اسلامک وظائف

اللہ تعالی کے اسم الحکیم کا معنی مفہوم اور فوائد وظائف

hakeem

الحکیم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔الحکیم کے معنی ہیں حکمت والا، پکا فیصلہ کرنے والااور اندازہ فرمانے والا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے (البقرہ: 23)الحکیم سے مراد: دانائی والا اور جو کوئی کام عبث اور بے فائدہ نہ کرے۔ اور نہ ہی کوئی حکم بلا فائدہ جاری کرے۔ اللہ سبحانہ ایسا دانا ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم کر کے پیدا کیا ہے۔

لہذا رحمن کی تخلیق میں کوئی عیب نہیں۔ اور نہ کسی قسم کی کمی ہے۔ اور نہ ہی اس کی شریعت میں کسی قسم کا تضاد اور تناقض ہے۔ اسی لیے بندوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے باہمی جھگڑوں کے فیصلے اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق کروائیں اور اپنے تمام باہمی معاملات میں شریعت الہی کے مطابق ہی فیصلے کیا کریں۔ حکیم کا معنی ہے حکمت و دانائی والا،جو ہر چیز کو بہتر انداز میں سمجھنے والا ہے،اسکا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔ حکمت کا مطلب ہے: ’’ہر چیز کو اس کے مقام ومرتبہ پر رکھنا۔‘‘ اس کی تخلیق میں اور اس کے احکام میں اعلیٰ ترین حکمت پوشیدہ ہے۔ اس نے ہر چیز کو بہترین انداز سے پیدا فرمایا:’’یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟‘‘اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہی فیصل ہے۔ اور حکم بھی صرف اسی کا حق ہے۔‘‘الحکم سے مراد ایسا حاکم ہے جو اپنے بندوں کے درمیان دنیا اور آخرت میں فیصلہ کرے گا۔ دنیا میں وحی کے ذریعے اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے۔ جو وہ اپنے انبیاء پر نازل کرتا ہے۔ اور آخرت میں اپنے بندوں کے دنیاوی اختلاف کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق فیصلے کرے گا۔ پھر وہ اہل باطل اور مشرکوں کے خلاف اہل حق اور اہل توحید کی حمایت کا فیصلہ کرے گا۔ اور ہر مظلوم کے لئے انصاف کے ذریعے ظالم سے اس کا حق دلائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے اقوال ، افعال اور اپنے فیصلوں میں عادل حکمران ہے۔یقیناً اللہ تعالی حکیم ہیں ۔ ۔ ۔فرمایا {کیا اللہ تعالی [سب] حاکموں کا حاکم نہیں ہے۔الحکیم وہ ذات جو ساری چیزوں کو اپنی گرفت میں رکھے، ان کو بخیر و خوبی انجام دے، اور اپنی تقدیر کے فیصلوں کے مطابق ان چیزوں کو ان کے مناسب مقامات پر رکھے۔

الحکیم سارے قوانین اور سارے دستور اس نے اپنی حکمت ہی کی بنیاد پر وضع کئے ہیں۔ اس کی طرف سے وضع کردہ قوانین اپنے مقاصد و مطالب، اور دنیوی و اخروی انجام کے اعتبار سے حکمت پر مبنی ہیں۔الحکیم وہ ذات اپنے فیصلوں اور اپنی تقدیر میں حکمت والی ہے۔ وہ ذات محتاج کے لئے محتاجگی، بیمار کے لئے بیماری، اور قرضدار کے لئے تنگدستی کے فیصلوں میں حکمت والی ہے، اس کی تدبیر میں کوئی خلل ہوتا ہے اور نہ اس کے اقوال و افعال میں کوئی کمی یا لڑکڑاہٹ ہوتی ہے۔ اسی کی ذات ساری حکمتوں کا گہوارہ ہے۔الحکیم وہ ذات جو اپنے بندوں میں حکمت و معرفت، سنجیدگی و شائستگی، اور ہر کام کو اس کے صحیح مقام پر کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ الحکیم۔ ۔ ۔ وہی ذات ہے جس کے لئے اپنی صفتِ خلق اور اپنے اوامر میں مکمل حکمت و دانائی ہے، وہ کسی چیز کو بلا فائدہ پیدا نہیں کرتا ہے، اور نہ کسی بات کا بیکار حکم دیتا ہے۔ اول و آخر اسی کے لئے حکومت و بادشاہت ہے۔اللہ تعالی سارے حاکموں سے زیادہ حکمت والا ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اسی کے حکم سے وقوع پذیر ہوتی ہے، اسی کے ہاتھ میں حلال و حرام قرار دینے کی صلاحیت ہے؛ لہذا حکم وہی ہے جو اس نے نافذ کیا، اور دین وہی ہے جس کا اس نے حکم دیا اور جس سے اس نے منع کیا، اس کے حکم کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ہے، اور نہ کوئی اس کے فیصلے اور تقدیر کو ٹھکرانے والا ہے۔الحکیم وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے ۔ ۔ ۔

وہ اپنے اوامر و نواہی میں اور اپنی طرف سے دی جانے والی خبروں میں مکمل منصف ہے۔یقیناً اللہ تعالی حاکم اور حکیم ہے ۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ اُس نے علوم و حکمتیں لوگوں تک پہنچانے کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار اَنبیاء کرامؑ کو دُنیا میں مبعوث فرمایا۔ سب سے آخر میں اِمام الانبیائ‘ ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ؐکو جو کتاب عطا فرمائی گئی ہے وہ کتاب آخری کتاب ہے اور آپؐ کی اُمّت بھی آخری اُمّت ہے۔پہلے تمام اَنبیاء ؑ خاص اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے جیسا کہ جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے: ’’نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے‘‘۔ جابر بن عبداللہ انصاریؓ ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا: ’’میں سارے اِنسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں‘‘۔ قرآن مجید میں ہے:- ’’اور ہم نے آپؐ کو نہیں بھیجا مگر سارے اِنسانوں کے لئے خوشخبری سنانے والے‘ ڈر نے والے کافی ہیں اَب کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں۔(سبا:۲۸) آپ ؐقیامت تک کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے: آپ ؐنے فرمایا: ’’میں ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر نبوت ختم فرما دی گئی ہے‘‘۔ کوئی کلمہ پڑھنے والا اِس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر سچا مومن نہیں ہو سکتا کہ جس کا اللہ رب ہے‘ حضور ؐاُس کے نبی ؐہیں اور اللہ رب العالمین ہے اور حضور ؐرحمۃ للعالمین ہیں۔سورئہ ابراہیم میں اللہ کا اِرشادِ مبارک ہے:- ’’اور ہم نے ہر رسول اُن کی قوم کی ہی زبان میں بھیجا‘‘۔ جس میں وہ رسول مبعوث ہوتے خواہ اُن کی دعوت عام ہو اور دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں پر بھی اُس کا اِتباع لازم ہو۔ جیسا کہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ؐجن کی رسالت تمام آدمیوں جنوں بلکہ ساری خلق کی طرف ہے اور آپؐ سب کے نبی ؐہیں جیسا کہ قرآنِ پاک میں فرمایا گیا ہے: ’’جو سارے جہان کو ڈر سنانے والے ہیں‘‘۔اللہ تعالی کے اس اسم الحکیم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ کتاب اللہ میں مذکور صفات حمیدہ کو اپنائے اور کمال تعلق اس سے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے تمام امور میں استوار پیدا کرے ۔

اسے چاہئے کہ وہ سفاہت یعنی بے وقوفی سے پرہیز کرے اور کوئی کام بغیر باعث حقانی اور بغیر داعیہ ربانی نہ کرے تاکہ اس کی ذات اسم حکیم کا پر تو ثابت ہو۔ حضرت ذوالنون مصری کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا جب میں نے سنا کہ مغرب کے علاقہ میں ایک شخص اپنے علم و حکمت کی بناء پر بہت مشہور و معروف ہیں تو میں ان کی زیارت کے لئے ان کے پاس پہنچا میں چالیس دن تک ان کے دروازے پر پڑا رہا اور میں یہ دیکھتا تھا کہ وہ نماز کے وقت مسجد میں آتے اور حیران و پریشان پھرنے لگتے اور میری طرف قطعاً کوئی توجہ و التفات نہ فرماتے اس صورت حال سے میں تنگ آ گیا تو ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ جناب ! چالیس دن سے میں یہاں پڑا ہوں لیکن نہ تو آپ میری طرف التفات کرتے ہیں اور نہ مجھ سے کلام کرتے ہیں؟ آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے اور کچھ با حکمت باتیں بتائیے کہ اسے میں یاد رکھو۔ انہوں نے کہا کہ تم اس پر عمل کرو گے یا نہیں؟ میں نے کہا ہاں اگر خدا نے توفیق دی تو ضرور عمل کروں گا۔ پھر انہوں نے حکمت و موعظت سے بھرپور یہ بات مجھ سے کہی کہ دنیا کو دوست نہ رکھو، فقر کو غنیمت جانو، بلا کو نعمت سمجھو، منع یعنی نہ ملنے کو عطا جانو، غیراللہ کے ساتھ نہ انس اختیار کرو اور نہ ان کی صحبت میں اپنے کو مشغول رکھو، خواری کو عزت سمجھو، موت کو حقیقی حیات جانو، طاعت و عبادت کو اپنی عزت کا ذریعہ سمجھو اور توکل کو اپنی معاش قرار دو۔اللہ تعالی کے اس اسم الحکیم کے فوائد و برکات میں سے ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے کسی کام میں پریشانی ہو اور وہ پورا نہ ہو رہا ہو تو اسے چاہئے کہ اس اسم پاک پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرے انشاء اللہ تعالیٰ اس کا کام پورا ہو جائے گا۔

* جوشخص کثرت سے یَاحَکِیْمُ پڑھا کر ے اللہ تعالی اس پر علم وحکمت کے دروازے کھول دیں گے ۔ *جس کا کوئی کام پورا نہ ہوتا ہو تووہ پابندی سے اس اسم مبارک کوپڑھے انشاء اللہ کام پورا ہوجائے گا ۔* جو ظہر کے بعد نوے بار اس اسم کو پڑھے گاتمام مخلوق میں سرخرورہے گا۔ *جو اس کوبہتر(۷۲) بار پڑھا کرے انشاء اللہ اسے کوئی مشکل پیش نہ آئے اور سب حاجتیں برآئیں ۔* جوکوئی اس کا بکثرت وردر کھے گاعلم وحکمت کے چشمے اس کی زبان سے پھوٹیں گے اور وہ لطیف اشارات اور معانی کے اسرار کوبھی سمجھ لے گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی صفت حکیم کے ذریعے حکمت و دانائی عطا فرمائے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment