اسلامک معلومات

اللہ تعالی کو ماننے کے باوجود وہ مشرک کیوں قرار پائے؟

یہ کہنا کہ اللہ تعالی کو فاعل حقیقی مانتے ہوئے کسی کو مدد کے لئے پکارا جائے تو یہ شرک نہیں” تو عرض ھے کہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں شرک کا وجود کبھی رہا ہی نہیں ہے اور قرآن میں “نعوذباللہ” اللہ نے خامخواہ لوگوں کو مشرک کہاہے۔
قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات بتائی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین جو دعوتِ توحید کے مخاطب اول تھے وہ یہ مانتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق اللہ ھے جسکے ہاتھ میں کائنات کی تدبیر اور تصرف ہے لیکن اسکے باوجود قرآن نے انہیں مشرک کہا۔

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی کو ماننے کے باوجود وہ مشرک کیوں قرار پائے؟یہی وہ نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے شرک کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مشرکینِ عرب نے اللہ کے سوا جن ہستیوں کو معبود و دیوتا بنا رکھا تھا وہ انہیں خدا تعالیٰ کی مخلوق, مملوک اور بندہ ہی مانتے تھے لیکن اسکے ساتھ ان کا دعویٰ تھا کہ چونکہ یہ لوگ اپنے اپنے وقتوں میں اللہ کے نیک بندے اور چہیتے تھے, اللہ کے ہاں انہیں خاص مقام حاصل تھا۔ اس بنا پر وہ بھی کچھ اختیارات اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہم انکی عبادت اس لئے نہیں کرتے کہ یہ خدائی اختیارات کے حامل ہیں بلکہ ہم تو انکے ذریعے سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں۔ بطور وسیلہ و سفارش انہیں پکارتے ہیں۔ اور انسے استغاثہ کرتے ہیں۔ خود قرآن میں مشرکین کے یہ اقوال نقل کئے گئے ہیں۔

اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچاسکیں اور نہ نفع پہنچاسکیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں یونس 18 آگاہ ،دین خالص صرف اللہ کے لیے ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے حمایتی بنا رکھے ہیں، کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو خدا سے قریب کردیں۔ زمر 3
صحیح بخاری میں ابنِ عباسؓ کی صراحت موجود ہے کہ قومِ نوح کے وہ پانچ بت ہیں جنکا ذکر قرآن میں موجود ہے۔

صحیح بخاری جلد دوم ص 32 تفسیر سورہ جن بہرحال قرآن و حدیث کی صراحت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مشرکینِ عرب کا شرک بھی یہی تھا کہ انہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو انکی وفات کے بعد اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا , انکے نام کی نذر و نیازیں دیں اور انکے آستانوں پھر سالانہ میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کیا۔ ورنہ فاعل حقیقی وہ اللہ ہی کو مانتے تھے اور جب مشکلات میں گھرتے تو پھر ان کو چھوڑ کر اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے۔

Leave a Comment