اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام الباسط کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

albasit

الباسط کے معنی ہیں خوشحالی دینے والا۔ وہ ذات جو زندگی دیتے وقت روحوں کو جسموں میں چھوڑ دےرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ خالق بھی ہیں القابض بھی ہیں اور الباسط بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ مخلوق کی موت کے وقت ان کی ارواح قبض کر لیتا ہے۔ اور مخلوق میں سے جس کا رزق تنگ کرنا چاہے تنگ کر دیتا ہے اور مشرکین و کفار کے دلوں کو بند کر دیتا ہے۔

اور قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس بندے کا رزق چاہے کشادہ کر دے۔ اور جس بندے کے دل پر چاہے اپنی رحمت کو وسیع کر دے۔ اور جس بندے کو چاہے وسعت علَمی دے دے۔کمزوروں کا رزق فراخ کرنے والااور امیروں کا رزق فراخ کرنے والا کہ فقرو فاقہ کی نوبت نہ رہے اپنے لطف و کرم سے دلوں کو نیکی کی قوت اور توفیق دے کر وسعت دینے والا۔بندوں کی روزی میں وسعت اور فراخی پیدا کرنے والا یا ان کا دل کشادہ کرنے والا۔ الباسط کے معنی یہ بھی کئے جاتے ہیں ’’ وسیع کرنے والا‘‘رزق کو وسیع کرتا ہے، فراخی دینے والا، دلوں کو کھولتا ہے اور یہ سب کچھ اس کی رحمت اور حکمت کے تحت ہے۔االہ تعالیٰ نے سورۃ ھود میں فرمایا: زمین پر چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔“ (ھود۔۶)ایک اور جگہ فرمایا:وہ کون ہے جو تم کو رزق پہنچاتا ہے‘ اگر اللہ اپنا رزق بند کرلے۔ (الملک۔ ۲۱)رزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار و ذمہ مالکِ کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیب و طاہر اور پاک رزق عطا فرماتا ہے اور اس رزق میں اضافہ و فراخی کے مواقع بھی بخشتا ہے۔ مگر اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں۔ کہ رزق کا وعدہ رب تعالیٰ کی ذات نے کر رکھا ہے، لہٰذا وہ ہماری قسمت میں لکھا گیا دانہ پانی تقدیر کے مطابق ضرور عطا فرماتا ہے۔ تاہم کچھ لوگ توکؔل اوریقین کی کمی کا شکار ہو کر قبل از وقت، ضرورت سے زیادہ طلب کرتے یا لالچ کا شکار ہو کر بعض اوقات ناجائز و حرام ذرائع کے استعمال سے اپنا حلال کا رزق بھی کھو دیتے ہیں۔ اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب ﷺ نے ہمیں رزقِ حلال کی طلب، کمانے کا طریقہ، تجارت اور کاروبار کے مکمل اصول سکھائے اور بتائے ہیں۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلامی حدود اورشرعی تعلیمات کے مطابق ملازمت، کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تب تک سب کچھ ٹھیک رہتا ہے۔

جب ہم شرعی حدود سے تجاوز اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو رزق میں سے برکت اٹھنا شروع ہو جاتی ہے اور یوں بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالک بھی بھکاری بن جایا کرتے ہیں۔ ناظرین رزق حلال کمانے والوں کے لیے اللہ پاک اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے دنیا میں باعزت رکھتا ہے آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے مگر اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی ہے اور یہی سب سے بڑی ذلت ہے ناظرین اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم رازق کو بھول جاتے ہیں اور روزے کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ اگر ہم روزی کو چھوڑ کر رازق کے پیچھے لگ جائیں تو روزی خود بخود آپ کے پیچھے ہوگئی رات دیر تک جاگتے رہنے اور صبح کو دیر سے بیدار ہونے کی خراب عادت اب ہماری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے ہم کبھی یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا نقصانات پہنچا رہی ہے۔چند چیزیں ایسی ہیں کہ جنہیں اپنا کر ہم رزق میں برکت پا سکتے ہیں وہ یہ ہیں گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭ اشراق کے نوافل پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔٭ نماز پڑھنے سے رزق کی تنگی دور ہوجاتی ہے۔٭ درودشریف پڑھنا مال کو بڑھاتا ہے۔٭استغفار کرنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭سورۂ واقعہ کی تلاوت فاقہ کو دور کرتی ہے۔٭صدقہ کرنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭سورۂ اخلاص پڑھنے سے پڑوسیوں کا بھی فاقہ ختم ہوجاتاہے۔٭آیۃ الکرسی پڑھنا فقر کو دور کرتا ہے۔٭تقویٰ اختیارکرنے سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔٭پاک‘ صاف دسترخوان پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھا کر کھالینے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔٭عاشورہ کے دن فراخی پورے سال اہل وعیال میں فراخی لاتی ہے۔٭ صلہ رحمی کرنے سے رزق میں وسعت ہوتی ہے۔٭ والدین کی خدمت کرنے سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔

٭صبح کے کاموں میں برکت ہوتی ہے۔٭حج و عمرہ کرنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭ نکاح کرنے سے رزق میں برکت ہے۔٭اہل وعیال پرفراخی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔٭کمزوروں کی دلجوئی کرنے سے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔٭رزق کا ادب کرنے سے رزق حاصل ہوتا ہے۔٭کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے سے رزق بڑھتا ہے۔٭باوضو رہنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭شکر ادا کرنے سے رزق بڑھتا ہے۔٭ سچ بولنے سے رزق بڑھتا ہے.اللہ تعالی ہمیں حلال راہوں سے برکت والا رزق عطا کرے. اللہ تعالی کے دونوں ناموں (یعنی القابض اور الباسط) سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی بلاء و مصیبت کے وقت ناامید ہو اور نہ اس کی بخشش عطاء کے وقت بے فکری اختیار کرے اور تنگی کو اس کے عدل کا نتیجہ جانے اور اس پر صبر کرے اور فراخی و وسعت کو اس کے فضل کا ثمرہ سمجھے اور اس پر شکر گزار ہو۔ ! قشیری کہتے ہیں کہ یہ دونوں کیفیت یعنی دل کا تنگ اور کشادہ ہونا۔ عارفوں کے دل پر طاری ہوتی ہے کہ جب خوف خدا غالب ہوتا ہے تو ان کے دل تنگ ہوتے ہیں اور جب رحمت کی امید غالب ہوتی ہے تو ان کے دل کشادہ ہوتے ہیں! چنانچہ حضرت جنید بغدادی کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا خوف میرے دل کو تنگ کر دیتا ہے امید میرے دل کو کشادہ کر دیتی ہے حق مجھے جمع کرتا ہے (یعنی حق تعالیٰ کی یاد سے مجھے خاطر جمعی حاصل ہوتی ہے) اور مخلوق مجھے منتشر کرتی ہے (یعنی مخلوق کی صحبت سے میں پراگندہ خاطر اور متواحش ہوتا ہوں) اور بندہ کی شان کا تقاضہ یہ ہے کہ تنگی اور پریشانی کی حالت میں بے قراری سے پرہیز کرے اور وسعت فراخی کے وقت بے جا خوشی اور بے ادبی سے اجتناب کرے کہ ان چیزوں سے بڑے بڑے لوگ ڈرتے رہے ہیں۔

اللہ تعالی کے اس اسم الباسط کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ * جوشخص نمازِ چاشت کے بعد آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر روزانہ دس مرتبہ اس اسم مبارک کوپڑھے گا اور منہ پر ہاتھ پھیر ے گا اللہ تعالی اسے غنی بنادیں گے اور وہ کبھی کسی کامحتاج نہ ہو گا۔ *جواسے چالیس بارپڑھے گا انشاء اللہ مخلوق سے بے پرواہوگا ۔ *مشکلات سے نجات کیلئے نماز کے بعد ایک سوچالیس بار ہر روز اس کا پڑھنا مفید ہے ۔ *کشائش کیلئے بہتر ( ۷۲) دن تک روزانہ بارہ ہزار بار یہ اسم پڑھے ۔*جوکوئی تین رات میں سوالا کھ (یَا بَاسِطُ ) ختم کرے اور اول وآخر سوسو باردرودشریف پڑھے اسے انشاء اللہ غیب سے روزی ملے گی تین راتوں کے بعد روزانہ سوبار پڑھ لیا کرے ۔* جوکوئی سحر کے وقت آنکھیں بند کرکے گیارہ مرتبہ یہ اسم پڑھے اور ہاتھ پردم کرکے منہ پر پھیر ے پھر آنکھیں کھول کر ہاتھوں کی طرف دیکھے پھر بہتر (۷۲) بار پڑھ کر یہ آیت تلاوت کرے۔انشاء اللہ اس دن بھوکانہ رہے گا ۔* جو بہتر ( ۷۲) بار روزانہ اس اسم کو پڑھا کرے اسے حق تعالی تما م آفتوں سے محفوظِ رکھتا ہے۔* جو کوئی اس اسم کو رات کے آخری حصہ میں ہاتھ اٹھا کردس بار کہے ہمیشہ خوش دل رہے اور غم والم نہ ہو اور ایسی جگہ سے نفع ہوجہاں سے امید نہ ہو ۔ جو شخص سحر کے وقت ہاتھ اٹھا کر اس اسم پاک کو دس بار پڑھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیرے تو اسے کبھی یہ ضرورت محسوس نہیں ہو گی کہ وہ کسی سے اپنی کوئی حاجت پوری کرنے کی درخواست کرے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس نام کی برکت سے ہم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور ہمیں رزق کے ساتھ اعمال میں بھی برکتیں اور رحمتیں عطا فرمائے ۔ آمین ۔

Leave a Comment