اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے اسم الکبیر کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

آل

الکبیر اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الکبیر کے معنی بڑائی والا کے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہیں (اس لیے کہا جا رہا ہے ) کہ جب وہ اللہ اکیلا پکارا گیا تم نے کفرکیا۔ اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم ایمان لاتے۔ پس حکم اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو بلند شان والا بڑائی والا ہے۔ :(’غافر: 21)الکبیر لغت میں اسے کہتے ہیں جو سب سے بڑا ہو۔

الکبیر کے معنی بہت ہی بڑا ، جس کی شان و شوکت کے سامنے بڑے سے بڑا بھی حقیر ہے۔اور اس سے بھی بڑا ہو کہ اس کی کبریائی اور عظمت کا کوئی احاطہ کر سکے۔ اور وہ اپنی مخلوق کی مشابہت سے بھی بڑا ہو۔ ارض و سماء اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب اشیاء اللہ کے ہاتھ میں ا س طرح ہیں جس طرح ہم میں سے کسی کے ہاتھ میں رائی کا دانہ ہو۔ الکبیرسے مراد بڑا اور ایسا بڑا کہ اس کی بڑائی میں کوئی اس کا ہمسفر نہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ، رات و دن کے ہیر پھیر اور پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں ، ان کشتیوں اور جہازوں میں جو انسانوں کے فائدے کی چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے پانی میں جسے اﷲ آسمان سے برساتا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔ ‘‘اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی جن نشانیوں میں عقلمندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے اُن میں سب سے پہلے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر ہے ۔کائنات میں غور و فکر کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس میں جتنا تدبر کیا جائے گا ، اتنے ہی اس کے اسرار و رموز منکشف ہو ں گے اور خالق کائنات کی عظیم قدرت پر ایمان و یقین میں اضافہ ہوگا ۔ آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر اور ان میں غور و فکر کی دعوت قرآن پاک کی اور بھی آیات میں ہے۔ چند آیات کا ترجمہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں ، ارشاداتِ ربانی ہیں : ٭ اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ( الرعد2)۔

٭ اسی ( اﷲ ) نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا تم انھیں دیکھ رہے ہو ( لقمان10)۔ ٭ ہر شخص اپنی آنکھوں سے ہر روز ہر لمحہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے اور کرسکتا ہے کہ اس کے سرپر یہ بلند و بالا آسمان چھت کی مانند بغیر کسی ستون کے قائم ہے۔ کیا دنیا میں آج تک کسی انسان نے ستون کے بغیر کوئی عمارت قائم کی ؟ اور کیا عقلِ انسانی اس کا تصور کرسکتی ہے اور کیا ایسا ممکن بھی ہے ؟ لیکن اﷲ کی قدرت کا یہ عظیم شاہکار کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ بہت بڑی قدرت و طاقت کا مالک ہے ’’ کیا اﷲ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ ‘‘ ( ابراہیم10)۔٭ اے لوگو ! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش کو برسایا پھر اس سے تمہاری روزی کیلئے پھل نکالے ، پس جانتے بوجھتے اﷲ کے لئے شریک مقرر نہ کرو ( البقرۃ22,21)۔٭ اور ہم نے ہی آسمان کو محفوظ چھت بنایا لیکن لوگ اس کی نشانیوں سے منھ موڑتے ہیں (الانبیاء32) ۔یعنی اﷲ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں غور و تدبر نہیں کرتے بلکہ اس سے منھ موڑے گزر جاتے ہیں ، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ چیزیں کھانے کو دیں ، یہی اﷲ تمہارا پروردگار ہے ،پس اﷲ بہت ہی برکتوں والا اور سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ‘زمین کو اﷲ نے ٹھہرنے کی جگہ ، جائے قرار بنایا یعنی اس قابل بنایا کہ اس زمین پر انسان زندگی گزار سکے اور اس میں قیام کرسکے ۔

اسے نہ اتنی سخت بنایا کہ انسان سردی گرمی سے بچنے کیلئے اس پر گھر وغیرہ تعمیر نہ کرسکے اور نہ اتنی نرم بنایا کہ کوئی چیز اور خود انسان اس پر ٹھہر ہی نہ سکے ، پھر اس زمین پر اُسی اﷲ نے اپنی حکمت سے مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ اس کا توازن برقرار رہے اور وہ نوعِ انسانی کے بوجھ سے اِدھر اُدھر نہ ڈولے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ تمہیں لے کر نہ ہلے اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں ، تو کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔ ‘آسمان قدرت الٰہی کا اس اعتبار سے بھی مظہر ہے کہ وہ نہایت بلند ہے ۔اس کی بلندی کا صحیح ادراک انسانی عقل شاید نہ کرسکے۔ اس نیلگوں آسمان کے نیچے بے شمار کواکب اﷲ کے حکم سے گردش کررہے ہیں ۔ کرۂ ارض پر انسانی زندگی کی بقاء اور اس کی منفعت کے پیش نظر چاند سورج 2 اہم سیارے ہیں جن کی گردش سے لیل و نہار اور سال کے موسموں کی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ سورج اور چاند کے علاوہ اس آسمانِ دنیا کو اﷲ نے بے شمار ٹمٹماتے ستاروں سے مزین کردیا ہے جو نہ صرف آسمانِ دنیا کی زینت ہیں بلکہ وہ رات کی تاریکی میں راہ چلتے مسافروں کو راستہ دکھاتے اور صحیح سمت متعین کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں ۔سورۃ الملک کی آیت ایک تا5 پڑھئے اور اس میں غور کیجئے کہ کس طرح اﷲ تعالیٰ کی عظمت و بلندی اور اس کی عظیم قدرت و سلطنت کا بیان ہوا ہے بہت بابرکت ہے وہ اﷲ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے جس نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے ؟ اور وہ غالب اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے ، اسی نے اوپر تلے7 آسمان بنائے ، تو ( اے دیکھنے والے !) رحمن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا ، دوبارہ ( نظر ڈال کر ) دیکھ لے کیا اس میں کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے ؟

پھر2,2بار نظر لوٹا کر دیکھ تیری نگاہ تیری طرف عاجز اور تھکی ہوئی لوٹ آئے گی ، بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں ( یعنی ستاروں ) سے مزین کیا اور انھیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنادیا اور شیطانوں کیلئے ہم نے دوزخ کا جلانے والا عذاب تیار کردیا اللہ تعالی کے اس اسم الکبیر سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس کی بڑائی کو ہمیشہ یاد رکھے یہاں تک کہ اس کے ماسوا کی بڑائی کو بالکل فراموش کر دے علم و عمل کے حصول کے ذریعہ اپنے نفس کو کامل بنانے کی کوشش کرے تاکہ اس کے کمال اور اس کے فیض سے دوسرے مستفید ہوں۔ تواضع و انکساری اختیار کرنے میں مبالغہ کرے اور خدمت مولیٰ کو اپنے اوپر لازم قرار دے کر بے اعتنائی او بے ادبی سے احتراز کرے۔اللہ تعالی کے اس اسم الکبیر کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھنے والا بزرگ مرتبہ اور عالی قدر ہوتا ہے اور اگر حکام و فرمانروا اس اسم پاک پر مداومت کریں تو لوگوں پر ان کو خوف و دبدبہ غالب ہو اور ان کے تمام امور بحسن خوبی انجان پائیں۔* جوشخص اپنے عہدہ سے معزول ہوگیا ہو وہ سات روزے رکھے اور روزانہ ایک ہزار مرتبہ یَاکَبِیْرُ پڑھے وہ انشاء اللہ اپنے عہدہ پر بحال ہوجائے گا اور بزرگی وبرتری نصیب ہوگی ۔ *جو شخص اس اسم مبارک کی کثرت کرے گا اس پر علوم ومعرفت کے دروازے کھل جائیں گے *اگر کسی کھانے کی چیز پر پڑھ کر دم کر کے میاں بیوی کو کھلا یا جائے تو باہم الفت پیدا ہو۔* اس کا بکثر ت ذکر کرنے سے علم ومعرفت کا درواز ہ کھلتا ہے۔

جو کوئی اس اسم کوپڑھے مخلوق کی نظروں میں ممتاز ہواور بلند مرتبہ ہو۔* یہ بادشاہوں اور حکام کا وظیفہ ہے ۔وہ اگر اس کا اہتمام کریں توان کا رعب رہے اور مہمات بخوبی سرانجام پائیں ۔*جواسے نو(۹)دفعہ کسی بیمارپر پڑھ کردم کرے انشاء اللہ بیمار تند رست ہو۔* جو اسے سوبار پڑھے گا مخلوق میں عزیز رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت کبیر کے ذریعے بخش دے اور ہم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment