اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے نام الباری کا معنی مفہوم اور وظائف

al bari

الباری کے معنی ہیں ’’عدم سے وجود بخشنے والا‘‘عدم سے وجود میں لانے والاجو وجود میں لاکر اس کے معاش کی تدبیر کرنے والا ہے۔ جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا، انھیں وجود بخشا اور اپنی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا اور اپنی حمدوحکمت کے ساتھ ان کی صورت گری کی۔ وہ ازل سے اس وصف عظیم کا حامل ہے۔ جس نے تمام مخلوقات کو کسی نقص یا عیب یا فرق کے بغیر پیدا کیا۔

اس کے باوجود اس کی پیدا کردہ تمام مخلوقات ایک دوسری سے علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر فرد مخصوص پہچان رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وہی خدا (تمام مخلوقات کا) خالق۔ ایجاد واختراع کرنے والا صورتیں بنانے والا اس کے سب اچھے سے اچھے نام ہیں۔ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے-سائنس دانوں نے اس سوال کا جواب دینے کے لیے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور خلا کیا ہے اپنے مطالعے، مشاہدے اور تحقیق سے کچھ نظریے قائم کیے ہیں۔ قرآن اس کے بارے میں کیا فرماتا ہے، یہ ڈاکٹر دلدار احمد قادری نے جاننے کی کوشش کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک کا مقصد سائنسی نظریے پیش کرنا یا سائنسی علوم سکھانا نہیں ہے لیکن قرآنی آیات میں کائنات کے بارے میں جو اشارے ہیں۔ سائنس کے ایک طالب علم کی حیثیت سے انھوں نے ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور جدید و قدیم دورکے محقق مفسرین نے ان آیات کا جو مفہوم سمجھا ہے اسے بھی مد نظر رکھا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن فرماتے ہیں ’’بیسویں صدی کے نصف آخر میں خلائی سائنس نے محیر العقول ترقی کی ہے۔ آج سے پچاس سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انسان چاند پر قدم رکھ سکتا ہے لیکن آج انسان کو چاند پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ انسان کی دور بین، خلائی اسٹیشن اور تحقیقی سیارے دور درازکی کہکشاؤں اور ستاروں کے بارے میں تحقیق کر رہے ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو اس نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبیؐ پر بھیجی ہے۔ قرآن میں کثرت سے ایسے اشارے موجود ہیں جو سماوی کائنات پر تحقیق کرنے والوں کے لیے روشنی کا منبع ہیں۔

معروف ڈاکٹر کہتے ہیں۔ ’’جب ہم علوم سماوی Cosmology کے حوالے سے تحقیق کرتے ہیں تو قرآن حکیم کی بہت سی آیات ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔ یہ بات جانی پہچانی ہے اور اس کا اظہارگزشتہ صدی کے عظیم قرآنی مفسر علامہ طنطاوی جوہری نے بھی کیا ہے کہ قرآن حکیم میں کم از کم سات سو پچاس آیات ایسی ہیں جن میں کائنات اور کائناتی مظاہر پر غور و فکر کی ترغیب و تحریک دی گئی ہے۔ گویا قرآن کثرت کے ساتھ اور بار بار اپنے قاری کی توجہ انفس و آفاق کی حقیقتوں کی طرف مبذول کراتا ہے اورانھیں کائنات کے خالق کی ہستی (Existence) توحید اور قدرت کے اظہار کے لیے دلیل و شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے، سب سے پہلے سورۂ آل عمران کی آیات 190 اور 191 کا مطالعہ کیجیے ارشاد ہوتا ہے:’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی تخلیق پر غورکرتے ہیں اورکہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘احادیث میں آتا ہے کہ حضورؐ جب ایک شب حسب معمول تہجد کے لیے اٹھے تو آپؐ نے ان آیات اور آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت فرمائی۔ اس دوران میں آپؐ کی نظر آسمانوں کی طرف تھی اس حال میں آپؐ نے فرمایا: ’’افسوس ہے ان پر جو ان آیات کو پڑھے مگر ان پر غوروفکر نہ کرے۔قرآن مجید کی جن آیات میں سماوی کائنات کے اشارے ملتے ہیں ان کا ذکرکرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ سورۂ رحمان میں باری تعالیٰ نے جو یہ ارشاد فرمایا کہ ’’اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان رکھی، تو یہ آسمان کی بلندی یعنی سماوی یا کائناتی وسعتوں اور اس عظیم نظام توازن کی طرف اشارہ ہے جو پوری کائنات میں کار فرما ہے۔ سورۂ رحمن ہی میں انسان کو دعوت دی گئی ہے کہ اگر اس سے ہوسکے تو وہ آسمانوں اور زمین کی حدود سے نکل جائے تو ایسا کر ڈالے مگر ضروری قوت (سلطان) کے بغیر وہ ایسا نہیں کرسکے گا۔

گویا چودہ سو سال پہلے انسان کی توجہ کائنات کی وسعتوں اور خلائی سفروں کے امکانات اور تقاضوں کی طرف دلائی جارہی ہے۔ حیرت ہے کہ قرآن نے ان تجربوں یا مشاہدوں اور عجیب و غریب کیفیتوں اور حیرتوں کا بھی ضمنی طور پر ذکرکیا ہے جن سے ایک انسان کو خلائی سفر میں دو چار ہونا پڑتا ہے۔رآن مجید میں سات مقامات پر اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں تخلیق کیا ہے۔ اکثر مقامات پر یوم کا لفظ عام دن کے مفہوم میں نہیں بلکہ مطلق وقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ڈاکٹر قادری کہتے ہیں کہ اللہ قادر مطلق ہے، کائنات کو چھ ایام میں تخلیق کرنے کا مطلب ہے تدریجی یا ارتقائی طور پر تخلیق کرنا گویا چھ ایام کہنا اس بات کا علامتی اظہار ہے کہ کائنات کو بہ طریق ارتقا تخلیق کیا گیا۔اللہ تعالی کی قدرت کاملہ اور عدم سے تخلیق کے بعد اب ہم اللہ تعالی کے نام ) اَلْبَارِئُ کے فوائد و ثمرات کو بیان کرتے ہیں * اگر بانجھ عورت سات روزے رکھے اور پانی سے افطار کرنے کے بعد (۲۱) مرتبہ اَلْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ پڑھے انشاء اللہ اسے حمل قرار پائے اور اولادِ نرینہ نصیب ہو۔ * طبیب اس اسم کو پابند ی سے ہمیشہ پڑھے تواس کے ہاتھ میں شفاہوگی ۔ *جوکوئی ہفتہ کے دن اس کو سوبار پڑھے گا اللہ تعالی اس کو جنت الفردوس کی طر ف لے جائے گا۔ *جو کوئی اس اسم کو دو سوچوالیس(۲۴۴) بار پڑھے اس کی جوبھی مراد ہوپور ی ہوگی ۔ *جوکوئی اس اسم پہ مداومت کرے گا ، حق تعالی اس کیلئے ایک مونس پیدا کرے گا۔* اس کا بکثر ت ذکر کرنے سے صنا ئعِ عجیبہ کا ایجادآسان ہوجاتاہے ۔

جو شخص سات دن تک روزانہ اس کو سوبار پڑھے گا اللہ تعالی اسے امراض سے شفااور آفات سے سلامتی عطا فرمائے گا ۔ جو شخص اس اسم کو ہفتہ میں سو بار پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اس کو قبر میں نہیں چھوڑے گا بلکہ ریاض قدس میں لے جائے گا اور جو حکیم و معالج اس اسم کو مستقل طور پر پڑھتا رہے وہ جو بھی علاج کرے گا کامیاب رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کو پٹھنے اور اس کے فضائل و برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment