اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے خوبصورت نام “الاحد” کا مطلب تفصیل کے ساتھ

الاحد سے مراد “اپنی ذات میں یکتا” ہے-یعنی اللہ تعالی ایک ہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں-کوئی شریک نہیں اس سے کیا مراد ہے؟ کس چیز میں شریک نہیں؟ یعنی کے یہ جو آسمان زمین پھل پھول جانور کیڑے مکوڑے چاند ستارے نیز جو بھی اس دنیا میں موجود ہے چاہے وہ ریت کا ایک ذرہ بھی کیوں نا ہی ان سب کا خالق بنانے والا صرف اللہ ہے-

اس اکیلے نے یہ جہان تخلیق کیا ہے-سورہ اخلاص میں بھی اللہ تعالی نے یہ بات باور کرا دی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ:” کہہ وہ اللہ ایک ہے-اللہ بے نیاز ہے- نا اس نے جنا اور نا ہی وہ جنا گیا-اور نہیں ہے اس کا شریک کوئی بھی” اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اپنی واحدنیت کا ذکر بہت بار کیا ہے-ہمارے کلمے میں بھی اس کا ذکر ہے-اور اللہ تعالی یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اللہ کو کسی اور کی ضرورت نہیں وہ اکیلا ہی کافی ہے-کچھ لوگ فرشتوں کو اللہ تعالی کی استغفراللہ بیٹیاں کہتے تھے-عیسائی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو ہی خدا مانتے ہیں حالانکہ حضرت نے عیسی نے اپنی ماں کو گود میں جو سب سے پہلے الفاظ کہے وہ یہ ہی تھے

کہ میں اللہ کا بندہ ہوں-یقینا یہ بات انجیل میں کی گئی ہوگی-لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے انجیل میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دیں-اللہ تعالی نے باقی آسمانی کتابوں میں بھی اپنی واحدنیت کا ذکر کیا ہے لیکن تمام کتابیں آج اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں صرف قرآن پاک ہی ہے-جس کی پیروی تمام مسلمان کرتے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں-اور اس سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں-اللہ تعالی نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اللہ تعالی کوئی بھی کفر معاف کردیں گے لیکن شرک اللہ تعالی ہر گز معاف نہیں کریں گے-اسی لیے ہمیں صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اسی سے مانگنا چاہیے اسی کے آگے ہاتھ پھیلانے چاہیے

اور اسی سے امید رکھنی چاہیے کہ وہی عطا کرے گا-جس نے یہ پورا نظام کائنات تخلیق کیا وہ بھلاں ہماری دعا قبول کیونکر نا پوری کرے گا؟اس کے لیے بھلاں کچھ مشکل ہے؟اللہ تعالی کو ہمارا دعا مانگنا بہت پسند ہے جب بندہ رو کر گڑگڑا کر دعا مانگتا ہے تو اللہ خوش ہوتا ہے کہ اس بندے کا ایمان کتنا پکا ہے کہ اسے یقین ہے کہ صرف اللہ ہی ہے خو عطا کر سکتا ہے-

Leave a Comment