہونے اور پیدا کرنے کے متقاضی ہیں، اور ہر نام اور صفت کی مخصوص بندگی بھی ہے جس پر ایمان رکھنا اور جاننا لازمی جزو ہے

فرمانِ باری تعالی ہے۔ اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان کے ذریعے پکارو اور ان لوگوں کو مسترد کر دو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں، انہیں ان کے عملوں کا عنقریب بدلا دیا جائے گا۔اللہ تعالی کے انہی ناموں میں “اَلسَّلَامُ” بھی شامل ہے، یہ ایک ایسا نام ہے جس میں تمام صفات بھی سمو جاتی ہیں، یہ نام اللہ تعالی کے تقدس اور پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے، یہ اللہ تعالی کی بے عیبی ظاہر کرتا ہے، اور ہر ایسی بات سے اللہ تعالی کی بلندی عیاں کرتا ہے جو اللہ تعالی کے جلال، کمال اور عظمت کے منافی ہے۔”اَلسَّلَامُ” یہ بھی بتلاتا ہے کہ اللہ تعالی ہمہ قسم کی معذوری سے سلامت ہے، کسی بھی کمی سے منزّہ ہے، لہذا وہ ہر عیب اور نقص سے سلامت ہے؛ کیونکہ اس کی ذات، اس کے نام ، اس کی صفات اور افعال سب کچھ کمال درجے کے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں وہی بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے سلامت، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زور آور، بڑائی والا ہے، اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے جنہیں وہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ [الحشر: 23] ذات باری تعالی اس نام کی کسی بھی دوسرے نام سے زیادہ حقدار ہے، بلکہ اسی نام میں وہ پاکیزگی اور سلامتی بھی موجود ہے جو اللہ تعالی نے اپنے لیے بیان فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کی بتلائی ۔ لہذا ذات باری تعالی بیوی اور بچوں سے سلامت ہے، وہ کسی بھی قسم کے مماثل، ہم سر، ہم نام اور ہم پلہ سے سلامت ہے، وہ ہمہ قسم کے شریک اور ساتھی سے سلامت ہے، اللہ سبحانہ و تعالی کی زندگی موت، اونگھ اور نیند سے سلامت ہے، وہ اپنی مخلوقات کو قائم دائم رکھنے والا ہے، وہ تھکاوٹ، ناچاری اور اکتاہٹ سے بھی سلامت ہے، اس کا علم بھی جہالت اور بھول چوک سے سلامت ہے، اس کا کلام بھی مبنی بر عدل اور سچ ہے، اس کا کلام جھوٹ اور ظلم سے سلامت ہے

اس کی تمام تر صفات کسی بھی ایسی چیز سے سلامت ہیں جو کمال کے منافی ہو، یا صفات میں نقص کا شائبہ پیدا کریں۔تو جس طرح ذات باری تعالی اور اس کے اسما و صفات سلامت اور سلامتی والے ہیں تو ہمہ قسم کی امن و سلامتی بھی اسی کی جانب سے ہوتی ہے، اسی سے سلامتی مانگی جاتی ہے، اگر کوئی شخص کسی اور سے سلامتی کا طلب گار ہو تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔نبی ﷺ اس نام مبارک کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے تھے جیسے کہ آپ ﷺ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے: یا اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی آتی ہے، اے ذو الجلال والاکرام ! تو ہی بابرکت ذات ہے]) مسلم[اس نام مبارک کے تقاضوں کے مطابق]اللہ تعالی نے ہی اپنے اولیا کو عذاب سے سلامتی عطا کی، بلکہ تمام تر مخلوقات کو ظلم سے سلامتی میں رکھا ، اور اللہ تعالی ہمہ قسم کے ظلم سے بری ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: بیشک اللہ تعالی ذرّے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔[النساء: 40] پھر چونکہ اللہ تعالی خود سلامتی والا ہے اور اسی کی جانب سے سلامتی ملتی ہے تو یہ کہنا جائز نہیں کہ: “اللہ تعالی پر سلامتی ہو”؛ اس لیے کہ: (اللہ تعالی بذات خود سلامتی والا ہے) بخاری اللہ تعالی نے اپنے انبیائے کرام اور رسولوں کو سلام بھیجا؛ کیونکہ رسولوں کی دعوت ہر قسم کے عیب اور نقص سے سلامت تھی، فرمانِ باری تعالی ہے: ان کی باتوں سے تیرا رب العزت پروردگار پاک ہے [180] اور سلام ہو رسولوں پر [الصافات: 180، 181]اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلیے بھی سلامتی لکھ دی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے آپ کہہ دیں: تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اور اللہ کے چنیدہ لوگوں پر سلامتی ہو۔ [النمل: 59]اللہ تعالی نے فضل کرتے ہوئے اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا جہانوں میں سلامتی کیلیے خاص فرما لیا؛ جیسے کہ نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: نوح پر جہانوں میں سلامتی ہے۔ [الصافات: 79]

