اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے صفاتی نام الخالق کامعنی، مفہوم اور وظائف

al khaliq

الخالق اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:“میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں۔”آیت مبارکہ ہماری راہ نمائی کرتی ہے کہ تخلیق کا وصف اللہ تعالیٰ مخلوق کو بھی عطا کرتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جب تخلیق کا ذکر فرمایا ہے تو اس میں جمع کا لفظ استعمال کیا ہے۔

سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ رب سے مراد یہ ہے کہ عالمین میں جتنی بھی مخلوقات ہیں، ان مخلوقات کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کرنے کے بعد ان کو زندہ رہنے کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔مخلوق ایک نہیں ہے۔ بے شمار مخلوقات ہیں۔عالمین میں کتنی مخلوقات ہیں؟ اس کا کوئی شمار نہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ دوبارہ کیسے زندہ کریں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں یقین نہیں ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ یقین تو ہے دل کا اطمینان چاہتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا کہ چار پرندے لو، ان کو اپنے آپ سے مانوس کرو، ان کوذبح کر کے ایک پہاڑی پر رکھ دو اور کہو کہ اللہ کے حکم سے اڑ کر آؤ۔ جب تم بلاؤ تمہارے پاس آ جائیں گے اور اللہ کے حکم سے پرندے زندہ ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے۔ اس کی تشریح میں بزرگ فرماتے ہیں کہ چار پرندوں کا گوشت ہڈی سمیت ایک جگہ ذبح کر کے رکھ دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان پرندوں کو بلایا، چار پوائنٹ بن گئے۔ مثلاً یوں سمجھئے۔ ایک مور ہے ایک کبوتر ہے ایک مرغی ہے ایک چڑیا ہے۔ چار پرندوں کے گوشت اور ہڈیاں اٹھ کر ایک ایک پوائنٹ پر آ کر جمع ہوتی گئیں اور چاروں پرندے زندہ ہو گئے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کا اختیار دیا ہے۔ لیکن وہ وسائل کا پابند ہو کر تخلیق کرتا ہے۔ اللہ کے علاوہ جتنے تخلیق کرنے والے ہیں وہ اللہ کے علم کے تحت کسی تخلیق کو وسائل کے ساتھ بنانے پر مجبو رہیں۔ وسائل کی موجودگی کے بغیر کوئی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ وسائل کے پابند نہیں ہیں۔ اللہ کی تخلیق میں وسائل بھی خود بخود تخلیق ہوتے ہیں۔اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ تمہیں یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ہم دوبارہ زندہ کر دیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ مجھے یقین ہے لیکن میں اطمینان قلب چاہتا ہوں۔

اگر کوئی بندہ اللہ کی تخلیق میں تصرف کرنے کے لئے یا اللہ کی کائنات میں کسی چیز کو دیکھنے کے لئے اپنا اطمینان چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے منع نہیں کرتے۔ اگر اللہ تعالیٰ منع کرتے تو یہ نہ کہتے کہ کیا تمہیں یقین نہیں ہے۔ اس امر سے اللہ تعالیٰ کا مزاج اقدس اور اللہ تعالیٰ کی عادت شریف کا پتہ چلتا ہے کہ اگر بندہ کائنات کی کھوج میں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے مواقع فراہم کرتے ہیں۔الخالق کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔ جس نے تمام موجودات کو پیدا کیا، انھیں وجود بخشا اور اپنی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا اور اپنی حمدوحکمت کے ساتھ ان کی صورت گری کی۔ وہ ازل سے اس وصف عظیم کا حامل ہے۔ جو مخلوق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور وہی ایجاد کرتا ہے۔ جس کی سابقہ کوئی مثال نہ ہو اور الخلاق: اس خالق کو کہتے ہیں جو پے درپے مخلوقات پیدا کرے۔اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لیے پوری طرح اندازہ لگانا کے ہیں۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا ۔ (خالق) موجود ‘ بغیر مثال سابق کے اختراع کرنے والا۔ الخلاَّق: پہلی بار پیدا کرنے والا الخالق یعنی عدم سے وجود میں لانے والا۔ مادّہ پہلے موجود نہیں تھا اللہ ہی نے اسے وجود میں لایا اور تمام کائنات اسی نے پیدا کی۔ اس کے خالق ہونے کی صفت مشرکینِ ہند کے اس تصور کی تردید کرتی ہے کہ مادّہ ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “وہ اللہ ہی خالق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بے شک تیرا رب ہی ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق پیدا کرتا ہے۔ اور وہ مکمل علم رکھتا ہے۔

