اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام الباعث کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

Al Bais

الباعث اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الباعث کے معنی ہیں مردوں کو زندہ کرنے والا۔ جوقیامت کے دن اپنی مخلوقات کو دوبارہ زندہ کریگا۔مردوں کی قبروں سے اٹھانے والا اور زندہ کرنے والا ، غافلوں کا دل خواب غفلت سے بیدار کرنے والا۔انسان سے اس کے اچھے بُرے اعمال کا حساب لینے کے لئے اسے دوبارہ زندگی دی جائے گی۔

یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جیسا کہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ جس خالق نے انسان کو پہلی بار محض اپنے حکم (انرجی، روح) سے ترتیب وار تخلیق کیا تھا وہی خالق (جب اس کی منشا ہو گی )دوبارہ اپنے ایک حکم سے اسی انسان کو اسی ترتیب سے دوبارہ ترتیب دے دے گا۔ اور خالق کو یہ سب کرنے کے لئے محض حکم(پروگرام) دینا ہو گا اور اس حکم کے عین مطابق اسی پرانے انسان کی ترتیب و تخلیق کا پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا۔ لہذامادی زمین سے مادی جسم کے وہی ذرات جو مادی جسم کی موت کی صورت مادی زمین میں منتشر ہوئے تھے۔ مادی جسم کی دوبارہ یکجائی ہو گی اور وہی پرانا مادی جسم دوبارہ موجود ہو جائے گا لہذا جس جس فضا میں جس جس زمین پر انسان نے اپنا لباس جسم اتارا تھا اس اس فضا سے یہی ذرات دوبارہ اکھٹے کر کے وہی پرانا انسان دوبارہ تشکیل دے دیا جائے گا۔اور یہ دوسری زندگی انسان کو اس کی عملی زندگی کے اختتام کے بعد ملا ہے اور یہ دوسری زندگی انسان کو اپنی پہلی زندگی کا حساب دینے کے لیے ملا ہے۔ لہذا اب انسان کو زندگی میں کیے ہوئے ہر عمل کا حساب دینا ہو گا۔)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روز سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ سمندر کی مچھلیاں اس کی لاش کو کھا رہی ہیں۔ اور تھوڑی دیر کے بعد پرندے آ کر اس لاش کو کھانے لگے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ جنگل کے کچھ درندے آئے اور وہ بھی اس لاش کو کھانے لگے۔ آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کو شوق ہوا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ مُردے کس طرح زندہ کئے جائیں گے۔چناچہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا کہ یا اللہ تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے۔۔ تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ۔۔ “تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا لو پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو۔ پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے”۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ، ایک کبوتر، ایک گدھ، ایک مور۔ ان چار پرندوں کو پالا۔ اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا لیا۔ پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا کہ اے مرغ ۔ اے کبوتر۔ اے گدھ ۔اے مور۔آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہرپرند کا گوشت، پوست ،ہڈی، پر، الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا۔اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآنِ مجید کی سورئہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ : اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔

فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (البقرۃ 260)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن چار پرندوں کو ذبح کیا ان میں سے ہر پرند ایک بری خصلت میں مشہور ہے۔ مثلاً۔۔ مور کو اپنی شکل و صورت کی خوبصورتی پر گھمنڈ رہتا ہے۔۔ اور مرغ میں کثرت شہوت کی بری خصلت ہے۔۔ اور گدھ میں حرص اور لالچ کی بری عادت ہے۔۔ اور کبوتر کو اپنی بلند پروازی اور اونچی اڑان پر غرور ہوتا ہے۔تو ان چاروں پرندوں کے ذبح کرنے سے ان چاروں خصلتوں کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے کہ چاروں پرند ذبح کئے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر نظر آیا اور ان کے دل میں نور اطمینان کی تجلی ہوئی۔ جس کی بدولت انہیں نفسِ مطمئنہ کی دولت مل گئی۔تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا دل زندہ ہوجائے اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی دولت نصیب ہوجائے اس کو چاہئے کہ مرغ ذبح کرے یعنی اپنی شہوت پر چھری پھیر دے۔اور مور کو ذبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لباس کے گھمنڈ کو ذبح کرڈالے۔ اور گدھ کو ذبح کرے یعنی حرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے۔ اور کبوتر کو ذبح کرے یعنی اپنی بلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نخوت پر چھری چلا دے۔اگر کوئی ان چاروں بری خصلتوں کو ذبح کرڈالے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے دل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہو جائے گا۔اللہ تعالی کے اس اسم الباعث سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ جاہل نفسوں کو تعلیم دے کر اور نصیحت کرے انہیں دنیا سے بے رغبتی کا احساس دلا کر اور آخرت کی نعمتوں کا راغب بنا کر جہالت و غفلت کے خواب سے انہیں بیدار کرے اور ان کے مردہ قلوب کو زندہ کرے۔

چنانچہ وہ اپنے نفس سے اس کی ابتدا کرے اس کے بعد دوسروں کی طرف متوجہ ہو۔اللہ تعالی کے اس اسم الباعث کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کے قلب کو حقیقی زندگی ملے تو سوتے وقت اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اس اسم پاک کو ایک سو ایک بار پڑھے۔ حق تعالیٰ اس کے دل کی مردنی کو دور کرے گا اور اسے حیات بخش کر انوار کا مسکن بنائے گا۔* جوشخص روزانہ سوتے وقت سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک سو ایک مرتبہ یَابَاعِثُ پڑھا کرے انشاء اللہ اس کا دل علم وحکمت سے زندہ ہوجائے گا۔* جواس اسم کو سو بار ہر روز پڑھنے کا معمول بنا ئے گا اس سے انشاء اللہ نیکیاں سرزدہونگی اور برائیوں سے بچار ہے گا۔* جوکوئی اس اسم کو سات بار پڑھ کراپنے اوپر پھونکے اور حاکم کے روبروجائے تو حاکم مہر بان ہو جائے گا ۔* جو کوئی اس کا بکثرت وردرکھے گا خوفِ الٰہی اس پر غالب رہے گا ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین

Leave a Comment