اسی طرح ابراہیم، موسی، ہارون اور اِلیاسین علیہم السلام پر سلامتی نازل فرمائی۔ بلکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی یحیی علیہ السلام کو تین ایسی جگہوں میں سلامتی عطا فرمائی جہاں انسان سب سے زیادہ دہشت زدہ ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: اس پر سلامتی ہو جس دن وہ پیدا ہوا، جس دن وہ فوت ہو گا اور جس دن اسے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔[مريم: 15]اللہ تعالی نے تمام مومنوں کو ہمارے نبی ﷺ پر سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا: اے ایمان والو تم اس [نبی ] پر درود و سلام پڑھو۔[الأحزاب: 56]اللہ تعالی اور جبریل علیہ السلام نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام بھیجا ؛کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ کی منفرد انداز میں خدمت کی اور آپ کی ڈھارس باندھی، چنانچہ : (ایک بار جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ہیں جو آپ کے پاس آ رہی ہیں، ان کے پاس برتن میں سالن، یا کھانے پینے کی چیز ہے، جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو انہیں اللہ تعالی اور میری جانب سے سلام پہنچائیں) متفق علیہ ایسے ہی جبریل علیہ السلام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی ان کے علم اور کمال دانشمندی کے باعث سلام کیا ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (عائش! یہ جبریل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں) متفق علیہ ہر نمازی بھی اپنے تشہد میں نبی ﷺ سمیت تمام نیک لوگوں پر سلام بھیجتے ہوئے کہتا ہے: اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمت اور برکتیں ہوں آپ پر اے نبی، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر])جو شخص گھر میں داخل ہو تو شرعی طور پر وہ اپنے اہل خانہ کو سلام کرے؛ کیونکہ سلام پاکیزہ اور بابرکت تحفہ ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً} جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو ایک دوسرے کو سلام کرو۔

یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ [النور: 61] قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اللہ تعالی نے سلام کو بابرکت قرار دیا؛ کیونکہ اس میں دعا ہے اور یہ مسلمان سے محبت کا ذریعہ ہے، نیز اسے پاکیزہ بھی قرار دیا؛ کیونکہ سننے والے کو یہ جملہ اچھا لگتا ہے۔”اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے دین بھی وہی مقرر فرمایا ہے جس میں ہدایت اور سلامتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ} بیشک اللہ تعالی کے ہاں دین؛ اسلام ہے[آل عمران: 19]لہذا اللہ تعالی کے نام السلام کا معنی ہےبے عیب و سلامت۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ بتایا ہے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ و سلامت رہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ شفقت کا معاملہ کرے جب وہ کسی ایسے مسلمان کو دیکھے جو اس سے عمر میں بڑا ہو تو یہ کہے کہ یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ اس نے میری نسبت زیادہ عبادت و اطاعت کی ہے اور ایمان و معرفت میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اگر کسی ایسے مسلمان کو دیکھے جو عمر میں اس سے چھوٹا ہو تو بھی یہی کہے یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ اس نے میری بنسبت گناہ کم کئے ہیں۔ اگر کسی مسلمان بھائی سے کوئی قصور ہو جائے اور وہ معذرت کرے تو اس کی معذرت قبول کر کے اس کا قصور معاف کر دیا جائے۔اللہ تعالی کے اس بابرکت نام میں یہ خاصیت ہے کہ * جوشخص کثرت سے اس اسم مبارک کوپڑھتارہے گا انشاء اللہ تمام آفتوں سے محفوظ رہے گا ۔* اگر مریض کے پاس اس کے سرہانے بیٹھ کر دونوں ہاتھ اٹھا کر اس اسم مبارک کو (۱۳۶) مرتبہ بلند آواز سے کہ مریض بھی سن لے پڑھیں توانشا ء اللہ اس کو شفا ء نصیب ہوگی ۔* جو ہمیشہ صبح کی نماز کے بعد ہزار ( ۱۰۰۰) باراس اسم کو پڑھے گا اس کا علم زیادہ ہوگا ۔

اگر کوئی اس اسم کو ایک سواکتالیس (۱۴۱)بارپڑھ کر بیمار پردم کرے تو بیمارصحت پائے گا ۔* جو اس اسم کو کثرت سے پڑھے یالکھ کرپاس رکھے دشمن سے بے خوف رہے گا ۔* بیمار یا خائف اگر ایک سوگیارہ ( ۱۱۱) بار پڑھ کردم کرے تو بیماری اور خوف سے محفوظ رہے گا ۔* یہ اسم مبارک چھ سونو ے( ۶۹۰) بار شیرینی پر پڑھ کردشمن کو کھلا ئے تو دشمن مہربان ہوجائے ۔* اگر کوئی ایک سواکیس باریہ اسم اور سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ کسی مریض پرپڑھے تو مریض شفاء پائے گا۔ *مرض اگر بہت پرانا یاشدید ہو تو مریض خود یا کوئی دوسرا شخص پندرہ دن تک آٹھ سو سترہ ( ۸۱۷) باریہ آیت اس پر پڑھ کردم کرے ۔* جوہرفرض نماز کے بعد پندر ہ مرتبہ اَللّٰھُمَّ یَاسَلَامُ سَلِّمْ پڑھتا رہے اللہ تعالی اسے ہرطرح کی سلامتی عطاء فر مائے گا ۔ *جس مریض کے علاج سے ڈاکٹر عاجز آگئے ہوں اس کی شفایا بی کے لئے اس اسم کا سوالاکھ کا ختم نہایت مجرب ہے ۔* جس شخص کو دشمنوں سے جان کا خطرہ ہو وہ گھر سے نکلتے وقت یا حَافِظُ یاسَلامُ پڑھتا رہے تو اللہ تعالیٰ اسے دشمن کے شرسے محفوظ رکھیں گے ۔ اگر کوئی شخص اس اسم مبارک کو کسی بیمار پر ایک سو گیارہ مرتبہ پڑھے تو انشاء اللہ حق تعالیٰ اسے صحت وشفا عطا فرمائے گا اور اگر کوئی شخص اس کو برابر پڑھتا رہے تو خوف سے نڈر ہو گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کے ذریعے سلامتی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment