اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے دو ناموں “الباعث” اور “الشھید” کا مطلب تفصیل کے ساتھ

الباعث سے مراد “اٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا”- ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہمیں اللہ نے پیدا کیا اور ہم نے اس کی طرف ہی لوٹ جانا ہے-ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی نے پیدا کیا لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں لوٹ کر بھی جانا ہے-ہم گناہوں اور اپنے نفس میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ ہم آخرت کو فراموش کر دیتے ہیں-ہم موت کے ذکر سے دور بھاگتے ہیں-

ہم موت سے نہیں در حقیقت اپنے اصل سے دور بھاگتے ہیں-ہم جانتے ہیں کہ جن کاموں میں ہم پڑے ہیں اس کا انجام بلکل بھی اچھا نہیں-کفار اس بات سے انکار کیا کرتے تھے کہ انسان مر کر دوبارہ زندہ کیا جائے گا-وہ سوال بھی کیا کرتے تھے کہ جب انسان مر جائے گا اور اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے-تو اللہ تعالی نے اس کا جواب بھی دیا تھا ان کو کہ اللہ تعالی نے جس طرح ان ہڈیوں سے ہمیں پہلے پیدا کیا تھا اس طرح وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے-یعنی جو ایک بار پیدا کر سکتا ہے اس لیے دوسری بار کیا مشکل ہوگی-اصحاب کہف والے واقعہ سے بھی ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ نے ان نوجوانوں کو پہلے مردہ کیا اور ان کو پھر سے زندہ کیا اور پھر سے مردہ کر دیا-یہ ان تمام لوگوں کو اللہ کاعملی جواب تھا کہ جو ایک بار پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی کر سکتا ہے-

الشھید سے مراد ” حاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے” ہے-کچھ لوگ اسی لیے بھی گناہ کرنے سے بچ جاتے ہیں کیونکہ ان کا ضمیر ان کو احساس دلاتا ہے کہ کوئی ہے جو تمھیں دیکھ رہا ہے-اگر تم یہ کام کرو گے تو اس کو کیسا لگے گا؟ وہ کیا سوچے گا تمھارے بارے میں؟تمھاری کیا عزت رہ جائے گی؟ تو انسان اس گناہ سے دور ہو جاتا ہے-لیکن کچھ لوگ اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ ان کو کوئی دیکھ رہا ہے-ان کا ضمیر ان کو ملامت بھی کرتا ہے لیکن ضمیر آخر کب تک آوازیں دے؟آخر کار ضمیر بھی چپ ہو جاتا ہے-اللہ تعالی بھی تو اس انسان کے دل پہ مہر لگا دیتے ہیں جو مسلسل نافرمانی کرتا رہے دین سے منہ موڑے دوسروں کو نقصان پہنچائے-اگر ہمارا نفس کوئی برائی کرنے پر آمادہ کرتا ہے تو اپنے ذہن میں پہلا خیال یہی لے کر آئیں کہ اللہ دیکھ رہا-وہ سب جانتا ہے جو ہم اپنے دل میں چھپاتے اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں-

Leave a Comment