الخالق: جو مخلوق کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور وہی ایجاد کرتا ہے۔ جس کی سابقہ کوئی مثال نہ ہو اور الخلاق: اس خالق کو کہتے ہیں جو پے درپے مخلوقات پیدا کرے۔اسی طرح خالق کا ایک معنی مشیت وحکمت کے موافق پیدا ہونے والی چیز کا اندازہ کرنے والا۔لفظ خلق قرآن کریم میں ان جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔ فرمایا “بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔”ایک اور جگہ فرمایا “اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا پورا پورا اندازہ (مقرر) کیا۔”لفظ “خلق” کا استعمال اس معنی میں اللہ رب العالمین کے لئے خاص ہے، اس کے سوا کسی اور کے لئے جائز وروا نہیں جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:“کیا کوئی اور خالق ہے اللہ کے سوا؟” لفظ خلق کا ایک معنی اندازہ کرنا، گھڑنا۔لفظ “خلق” کا استعمال اس معنی میں ان آیتوں میں کیا گیا ہے:فرمایا“اور تم جھوٹا اندازہ کرتے ہو یا جھوٹ گھڑتے ہو۔”ایک اور جگہ فرمایا “با برکت ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔” اللہ کے سوا کسی اور پر لفظ “خالق” کا اطلاق بلا کسی قید کے جائز نہیں ہے۔ صفت “خلق” اللہ تبارک وتعالی کی “فعلی صفت” ہے۔ اللہ عز وجل اپنی اس صفت (خلق) کی بنیاد پر اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:“اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم بچ جائو۔پس جاننے کے باوجود اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔” جو لوگ اللہ تعالی کو خالق نہیں مانتے وہ کافر ہیں اور جو اس کو خالق تو مانتے ہیں لیکن معبود نہیں مانتے وہ بھی کافر ہیں اور جو اس کے سوا کسی اور کو بھی خالق یا معبود (برحق) مانتے ہیں وہ مشرک ہیں اور ہر مشرک کافر ہوتا ہے۔

قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب اور مکہ کے بیشتر لوگ اللہ تعالی کو خالق وغیرہ تو مانتے تھے مگر معبود برحق نہیں مانتے تھے اور اسی بنیاد پر وہ کفار ومشرکین ٹھہرے۔ قرآن مجید میں اللہ عز وجل کا نام “الخالق” (8) بار اور “الخلاق” (2) بار وارد ہوا ہے۔فرمایا “وہی اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا صورت بنانے والا، اسی کے لئے ہیں نہایت اچھے اچھے نام۔”دوسری جگہ فرمایا“بے شک تیرا رب ہی ہے پیدا کرنے والا اور جاننے والا۔”اللہ تعالی کے اس بابرکت نام اَلْخَالِقُ کی خاصیت یہ ہے * جو شخص اس اسم مبارک کو برابر پڑھتا رہتا ہے حق تعالیٰ اس کے لئے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے قیامت کے دن تک عبادت کرتا رہے اور حق تعالیٰ اس اسم مبارک کی برکت سے اس شخص کا دل اور منہ، روشن ونورانی کر دیتا ہے! حضرت شاہ عبدالرحمن نے فرمایا ہے کہ جو شخص رات میں یہ اسم بہت زیادہ پڑھے گا اس کا دل اور منہ روشن و منور ہو گا اور وہ تمام کاموں پر حاوی رہے گا۔* جس کا مال یابیٹا گم ہوگیا ہوا گر وہ پانچ ہزار بار اس کا وِرد کرے تو گمشدہ واپس آجائے گا ۔ *جواسے ہزار بار پڑھے گااسے اولا دنر ینہ نصیب ہوگی ۔ *جوکوئی لڑائی میں تین سوبار اس کوپڑھے گااس کا دشمن مغلوب ہوگا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس بابرکت نام کو پڑھنے اور اللہ تعالی کی صفت خلق کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment